پیرس معاہدہ: ’امریکہ اپنے وعدوں سے پھر نہیں سکتا‘

کیری تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکہ کے سیکریٹری خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ امریکی شہریوں کی بھاری اکثریت امریکہ کے موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے کیے گئے اقدامات کی حمایت کرتی ہے۔

مراکش میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جان کیری کا کہنا تھا کہ ان کا یقین ہے کہ امریکہ اپنے وعدوں سے پھر نہیں سکتا۔

نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ اگر وہ صدر بن گئے تو پیرس میں طے پانے والے موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے معاہدے سے امریکہ کو خارج کر دیں گے۔

جان کیری کا کہنا تھا کہ پالیسی کے بجائے مارکیٹ کی قوتیں کم کاربن والی دنیا کی جانب منتقلی کو یقینی بنا سکتی ہیں۔

انھوں نے چین کے ساتھ معاہدے میں اہم کردار ادا کیا تھا کہ کیسے دو بڑی معیشتیں کاربن کا اخراج کم کرسکتی ہیں۔ وہ گذشتہ سال پیرس میں ہونے والے موسمیاتی تبدیلی کے معاہدے کے معماروں میں سے ہیں۔

بطور سیکریٹری خارجہ کسی موسمیاتی کانفرنس میں آخری بار خطاب کرتے ہوئے جان کیری نے ایک موسیماتی تبدیلیوں سے نبرد آزما ہونے کی جانے والی عالمی کوششوں کے دفاع میں جذباتی تقریر کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’امریکیوں نے اس سیارے کے گرم ہونے کی حقیقت پر یقین کیا تھا۔ اور وہ پیرس معاہدے میں ملک کے کاربن کم کرنے کے وعدوں کے پیچھے کھڑے ہوں گے۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'کسی کو بھی۔۔۔ کسی کو بھی امریکہ کی بھاری اکثریت پر شک نہیں کرنا چاہیے، جو جانتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی رونما ہو رہی ہے اور جو پیرس میں کیے گئے وعدوں کو نبھانے کے لیے پرعزم ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

جان کیری نے ایک تحقیق کا حوالہ دیا جس کے مطابق سنہ 2015 میں توانائی کے متبادل ذرائع پر 350 ارب ڈالر سرمایہ کاری گئی، جو سنہ 2014 کے مقابلے میں چھ گنا زیادہ تھی۔ امریکہ میں ہوا سے پیدا کی گئی بجلی میں تین گنا اضافہ ہوا ہے جبکہ شمسی توانائی میں 30 گنا اضافہ دیکھا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وائٹ ہاؤس میں تبدیلی سے یہ سرمایہ کاریاں نہیں روکی جاسکتیں۔

جان کیری نے اس موقع پر ڈونلڈ ٹرمپ کا براہ راست نام نہیں لیا اور نہ ہی نومنتخب صدر کے پیرس معاہدے کے حوالے سے بیان پر کوئی بلاواسطہ تبصرہ کیا۔ لیکن انھوں نے کہا کہ کوئلے پر سرمایہ کاری کا قدم اس سیارے کے لیے تباہ کن ہوسکتی ہے۔

خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کوئلے سے توانائی پیدا کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں