خلائی جہاز کیسینی زحل سے ٹکرانے کے لیے تیار

زحل تصویر کے کاپی رائٹ CASSINI IMAGING TEAM/SSI/JPL/ESA/NASA

خلائی جہاز کیسینی زحل کا مشن ختم کرنے کے قریب ہے۔

کیسینی گذشتہ 12 برس سے حلقہ دار سیارے زحل اور اس کے چاندوں کے گرد نسبتاً محفوظ فاصلے سے گردش کر رہا ہے۔ لیکن اب یہ زحل کے ساتھ خودکش طریقے سے ٹکرانے جا رہا ہے۔

اگلے نو ماہ میں خلائی جہاز غوطہ کھا کر سیارے کے حلقوں کے نہایت قریب پہنچ جائے گا۔ اس کے بعد یہ زحل کے ساتھ ٹکرا کر فنا ہو جائے گا۔

اس خودکش مشن کی وجہ یہ ہے کہ کیسینی کا ایندھن ختم ہو رہا ہے۔ سائنس دانوں کی کوشش ہے کہ بلاایندھن کیسینی مستقبل میں زحل کے کسی چاند، خاص طور پر اینسیلیڈس اور ٹائٹن سے نہ ٹکرا جائے۔

سائنس دانوں کو ایک موہوم امید ہے کہ ان چاندوں پر زندگی موجود ہو سکتی ہے۔ اگر کیسینی ان میں سے کسی چاند سے ٹکرا گیا تو امکان ہے کہ زمینی جراثیم وہاں پر موجود کسی قسم کی زندگی کو متاثر نہ کر سکیں۔

اگلے سال 15 ستمبر کو کیسینی کے زحل سے ٹکرانے سے یہ خدشہ بھی ختم ہو جائے گا۔

بدھ کو کیسینی زحل کے قطبِ شمالی کے اوپر آ جائے گا اور اس کے بعد وہ زحل کی سب سے بیرونی حلقے ایف کے بالکل قریب پہنچ جائے گا۔

اگلے برس 22 اپریل تک کیسینی سلسلہ وار غوطے لگا کر اندرونی حلقے کو مس کرے گا۔ اس موقعے پر وہ زحل کے بادلوں کے صرف دو ہزار کلومیٹر فاصلے پر ہو گا۔

اس دوران کیسینی زحل کے خوشنما حلقوں اور شاندار چاندوں کی نزدیک سے زبردست تصاویر بھیجے گا اور اس سے زحل کے بارے میں مزید معلومات بھی حاصل ہوں گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ NASA
Image caption کیسنی اگلے برس غوطہ لگا کر زحل کے بادلوں سے ٹکرا جائے گا

یونیورسٹی کالج لندن کی سائنس دان پروفیسر مشیل ڈوئرٹی کہتی ہیں: 'زحل کے بارے میں ایک طویل مدتی سوال یہ ہے کہ ہم نہیں جانتے اس کا ایک دن ٹھیک ٹھیک کتنا لمبا ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ یہ 10.7 گھنٹے ہے، لیکن اس میں 0.2 گھنٹے غلطی کا امکان موجود ہے۔‘

کیسینی ناسا، یورپی خلائی ادارے اور اطالوی خلائی ادارے کی مشترکہ کاوش ہے۔

اسے 1997 میں زحل کی جانب بھیجا گیا تھا اور یہ جولائی 2004 میں وہاں پہنچا تھا۔

اب تک اس نے جو اہم دریافتیں کی ہیں ان میں سے درج ذیل اہم ہیں:

  • اینسیلیڈس ایک زیرِ سطح سمندر سے خلا میں پانی پھینک رہا ہے۔
  • ٹائٹن زمین سے ملتا جلتا ہے جہاں دریا ہیں اور بارشیں ہوتی ہیں۔ بس فرق یہ ہے کہ وہاں پانی کی بجائے مائع میتھین پائی جاتی ہے۔

اسی بارے میں