صحت میں بہتری کے لیے شراب مہنگی کرنے پر غور

تصویر کے کاپی رائٹ Science Photo Library
Image caption انگلینڈ میں زیادہ تر نوجوان الکوحل کا استعمال نہیں کرتے ہیں

پبلک ہیلتھ انگلینڈ کے ایک جائزے کے مطابق الکوحل کی فی یونٹ کم سے کم قیمت متعارف کروانے سے شراب نوشوں کی صحت میں بہتری آ سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2008 سے الکوحل کے استعمال میں کمی آئی ہے، لیکن غریب علاقوں میں رہنے والے لوگ پھر بھی الکوحل سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے باعث ہلاک یا متاثر ہوتے ہیں۔

2013 میں برطانیہ کی مخلوط حکومت نے الکوحل کی کم سے کم قیمت کے تعین کرنے کو مسترد کر دیا تھا۔

وزیر صحت نے کہا ہے کہ وہ شواہد کا بغور جائزہ لیں گے۔

پبلک ہیلتھ کے جائزے کے مطابق الکوحل آسانی سے ہر کسی کو دستیاب ہے اور آج اس کا 40 سال قبل کے مقابلے میں زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔ الکوحل انگلینڈ میں 15 سے 49 سال کی عمر والے افراد کے لیے جلد مرنے، صحت کی خرابی اور معذوری جیسے خطرات کا باعث ہے۔

انگلینڈ میں زیادہ تر نوجوان الکوحل کا استعمال نہیں کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود ایک کروڑ افراد ایسے ہیں جو الکوحل کا استعمال اس حد تک کرتے ہیں جہاں ان کی صحت کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2015 میں 167000 سال کام کرنے کا وقت ضائع ہو گیا کیوں کہ زیادہ تر جوان اور ادھیڑ عمر کے لوگ الکوحل سے متاثر ہونے کی وجہ سے کام نہیں کر سکے۔

اس رپورٹ میں یہ نتیجہ پیش کیا گیا ہے کہ الکوحل کو لوگوں پہنچ سے دور کرنے اور اس کے خطرات سے محفوظ رہنے کا ایک یہی طریقہ ہے کہ اس کی کم سے کم قیمت کا تعین کر دیا جائے۔

تاہم تین سال قبل مخلوط حکومت نے الکوحل کی کم از کم قیمت پانچ پینی کو مسترد کر دیا تھا۔

2014 میں انگلینڈ اور ویلز میں الکوحل کی قیمت خرید سے کم پر فروخت پر پابندی لگا دی گئی تھی۔

دوسری جانب سکاٹ لینڈ میں الکوحل کی کم از کم قیمت کے حوالے سے 2012 میں ایک قانون منظور کر لیا گیا تھا لیکن قانونی چیلنجوں کے باعث اب تک اس عمل نہیں کیا جا سکا۔

اسی بارے میں