شدت پسندی کو روکنے کے لیے فیس بک، مائیکروسافٹ، ٹوئٹر اور یو ٹیوب کا اتحاد

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption منصوبے کے تحت یہ ڈیٹا بیس دیگر کمپنیوں کو بھی فراہم کیا جائے گا جو اپنی ویب سائٹوں پر ایسے مواد کو روکنا چاہتی ہیں

دنیا کی چار بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں فیس بک، مائیکروسافٹ، ٹوئٹر اور یو ٹیوب اپنی ویب سائٹوں کی مدد سے انٹرنیٹ پر شدت پسندی سے متعلق تصاویر اور ویڈیوز کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے شراکت کر رہی ہیں۔

چاروں کمپنیوں کا منصوبہ ہے کہ ایسے مواد کے ’ڈیجیٹل سگنیچر‘ کی ڈیٹا بیس بنائی جائے۔

اس ڈیٹا بیس کی مدد سے شدت پسند یا اشتعال انگیز مواد کو اپ لوڈ کرنے سے روکا جا سکے گا۔

٭ جعلی خبریں کیسے پکڑی جائیں؟

منصوبے کے تحت یہ ڈیٹا بیس دیگر کمپنیوں کو بھی فراہم کیا جائے گا جو اپنی ویب سائٹوں پر ایسے مواد کی اشاعت روکنا چاہتی ہیں۔

ٹوئٹر کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ ’ایسے مواد کے لیے ہماری سروسز میں کوئی جگہ نہیں ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ اس کوشش میں صرف سب سے شدید اور بھیانک تصاویر اور ویڈیوز کی اشاعت روکی جائے گی۔

انھوں نے بتایا کہ اس ڈیٹا بیس میں شدت پسندی سے منسلک تصاویر اور ویڈیوز کی معلومات اکٹھی کی جائیں گی جن سے ہر فائل کی شناخت ہو سکے گی۔

ٹوئٹر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی شخص کو شکایت ہو کہ ان کی فائلز کو غلط طور پر روکا گیا ہے تو وہ اس کے خلاف اپیل کر سکیں گے۔

ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ اس نظام کے تحت چاروں کمپنیوں کے درمیان ہم آہنگی کی وجہ سے ان پالیسیوں میں بھی بہتری آئے گی جن کے تحت اس بات کا تعین ہوتا ہے کہ کون سا مواد نشر ہونے کے قابل ہے یا نہیں۔

ادھر یورپی کمیشن نے بھی امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں سے کہا ہے کہ وہ نفرت انگیز مواد کے خلاف کارروائیاں تیز کریں۔

یورپی یونین کی کمشنر برائے انصاف ویرا جورووا نے کہا ہے کہ کمپنیاں چھ ماہ قبل کیے گئے وعدے پر پورا نہیں اتریں جس میں انھوں نے کہا تھا کہ وہ نفرت انگیز مواد کی نشاندہی کے 24 گھنٹوں میں اس کے خلاف کارروائی کریں گی۔

ان کا کہنا ہے کہ برسلز کو ان اقدامات کو یقینی بنانے کے لیے قانون سازی کرنی چاہیے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں