پہلا فلو زندگی بھر کے خطرے کو متاثر کرتا ہے

تصویر کے کاپی رائٹ SPRINGER MEDIZIN/SCIENCE PHOTO LIBRARY
Image caption سائنس کے جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں انفلوزیا اے کے 18مختلف وائرس اور ہیمگلوٹین پروٹین کا اس کی سطح پر جائزہ لیا گيا ہے

ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کسی شخص کا فلو یعنی نزلے کی کسی نئی قسم میں مبتلا ہونے کے امکان کے بارے میں جزوی طور پر اس وائرس سے پتا چل سکتا ہے جس سے وہ پہلی بار متاثر ہوا ہو۔

سائنس کے جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں انفلوزیا اے کے 18مختلف وائرس اور ہیمگلوٹین پروٹین کا اس کی سطح پر جائزہ لیا گيا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ صرف دو قسم ہی کی پروٹین ہوتی ہیں اور لوگ صرف اسی سے تحفظ پاتے ہیں جس سے ان کا جسم پہلی بار ملا ہو لیکن دوسری پروٹین سے انھیں ہمیشہ خطرہ لاحق رہتا ہے۔

برطانیہ کے ایک ماہر کا کہنا ہے کہ اس سے وبائی امراض کے مختف مراسلوں کو سمجھنے میں آسانی ہوسکتی ہے۔

ٹسکن میں یونیورسٹی آف‌ اریزونا اور لاس انجلس میں یونیورسٹی آف کلیفورنیا کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ان کی تحقیق سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوسکتی ہے کہ بعض وبائی فلو کیسے کم عمر کے لوگوں میں سخت قسم کی بیماریوں کا موجب ہوتے ہیں اور ان میں زیادہ مہلک ثابت ہوتے ہیں۔

کسی شخص کا دفاعی نظام جس فلو وائرس سے پہلی بار ٹکراتا ہے، یہ اس میں ہیمگلوٹین کو نشانہ بنانے والے مائپنڈوں کو تیار کرتا ہے۔۔۔ یہ ایک ریسپٹر پروٹین ہے جو لالی پاپ کی طرح وائرس کی سطح کے باہر چپکی رہتی ہے۔

اگرچہ انفلوینزیا اے کی 18 قسمیں ہوتی ہیں لیکن ہمگلوٹین کے دو ورژن یا دو ذائقوں والی ہوسکتی ہے۔

اس تحقیقی ٹیم کی قیادت ڈاکٹر مائیکل وربے کر رہے تھے جنھوں نے اس کی دو قسموں کو بلیو(نیلی) اور اورینج (نارنجی) لالی پاپ میں تقسیم کیا ہے۔

ان کے مطابق جو لوگ سنہ 1960 کے اواخر سے پہلے پیدا ہوئے تھے وہ بچپن میں 'بلیو لالی پاپ' کے فلو وائرس ایچ ون اور ایچ ٹو سے متاثر تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ SPRINGER MEDIZIN/SCIENCE PHOTO LIBRARY
Image caption سائنس کے جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں انفلوزیا اے کے 18مختلف وائرس اور ہیمگلوٹین پروٹین کا اس کی سطح پر جائزہ لیا گيا ہے

اور باقی زندگی میں وہ بہ مشکل دوسرے 'بلیو لالی پاپ' فلو ایچ5 این1 برڈ فلو سے متاثر نہیں ہوئے لیکن ان کی موت 'اورینچ' ایچ7 این9 سے ہوئی۔

جبکہ 1960 کے اواخر میں پیدا ہونے والے وہ لوگ جو 'اورینج لالی پاپ' فلو ایچ3 سے متاٹر ہوئے تھے ان پر اس کے برعکس اثر پڑا۔

محقیقین نے ایچ 5 این1 سے متاثر ہونے والے سینکڑوں لوگوں کا جائزہ لیا جو برڈ فلو جیسے وائرس سے متاثر تھے لیکن وبا کی صورت پیدا نہیں ہوئی تھی۔

ڈاکٹر وربے کا کہنا ہے کہ اس کے نتائج سے سنہ 1918 میں سپین میں پھیلنے والی اس وبا کو اچھی طرح سمجھا سکتا ہے جس کے دوران کم عمر کے لوگوں کی ہلاکتیں زیادہ ہوئی تھیں۔

ان کے مطابق 'ان نوجوان لوگوں کی اموات ایچ ون وائرس سے ہوئي تھیں اور کئی عشروں کے بعد ان کے خون کے نمونوں کے تجزیے سے ایسے واضح اشارے ملے ہیں کہ وہ لوگ بچپن میں ایچ3 وائرس سے متاثر ہوئے تھے اور اسی لیے انھیں ایچ ون سے تحفظ حاصل نہیں تھا۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں