یاہو پر سائبر حملے سے ایک ارب صارفین متاثر

یاہو تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

انٹرنیٹ کمپنی یاہو کا کہنا ہے کہ سنہ 2013 میں ہونے والی ایک ہیکنگ سے اس کے ایک ارب سے زائد صارفین کے اکاؤنٹس متاثر ہوئے۔

انٹرنیٹ کی مقبول کمپنی یاہو کے مطابق یہ سائبر حملہ 2014 میں ہونے والی دخل اندازی کے واقعے سے الگ ہے جس کے بارے میں رواں برس ستمبر میں بتایا گیا تھا جبکہ اس سائبر حملے کے نتیجے میں 50 کروڑ صارفین کے اکاؤنٹس متاثر ہوئے۔

یاہو کا کہنا ہے کہ سائبر حملے کے نتیجے میں صارفین کے نام، فون نمبرز، پاس ورڈز اور ای میل ایڈیسز متاثر ہوئے لیکن بینک اور ادائیگیوں کا ڈیٹا متاثر نہیں ہوا۔

یاہو کا کہنا ہے کہ اس واقعے پر وہ پولیس اور حکام کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

یاہو کے مطابق' ان کے خیال میں ایک تیسرے فریق نے اگست 2013 میں ایک ارب سے زائد صارفین سے منسلک مواد کو چوری کر لیا۔‘

'یہ حملہ 22 ستمبر 2016 کو کمپنی کی جانب سے افشا کیے جانے والے دخل اندازی کے واقعہ سے الگ ہے۔'

یاہو کے مطابق تین برس پرانی ہیکنگ کو 2014 میں ہونے والے سائبر حملے کی حکام اور سکیورٹی ماہرین کی جانب سے جاری تحقیقات کی وجہ سے سامنے نہیں لایا گیا۔

یاہو نے صارفین پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے پاس ورڈز اور سکیورٹی سوالات کو تبدیل کر لیں۔

کیلی فورنیا میں قائم یاہو کمپنی کے اس وقت ایک ارب سے زائد صارفین ہیں تاہم کئی صارفین کے ایک سے زیادہ اکاؤنٹس ہیں۔اس کے علاوہ کئی ایسے اکاونٹس ہیں جو بہت کم استعمال ہوتے ہیں یا استعمال میں نہیں ہیں۔

سائبر سکیورٹی کے ماہر ٹونی ہنٹ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ'یہ اب تک دیکھا جانے والا سب سے بڑا سائبر حملہ ہے۔ حقیقت میں چند ماہ پہلے 50 کروڑ صارفین کے بارے میں بتایا گیا اور اب یہ تعداد غیر معمولی طور پر دگنی ہو گئی ہے۔

ٹونی ہنٹ کے مطابق یاہو کو خریدنے والی امریکی ٹیلی کام کمپنی ویرائزون نے مبینہ طور پر یاہو کو خریدنے کے لیے اپنی پیشکش کو 20 فیصد یعنی ایک ارب ڈالر تک کم کر دیا ہے۔ اس سے پہلے ویرائزون نے یاہو کو خریدنے کے لیے 4.8 ارب ڈالر کی پیشکش کی تھی۔

ماہرین کے مطابق ایک زمانے میں انٹرنیٹ کے کاروبار سے منسلک بڑی کمپنیوں میں سے ایک شمار ہونے والی کمپنی کے لیے حالیہ سائبر حملے مزید شرمندگی کا ہیں۔

اپنے عروج کے زمانے میں یاہو کمپنی کی مالیت کا اندازہ 125 ارب ڈالر تھا لیکن وقت کے ساتھ نہ صرف اپنی حریف کمپنیوں گوگل اور فیس بک کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہی جبکہ متعدد اقدامات بھی اس گراؤٹ کو روکنے میں ناکام رہے۔

احتیاطی تدابیر

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

یاہو کے ایک ارب کے قریب اکاؤنٹس ہیک ہونے پر کیا ہمیں پریشان ہونے کی ضرورت ہے۔

اور ہمیں مستقبل میں ہیکنگ کے ایسے حملوں سے محفوظ رہنے کے لیے کیا اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

انٹرنیٹ سکیورٹی کے ماہر گراہم کلولے نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس میں ڈرنے کی ضرورت نہیں لیکن ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس میں پریشانی کی کافی وجوہات ہیں۔

جو لوگ اس سائبر حملے کا شکار بنے ہوں گئے وہ ممکنہ طور پر اس سے متاثر نہیں ہوئے ہوں گے کیونکہ یہ حملہ تین برس قبل پیش آیا تھا اور اس کے نتیجے میں کسی کی جانب سے ذاتی مواد کی بنیاد پر ہراساں یا نقصان پہنچنے کے بارے میں اطلاع نہیں موصول ہوئی۔

گراہم کلولے کے مطابق صارفین کو صرف اپنی ای میلز کے پاس ورڈز تبدیل نہیں کرنے چاہیں۔

انھوں نے کہا ہے کہ پاس ورڈز کو یاہو کے علاوہ دیگر دیگر اکاؤنٹس میں بھی تبدیل کرنے کی ضرورت ہو گی اور ہر اکاؤنٹ کا پاس ورڈ مختلف ہونا چاہیے۔

اس کے علاوہ پاس ورڈ دینے کے لیے پوچھے گئے اس سوال کو بھی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے جس میں والدہ کا نام پوچھا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ پاس ورڈ کی تصدیق کا دہرا نظام ہونا چاہیے جس میں لاگ ان کرنے کے بعد صارف کو اس کے موبائل فون پر پیغام کے ذریعے آگاہ کیا جائے۔

اسی بارے میں