لوگی بریئڈ کے ساتھیوں کی پہلے ٹی وی تجربے کی یادیں

جان لوگی بریئڈ نے 90 برس قبل ٹیلی ویژن کا کامیاب تجربہ کرنے والے پہلے شخص کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ جن 50 سائنسدانوں کے سامنے انھوں نے ٹی وی کا تجربہ کیا تھا ان میں سے ایک نے بی بی سی سے ایک ملاقات میں اُن عہدہ ساز دنوں کی یادیں بیان کیں جب سکاٹ لینڈ کے اس موجد نے دنیا میں انقلابی تبدیلی کی بنیاد ڈال دی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Science Photo Library
Image caption ٹی وی کے پہلے مظاہرے پر لوگ حیران رہ گئے تھے

اینڈی اینڈریو جن کی عمر اب 104 برس ہے اس وقت اپنی زندگی کی صرف 14 بہاریں دیکھ پائے تھے جب انھیں سکول کو چھوڑنے کے بعد بریئڈ کے شاگرد کے طور پر کام کرنے کا موقع ملا۔

لندن میں رہنے والے اس بچے نے جس کو مختلف چیزیں ٹھیک کرنے کا شوق تھا، سنہ 1926 میں ناظرین پر ہونے والے غیر معمولی اثرات بیان کیے۔

انھوں نے کہا کہ 'دیکھنے والوں ششدر رہے گئے۔۔۔تصوریں ذرا دھندلی دھندلی سی تھیں لیکن یہ حیران کن تھیں اور وہ انگشت بدندان رہ گئے۔'

اس تجربے نے ایک تحریک سی پیدا کر دی اور اس کے بعد بریئڈ نے فون لائن کے ذریعے لندن سے گلاسگو تصاویر ارسال کئیں اور اس کے بعد سنہ 1928 میں ایک اور تجربے میں انھوں زیر سمندر ٹی وی کی تصاویر امریکہ بھیجیں۔

بریئڈ نے اپنی اسی پسندیدہ ایجاد 'ٹیلی ویژر' کو عام لوگوں سے روشناس کرانے کے لیے سیلف رجز سٹور جیسے عوامی مقامات پر اس کے مظاہرے شروع کیے جو انھیں بہت مہنگے پڑے اور ان مظاہروں کا اہتمام کرنے پر اٹھنے والے اخراجات بھی وہ پورے نہ کر سکے۔

ان ابتدائی تجربات میں تصاویر ہمیشہ زیادہ واضح اور صاف نہیں ہوتی تھیں۔ اینڈریو نے جو ٹرانسمیٹر پر کام کرتے تھے بتایا کہ ان کی ٹیم نے اپنے تجربات میں جس انسانی مجسمے کو استعمال کیا اس کے شوخ نارنجی رنگ کے بال لگا۔

انھوں نے کہا کہ ایک نئی چیز پر کام کرنے میں بہت مزا آتا تھا۔ ’:بہت سے لوگوں کو خیال تھا کہ یہ کوئی شعبدہ بازی ہے۔ ہم نے لوگوں کو حیران کر دیا تھا۔ یہ بہت خوش کن دور تھا۔ ہم نے کبھی بھی اس بات کی پرواہ نہیں کی کہ ہم کتنے گھنٹے کام کرنا پڑ رہا ہے، بس ہم کام کیے چلے جاتے تھے۔‘

جان لوگی برئیڈ کون تھے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Science Photo Library
Image caption پہلا ٹی وی مکینیکل تھا

سکاٹ لینڈ کی قومی لائبریری کی منتظم کیتھرین بوتھ کا کہنا تھا کہ بریئڈ بلاشبہ ٹی وی کی بنیاد رکھنے والے تھے۔

ہیلنز برگ میں چودہ اگست سنہ اٹھارہ سو اٹھاسی میں پیدا ہونے والے برئیڈ نے یونیورسٹی آف گلاسگو کے رائل ٹیکنیکل کالج میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔

ان کی صحت ساری زندگی خراب رہی اور اسی وجہ سے برئیڈ کو جنگ عظیم اول میں حصہ لینے کے قابل نہیں سمجھا گیا اوروہ ایک الیکٹرانک کمپنی کے ساتھ منسلک ہو گئے۔

سنہ 1923میں انھوں نے ہسٹنگ میں ایک گھر میں مکینکل ٹیلی ویژن کا تجربہ کیا لیکن بجلی لگنے کے بعد انھیں وہاں سے نکال دیا گیا۔

1926 میں ٹیلی ویژن کا دنیا بھر میں پہلا مظاہرہ کرنے کے بعد انھوں نے سنہ 1930 میں کیمرہ ایجاد کیا جس سے سٹوڈیو کے باہر سے بھی نشریات ممکن ہو سکیں۔

