وائلڈ لائف فوٹوگرافی: انجیر کےلیے بندر کی کاوش پر ایوارڈ

تصویر کے کاپی رائٹ Tim Laman

کہتے ہیں جو ہمت کرتا ہے وہ کامیاب ہوتا ہے۔ انڈونیشیائی نسل کا ایک بن مانس (اورینگوٹان) اس امید پر ایک بہت اونچے پیڑ پر چڑھنے کی کوشش کر رہا ہے کہ شاید اسے وہاں کچھ انجیریں مل جائیں۔ یہی تصویر اس برس کے وائلڈ لائف فوٹو گرافی کے مقابلے میں اوّل نمبر پر رہی ہے۔

امریکی فوٹو گرافر ٹم لیمن نے انڈونیشیا کے نیشنل پارک گونگ پلانگ کے جنگلوں میں ریموٹ سے چلنے والا کیمرا نصب کر کے یہ تصویر حاصل کی۔

ظاہر ہے کہ کیمرا نصب کرنے کے لیے انھیں خود بھی بلندی پر چڑھنا پڑا اور اس شجاعت کے سبب ان کی تصویر کو اول انعام کا مستحق قرار دیا گيا۔

انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'یہ وہ تصویر ہے جس کے متعلق میں برسوں سے سوچ رہا تھا۔ میں نے اس کے لیے اس بن مانس کا کئی دنوں تک پیچھا کیا اور پھر اسے انجیروں کے لیے درختوں پر چڑھتے پایا۔ پہلی بار تو اس نے انجیریں کھائیں اور پھر چلتا بنا۔ پھر میں نے اوپر چڑھ کر تین کیمرے نصب کیے اور دوسرے روز اس کے آنے کا انتظار کرتا رہا۔ دوبارہ آنے پر میں نے زمین سے کیمرے کلک کیے اور جو تصویریں لیں اس میں یہ سب سے بہتر ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Gideon Knight

جونیئر فوٹو گرافروں میں اس برس کا ایوارڈ برطانیہ کے 16 سالہ گڈیون نائٹ کو اس تصویر کے لیے ملا۔ انھوں نے یہ تصویر لندن کے والینٹائن پارک میں کھینچی تھی، جس میں ایک کوا پیڑ پر بیٹھا ہے اور ماحول چاند کی روشنی سے منور ہے۔

وائلد لائف فوٹو گرافی کی جیوری کے سربراہ لوئس بلیک ویل کا کہنا تھا کہ یہ موضوع نیا بالکل نہیں ہے لیکن پھر بھی اس میں ایک طرح کی تازگی کا احساس ہوتا ہے اور جمالیاتی پہلو بھی اہم ہے۔

ان کا کہنا تھا: 'مجھے نہیں معلوم کہ گڈون اس فن کا مطالعہ کرتے رہے ہیں یا نہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ ان میں کمپوزیشن اور فن کی بلا کی صلاحیت ہے اور اتنی کم عمری میں تو یہ بہت ہی زبردست ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Nayan Khanolkar

یہ تصویر شہری زمرے میں فاتح قرار پائی۔ اس کا نام ' گلی کی بلی' ہے اور انڈیا کے فوٹوگرافر نيئن کھنالوکر نے اسے ممبئی کے مضافات میں سنجے گاندھی نیشنل پارک کے پاس کھینچا تھا۔ رات کے وقت اکثر تیندوے آبادی والے علاقے کی گلیوں میں آ جاتے ہیں جس سے انسانوں کے ساتھ ان کی مڈبھیڑ ہو جاتی ہے۔

اس تصویر کے لیے انھیں مہینوں انتظار کرنا پڑا۔ یہ اس بات کی عکاس ہے کہ کیسے بڑھتے شہر جانوروں کے علاقوں تک پھیل رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Jesús González Ahumada

یہ سپین میں ایک صنعتی علاقے کی تصویر ہے۔ تیل صاف کرنے کے اس کارخانے کی فضا شور و غل سے پر، آلودہ اور مستقل طور پر روشن رہتی ہے، لیکن اگر آپ غور سے دیکھیں تو آپ کو بلندی پر بگلوں کا گھونسلہ نظر آ جائے گا۔ اسی طرح تصویر کے بائیں جانب نچلے حصے میں بھی بگلے دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہ تصویر ہوان ہسوس گنسالس اہوماڈا نے اس وقت لی تھی جب ایک طوفان اس کارخانے کی جانب بڑھ رہا تھا۔


تصویر کے کاپی رائٹ Sam Hobson

اربن وائلڈ لائف فوٹو گرافی میں لومڑی ایک اہم اور دلچسپ موضوع ہے۔ فوٹوگرافر سیم ہابسنز نے یہ تصویر برطانیہ کے علاقے برسٹل میں کھینچی۔ تصویر کے لیے صحیح جگہ کی تلاش میں جہاں ہفتوں لگے وہیں لومڑی کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے بھی کافی تگ و دو کرنا پڑی۔ یہ لومڑی شام کے وقت اکثر ایک دیوار پر بیٹھنا پسند کرتی تھی۔

.

تصویر کے کاپی رائٹ Angel Fitor

'دی ڈائنگ آف لائٹ' کے نام سے یہ تصویر اینجل فٹور نے لی۔ اسے بغیر ہڈی والی ذی حیات کے زمرے میں بہترین تصویر مانا گیا۔ اس میں ایک جیلی فش کو سپین کے جنوبی سمندر میں قدرے کم پانی میں دکھایا گيا ہے۔ اس تصویر کو حاصل کرنے کے لیے فٹور کو تین برس کا وقت لگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Valter Binotto

شمالی اٹلی میں ہیزل کیٹکن نامی پودوں کی یہ تصویر والٹر بنٹو نے کھینچی تھی۔ اسے پودوں کے زمرے میں اول درجے کی تصویر قرار دیا گيا ہے۔ اس میں ہیزل کے پیڑ پر نر اور مادہ دونوں طرح کے پھول موجود ہیں اور انھیں ایک ساتھ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ہر ایک کیٹکن میں اوسطاً 240 نر پھول ہوتے ہیں جبکہ مادہ حصہ ایک چھوٹی سے کلی نما بقچۂ گل (سٹگما) پر مشتمل ہوتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Paul Hilton

پال ہلٹن کی یہ تصویر وائلڈ لائف فوٹو جرنلسٹ کے زمرے میں اول درجے کے انعام کی مستحق قرار پائی۔ اس کا نام دی پینگولن پٹ ہے۔ اس میں تقریباً چار ہزار منجمد پینگولن دکھائے گئے ہیں جو غیر قانونی طور پر سماترا سے چین اور ویت نام کے بازاروں میں فروخت کے لیے سمگل کی جا رہے تھے تاہم حکام نے انھیں پکڑ لیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں