کریونک پریزرویشن ہے کیا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Science Photo Library
Image caption جسم کو منجمد کرنے کا عمل موت کے فوراً بعد شروع کیا جانا ضروری ہے

برطانیہ میں ایک لاعلاج بیماری میں مبتلا 14 سالہ لڑکی نے اپنی موت سے قبل ایک قانونی جنگ جیت لی۔ اکتوبر میں مر جانے والی اس لڑکی کی لاش کو امریکہ لے جایا گیا ہے کہ اسے منجمد کیا جا سکے۔ لیکن لاش کو منجمد کرنے کا عمل کیا ہے اور کیا کبھی ایسا ممکن ہو پائے گا کہ مرنے والے دوبارہ زندہ ہو سکیں۔

* نوجوان لڑکی نے لاش کو محفوظ رکھنے کا مقدمہ جیت لیا

یہ عمل ہے کیا؟

جسم کو منجمد کرنے کا عمل موت کے فوراً بعد شروع کیا جانا ضروری ہے تاکہ کچھ اہم خلیوں خصوصاً دماغ کے خلیوں کو آکسیجن کی کمی کی وجہ سے خراب ہونے سے بچایا جا سکے۔

اس مقصد کے لیے لاش کو ٹھنڈے پانی کا غسل کروایا جاتا ہے تاکہ اس کا درجہ حرارت کم کیا جا سکے۔ مکمل طور پر منجمد کرنے کا عمل بعد میں شروع ہوتا ہے۔

اس کے بعد جسم سے خون نکال کر اس میں ’کریو پروٹیکٹنٹ فلوئڈ‘ نامی کیمیائی مادے بھرے جاتے ہیں۔ یہ کیمیکل اس طرز پر بنائے گئے ہیں کہ یہ جسمانی اعضا اور بافتوں (ٹشوز) میں برف جمنے نہیں دیتے۔

یہ بہت ضروری ہے کیونکہ جب برف پھیلتی ہے تو یہ خلیوں کی دیواروں کو تباہ کر دیتی ہے۔

اس عمل کے بعد جسم کو مائع نائٹروجن سے ٹھنڈا کرکے اس کا درجۂ حرارت منفی 196 ڈگری سینٹی گریڈ تک لایا جاتا ہے اور اسے محفوظ کر دیا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption کریو پروٹیکٹنٹ فارم کا ایک منظر

یہ ہوتا کہاں ہے؟

دنیا میں صرف دو ہی ممالک ہیں جہاں کریوجینک پریزرویشن کی سہولت موجود ہے جن میں سے ایک روس اور دوسرا امریکہ ہے۔

امریکہ میں 150 افراد نے اپنے جسم مائع نائٹروجن میں محفوظ کروائے ہیں جبکہ 80 افراد نے اپنے دماغ سمیت سر محفوظ کروائے۔

مکمل جسم کو منجمد کرنے پر ایک لاکھ 60 ہزار ڈالر لاگت آتی ہے جبکہ محض سر کو منجمد کروانے میں 64 ہزار ڈالر کا خرچ آتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption جسم کو مائع نائٹروجن سے ٹھنڈا کرکے اس کا درجۂ حرارت منفی 196 ڈگری سینٹی گریڈ تک لایا جاتا ہے

کیا یہ کار آمد ہے؟

کریونک پریزرویشن کے لیے پرجوش لوگوں کا کہنا ہے کہ تین وجوہات امید افزا ہیں۔ پہلی یہ کہ اس کے باوجود کہ کسی بھی شخص کی لاش کو منجمد کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ کوئی ادارہ اسے قانونی طور پر مردہ قرار دے اس سارے عرصے میں دماغ تک آکسیجن کی فراہمی کو یقینی بنا کر اس کو نقصان سے بچایا جا سکتا ہے۔

ایک اور بڑی کامیابی 2015 میں ملی جب کریو پروٹیکٹنٹ مواد کی مدد سے ایک خرگوش کے دماغ کو کامیابی سے محفوظ بنایا گیا اور اس کی وجہ سے اس کے خلیے بھی محفوظ اور جڑے ہوئے رہے۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ اس قدر کم درجۂ حرارت پر جسم کو منجمد کرنے کی وجہ سے جسم میں خلیوں اور بافتوں میں ہونے والا کیمیائی عمل سست ہو جاتا ہے۔ اس سے جسم کو پہنچنے والے نقصان کا امکان کم ہو جاتا ہے۔

امید ہے جسم کو ٹھنڈا کرنے کے دوران ہونے والے نقصان یا کسی بھی قسم کی بیماری یا بڑھتی عمر کے عوامل کو مستقبل کی نینو ٹیکنالوجی کی مدد سے ٹھیک کیا جا سکے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Science Photo Library
Image caption مکمل جسم کو منجمد کرنے پر 1ایک لاکھ 60 ہزار ڈالر لاگت آتی ہے جبکہ محض سر کو منجمد کروانے میں 64 ہزار ڈالر کا خرچ ہوتے ہیں

مسائل کیا ہیں؟

اہم مشکلات خلیوں کی سطح پر ہیں۔ کریوجینک عمل سے انھیں نقصان پہنچتا ہے۔

کینیڈا میں کارلیٹن یونیورسٹی کے بائیو کیمسٹ پروفیسر کین سٹورے کا کہنا ہے کہ ’انسانی خلیے میں 50 ہزار پروٹین اور لاکھوں فیٹ مالیکیول ہوتے ہیں جو مل کر جھلیاں بناتے ہیں۔ کریوپریزرویشن اس سارے عمل میں رکاوٹ بنتا ہے۔ ‘

دماغ کے کام کرنے کے طریقۂ کار سے متعلق مزید آگاہی بھی یہ جاننے کے لیے بہت ضروری ہے کہ کس چیز کی مرمت ہونے کے ضرورت ہے۔

سٹاک ہوم کے نیورو سانٹیسٹ ڈاکٹر مارٹن اینوار کا کہنا ہے کہ ’دماغ کے باریک نیٹ ورک کے خواص غیر متوازی ہیں۔‘

’ان میں سے بعض ناگزیر ہیں اور کئی کے کھو جانے کا خطرہ ہے اور ہم نہیں جانتے کہ کیا ختم ہو جائے گا۔‘

اسی بارے میں