اس کے بعد کی دہائی میں بی بی سی نے تجرباتی بنیادوں پر ٹی وی نظام اور اس کے متبادل مارکونی ای ایم آئی دونوں پر کام جاری رکھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption جان لوگی بریئڈ لندن کے سائینس میوزیم میں اپنے ٹیلی وائزر کے ساتھ اگست سنہ 1926 میں

کیتھرین بوتھ نے کہا کہ مارکونی ایک بہت بڑی کمپنی تھی جس میں بے شمار ٹیکنیشن کام کرتے تھے اور اس کو امریکی سے مالی معاونت حاصل تھی۔ یہ نظام زیادہ قابل اعتماد ثابت ہوا اور آخر میں اسی کا انتخاب کیا گیا لیکن بریئڈ کو اس سے شدید مایوسی ہوئی۔

لیکن ان کی کمپنی نے ٹی وی رسیورز بنانا بند نہیں کیے اور سنہ 1949 میں چھ سو افراد اس کے لیے کام کر رہے تھے اور یہ پھل پھول رہی تھی لیکن بریئڈ اس رفتار سے مطمئن نہیں تھے۔

برئیڈ کا ستاون برس کی عمر میں چودہ جون 1946 کو برطانیہ کی کاونٹی سسکس میں بکسل آن سی میں انتقال ہو گیا۔

اس نئی ٹیکنالوجی میں دورو نزدیک سے لوگ دلچسپی کا اظہار کر رہے تھے اور ایک پراسرار شخصیت ہمیشہ یہ جاننے کی کوشش میں رہتے تھے کہ کمپنی میں کیا ہو رہا ہے۔

بی بی سی نے سنہ انیس سو چھتیس میں جب باقاعدہ ٹی وی سروس کا آغاز کیا تو بریئڈ کے مکینکل نظام کا مارکونی کے مکمل الیکٹرانک سسٹم سے مقابلہ تھا۔

اسی دوران کرسٹل پیلس میں آتش زدگی کا واقع پیش آ گیا اور بریئڈ کی لیباٹری یہیں قائم تھی اور ان کی زیادہ تر مشینری اور دستاویزات راکھ ہو گئے۔

آکسفورڈ کے چپنگ نارٹن کے علاقے کے رہائشی اینڈیور اس پر رات کام پر تھے اور انھوں نے اپنی جان حظرے میں ڈال کر جو کچھ بچا سکتے تھے بچایا۔

لیکن یہ برئیڈ کے لیے بہت بڑا حادثہ تھا اور انھیں ایک لاکھ پاونڈ کا نقصان ہوا جو آج کی قیمت میں پچاس لاکھ پاونڈ بنتا ہے اور یہ کمپنی کے لیے بہت بڑی قیمت تھی۔

برئیڈ کو اگلا دھچکہ اس وقت لگا جب سنہ 1937 میں بی بی سی نے سرکاری طور پر مارکونی ای ایم آئی کو منتخب کر لیا۔

جنگ عظیم دوئم جب شروع ہوئی ٹی وی کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا اور کمپنی کی پوری ٹیم دفاعی خدمات میں بلا لی گئی۔ اینڈریو نے مائیکروفون بنایا جو جرمنوں کا پتہ لگانے کے لیے استعمال کیا جانے لگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Science Photo Library
Image caption اینڈریو کے مطابق بریئڈ نے ہمشیہ جو حق دار تھا اسے اس کا صلاح دیا

اس کے بعد اینڈریو کے گھر والوں نے ان کا نام 'میڈ پروفیسر' رکھا دیا کیونکہ وہ ہمیشہ نئی چیزیں بنانے میں لگے رہتے تھے اور پھر انھوں نے ٹرانسفارمرز بنانے کی اپنی فیکٹری لگا لی۔

نشیب و فراز ہر شخص کی زندگی میں آتے ہیں لیکن جہاں تک بریئڈ کا تعلق ہے وہ ایک عظیم آدمی تھی جنھوں نے ایک عظیم ایجاد کی اور اس کے لیے ان کی جتنی ستائش کی جائے کم ہے۔

انھوں نے کہا کہ بہت سے لوگ اس کام میں ان کے ساتھ تھے لیکن وہ ایک بہترین شخص تھے جس کے ساتھ کام کرنا کسی کی بھی خواہش ہو گی۔

اینڈریو نے کہا کہ انھوں نے مارکونی کی طرح دعوی نہیں کیا۔ ان کے بقول مارکونی نے کبھی کوئی چیز ایجاد نہیں کی اور انھوں نے ہمیشہ مالک ہونے کے ناطے یہ دعوی کیا۔

اسی بارے میں