مردوں کے لیے مانع حمل کا ہارمون انجیکشن

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption چونکہ مردوں میں مسلسل مادہ منویہ پیدا ہوتا رہتا ہے اس لیے معمول کے تقریبا ڈیڑھ کروڑ سپرم کاؤنٹ کی سطح کو کم کرنے کے لیے بہت ہی اعلی قسم کے ہارمونز کی ضرورت ہوتی ہے

طبی ماہرین نے ہارمونز پر مشتمل ایک ایسا انجیکشن تیار کیا ہے جو مردوں میں مانع حمل کا ایک موثر طریقہ ثابت ہوسکتا ہے۔

امریکہ کے محقیقین کا کہنا ہے کہ بطور آزمائش جن 270 افراد نے اس کا استعمال کیا اس کے نتائج کے مطابق تقریباً 96 فیصد تک یہ انجیکشن موثر پایا گیا اور ان کی صرف چار ساتھی خواتین کو ہی حمل ٹھہرا۔

اس تحقیق کو اینڈو کرائینو سوسائٹی نے کلینکل انڈوکرائنولوجی اینڈ میٹابولزم نامی جریدے میں شائع کیا ہے۔

اس کے تحت 18 برس سے 45 برس کے درمیان کے ان مردوں کا جائزہ لیا گيا جن کا تعلق کم سے ایک برس تک صرف ایک ہی خاتون سے رہے اور وہ ان کے ساتھی اس میں حصہ لینے کے لیے راضی بھی ہوں۔

اس تجربے کی ابتدا میں ہی ان مردوں کا سپرم کا ؤنٹ یا نطفے کی پیداوار کی تعداد کو پتہ لگایا گيا تاکہ اس بات کو یقینی بنیا جا سکے کہ وہ نارمل ہیں۔

انھیں ہر آٹھ ہفتے میں ہارمونز کے دو انجیکشن دیے گئے اور چھ ماہ تک ان کی نگرانی کی جاتی رہی یہاں تک کہ ان کے سپرم کاؤنٹ دس لاکھ سے بھی کم ہوگیا۔

پھر ان سے اسی انجیکشن پر انحصار کرنے کو کہا گيا اور وہ اسی وقفے کی مناسبت سے اسے لیتے رہے۔ یہ تجربہ ایک برس تک چلتا رہا۔

جب ان لوگوں نے انجیکشن لینا بند کردیا تو اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ آخر کتنی تیزی سے ان کا سپرم کاؤنٹ دوبارہ بحال ہوتا ہے۔

اس تجربے کے ایک برس میں آٹھ افراد ایسے بھی تھے جن کا سپرم کاؤنٹ دوبارہ بحال نہیں ہوا۔

جینیوا میں عالمی ادارہ صحت سے وابستہ ڈاکٹر ماریو فیسٹن نے اس پر تحقیق کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ 'اس مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ مردوں میں ایسے ہارمونل مانع حمل کا طریقہ بھی ممکن ہے جس کی مدد سے غیر ارادی حمل سے چھٹکارا پایا جا سکتا ہے۔'

لیکن اس طریقہ کار کے بعض سائڈ افیکٹس بھی ہیں۔ اس کے استعمال سے بعض افراد کو پھنسیاں ہونے لگیں جبکہ بعض کے مزاج پر بھی مضر اثرات مرتب ہوئے۔

سائنس دان تقریبا گذشتہ دو عشروں سے ہارمونل مانع حمل کے طریقوں کی تلاش میں لگے رہے ہیں۔ اس کے تحت وہ بغیر کسی سائڈ افیکٹ کے مادہ منویہ کو کم کرنے کے طریقہ کار پر غور کرتے رہے ہیں۔

چونکہ مردوں میں مسلسل مادہ منویہ پیدا ہوتا رہتا ہے اس لیے معمول کے تقریباً ڈیڑھ کروڑ سپرم کاؤنٹ کی سطح کو کم کرنے کے لیے بہت ہی اعلی قسم کے ہارمونز کی ضرورت ہوتی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں

بی بی سی سے