ماتم گسار جنگل

A man's face is projected on to the Brazilian rainforest canopy تصویر کے کاپی رائٹ Philippe Echaroux/Rex Features

فوٹوگرافر اور سٹریٹ آرٹسٹ فلپ ایکاروکس نے ایمزان کے جنگلوں کی مسلسل تباہی کی جانب توجہ مرکوز کروانے کی غرض سے چند بےحد طاقتور تصاویر تیار کی ہیں۔

ذرائع کے مطابق برازیل کی حکومت کی کوششوں کے باوجود درختوں کی کٹائی بدستور جاری ہے۔

مغربی برازیل میں بسنے والے آبائی قبیلے پیٹر سوروئی سے مل کر ایکاروکس نے یہ تصاویر تیار کی ہیں۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے مقامی قبائلیوں کی تصاویر جنگل کی تصاویر سے آمیز کی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Philippe Echaroux/Rex Features
Image caption قبیلے کے سردار المیر نارایاموگا کی تصویر جسے بارانی جنگل پر منطبق کیا گیا

المیر نارایاموگا مقامی قبیلے کے سردار ہیں۔ ان کے قبیلے کی کل آبادی 1300 نفوس پر مشتمل ہے۔ انھیں حکومت نے درخت اگانے کی ذمہ داری سونپی ہے۔

وہ کہتے ہیں: ’اس سال کے آغاز سے اب تک اس جنگل پر کٹائی والوں اور سونے اور ہیروں کے کان کنوں کی یلغار ہے۔ ہر روز لکڑیوں سے بھرے ہوئے 300 ٹرک ہمارے علاقے سے جاتے ہیں۔‘

اس کام میں اضافہ ہو رہا ہے باوجود اس کے کہ برازیل کا آئین کسی قبیلے کی زمین کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔

غیرقانونی ٹمبر مافیا بھاری مشینری استعمال کر رہی ہے۔ سوروئی کے علاقے کے تین دریاؤں میں پارہ اور سائنائیڈ پائے گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Philippe Echaroux/Rex Features
Image caption دنیا بھر میں جنگلات کی کٹائی کے بارے میں آگاہی کے باوجود 2000 کے بعد سے بڑے پیمانے پر جنگل تباہ ہو چکے ہیں۔ گوگل اور یونیورسٹی آف میری لینڈ کے اعداد و شمار کے مطابق 2000 سے 2012 تک 23 کروڑ ہیکٹر جنگل ضائع ہو چکے ہیں۔
تصویر کے کاپی رائٹ Philippe Echaroux/Rex Features
Image caption ماحولیاتی کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس کی مثال یوں ہے جیسے ہر منٹ میں فٹبال کے 50 میدانوں کے برابر جنگل کاٹے جا رہے ہیں۔
تصویر کے کاپی رائٹ Philippe Echaroux/Rex Features
Image caption تاہم اسی دوران دنیا بھر میں آٹھ لاکھ مربع کلومیٹر کے رقبے پر نئے جنگل اگائے گئے۔
تصویر کے کاپی رائٹ Philippe Echaroux/Rex Features
Image caption گلوبل فاریسٹ واچ نامی ادارہ دنیا بھر میں جنگلوں کے نقصان پر نظر رکھتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ برازیل نے اس ضمن میں خاصی پیش رفت کی ہے، تاہم اب بھی وہاں کسی بھی استوائی ملک کے مقابلے پر زیادہ جنگل ضائع ہو رہے ہیں۔
تصویر کے کاپی رائٹ Philippe Echaroux/Rex Features
Image caption برازیل کا ماحولیاتی ادارہ لاکھوں مربع میل پر پھیلے جنگلات کی نگرانی کرتا ہے، جو محدود وسائل کے پیش نظر تقریباً ناممکن کام ہے۔
تصویر کے کاپی رائٹ Philippe Echaroux/Rex Features
Image caption امیزان میں اب بھی بہت سے چھوٹے چھوٹے کیمپ ہیں جو کٹائی میں ملوث ہیں۔ کلھاڑیوں اور مشینی آروں سے لیس لوگ دن رات بیش قیمت جنگل کاٹنے میں مصروف ہیں۔ یہ مشکل مگر بہت منافع بخش کاروبار ہے۔