2016 میں گرم ترین سال کا عالمی ریکارڈ ٹوٹ سکتا ہے

تصویر کے کاپی رائٹ GATTY IMAGES
Image caption اس سال درجہ حرارت میں اضافے کے سبب کئی مقامات پر قحط کا سامنا رہا

اس سال کے نو ماہ کے اعداد و شمار کے پیشِ نظر سائنسدانوں کو نوے فیصد یقین ہے کہ 2016 گرم ترین سال کا عالمی ریکارڈ توڑے گا۔

جنوری سے ستمبر کے درمیان درجہ حرارت ایک عشاریہ دو سیلسیس سے زیادہ رہا ہے۔

ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن ( ڈبلیو ایم او) کا کہنا ہے کہ یہ درجہ حرارت اگلے چند ماہ میں بھی زیادہ رہے گا۔

موسم کی غیر معمولی تبدیلیوں کے اثرات کے علاوہ سب سے اہم عنصر کاربن ڈائی آکسائڈ یا او ٹو گیسوں کا اخراج ہے۔

ابھی یہ سال ختم ہونے میں دو ماہ باقی ہیں جبکہ، اکتوبر میں اعداد و شمار کے ابتدائی تجزیے اشارہ کرتے ہیں کہ یہ سال 2015 کا ریکارڈ توڑنے کی جانب گامزن ہے جس نے 2014 میں طے شدہ ریکارڈ توڑ دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ WMO
Image caption درجہ حرارت اگلے چند ماہ میں بھی زیادہ رہنے کا امکان ہے

ڈبلیو ایم او کے سیکریٹری جنرل پٹیری تالس کا کہنا ہے کہ ایک نئے سال کے ساتھ ایک نیا ریکارڈ۔

مسٹر تالس کا کہنا ہے کہ روس کے قطب شمالی والے کئی علاقوں میں درجہ حرارت اوسط سے چھ سے سات ڈگری زیادہ تھا۔ روس ، الاسکا اور شمالی مغربی کینڈا کے قطب شمالی علاقوں میں درجہ حرارت اوسط سے کم از کم تین ڈگری زیادہ رہا۔

رپورٹ سے یہ حقائق بھی سامنے آیے ہیں کہ ماحولیات میں تبدیلی کے عناصر بھی ریکارڈ توڑ رہے ہیں اورمارچ 2017 سے فضا میں گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج کا گراف مسلسل اورپر جا رہا ہے۔

بحیرہ آرکٹک کی برف خاصی تیزی کے ساتھ پگھل رہی ہے جبکہ اس سال گرین لینڈ کی برف کی چادریں بھی پگھل رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ماحولیات میں تبدیلوں کے سبب شدید موسم سے متعلق واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے اور صدیوں میں آنے والے سیلاب اور شدید گرمی کا موسم اب معمول بنتے جا رہے ہیں اور سطح سمند بھی بلند ہو رہی ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ماحولیات کی تبدیلی کے اثرات اب پوری شدت سے سامنے آ رہے ہیں۔