جاسوس مصنوعی سیارے سے ہمالیہ کی برف پگھلنے کا انکشاف

تصویر کے کاپی رائٹ US GOVERNMENT
Image caption یہ تصویر امریکی جاسوسی کے پروگرام ہیگساگون کے دوران لی گئی تھی

سائنسدانوں نے خطے میں امریکی نگرانی کے پروگرام کے دوران حاصل شدہ تصاویر کا موازنہ سیٹلائٹ یا مصنوعی سیاروں کے ذریعے حاصل ہونے والی تازہ معلومات سے کیا تاکہ وہاں جمی برف یا گلیشیئر کے پگھنے کا پتا چلایا جا سکے۔

ان کا خیال ہے کہ اب غیرمخفی کی جانے والی تصاویر کی مدد سے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ دور دراز کے علاقوں میں کیا تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔

یہ تحقیق امریکی شہر سان فرانسِسکو میں امریکن جیوفیزیکل یونین کے موسمِ خزاں کے اجلاس میں پیش کی گئی ہے۔

نیو یارک میں کولمبیا یونیورسیٹی کے جاش مارر نے کہا کہ ’یہ تصاویر اب زیادہ سے زیادہ استعمال میں آئیں گی۔‘

امریکا کے جس جاسوس پروگرام کے دوران یہ تصاویر حاصل کی گئی تھیں اس کا خفیہ نام ہیگساگون تھا۔

ستّر اور اسّی کی دہائیوں میں امریکا نے خفیہ طور پر نگراں مصنوعی سیارے خلا میں بھیجے تھے تاکہ اپنی دلچسپی کے حامل علاقوں کی تصویر کشی کر سکیں۔

اس وقت ان تصویروں کے لیے روایتی فلم رولز سے کا لیا گیا تھا جنھیں مصنوعی سیارے پھینک دیتے تھے اور نیچے سے گزرنے والے فوجی طیارے انہیں ہوا میں سے اچک لیتے تھے۔

ان تصاویر کو 2011 میں خفیہ دستاویزات کے زمرے سے خارج کر دیا گیا تھا اور اب امریکی جیولاجیکل سروے یا یو ایس جی ایس کے سائنسداں انہیں تحقیق کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

ان میں ہمالیہ کے خطے کی تصاویر بھی شامل ہیں۔ اس علاقے کے بارے میں ماضی میں زیادہ معلومات دستیاب نہیں تھیں۔ خطے میں تبدیلیوں کا پتا لگانے کے لیے ان تصاویر کا موازنہ امریکی اور جاپانی خلائی تحقیق کے اداروں کی لی گئی حالیہ تصاویر سے کیا گیا۔

جاش مارر کا کہنا ہے کہ ’ہم خطے میں موجود گلیشیئر یا برفانی پہاڑوں کے پگھلنے کی مقدار اور رفتار معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ماضی کے مقابلے میں وہاں جمی برف کی مقدار کم ہوئی ہے۔

مارر کے بقول سلسلۂ کوہِ ہمالیہ میں برف کی سطح میں ہر سال تقریباً پچیس سینٹی میٹر کمی واقع ہو رہی ہے۔ ’یہ تعجب کی بات نہیں ہے مگر یہ بات دلچسپی کا باعث ضرور ہے کہ اس عرصے میں کتنی برف پگھل چکی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس کا اثر پانی کے بہاؤ پر رہنے والوں لوگوں کے پانی کے وسائل پر پڑے گا۔

سائنسدانوں کے بقول گلیشیئرز پگھل کر جیسے جیسے سکڑ رہے ہیں، فی الحال تو ندیوں اور دریاؤں میں پانی میں اضافہ ہوگا مگر اگلے 100 برس میں پانی کی مقدار بے کم ہوجائے گی۔

اسی بارے میں