طویل عمری کا راز، بچوں کی دیکھ بھال

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption وہ عمر رسیدہ افراد جن کی زندگی میں کوئی مقصد ہوتا ہے اور وہ جسمانی اور ذہنی طور پر مستعد رہتے ہیں

وہ دادے دادیاں اور نانے نانیاں جو پوتے پوتیووں اور نواسے نواسیوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں وہ ان عمر رسیدہ افراد کے مقابلے میں زیادہ جیتے ہیں جو دوسرے لوگوں کا خیال نہیں رکھتے۔

ارتقا اور انسانی رویے کے مطالعے کے ایک معروف جریدے میں شائع ہونے والی نئی تحقیق کے مطابق اگرچہ سارا وقت چھوٹے بچوں کا خیال رکھنے والے عمر رسیدہ افراد کی صحت پر اس ذمہ داری کے منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، تاہم اگر آپ کبھی کبھار بچوں کا خیال رکھتے ہیں تو اس سے آپ کی عمر زیادہ ہوتی ہے۔

تحقیق کے اختتام پر دیکھا گیا ہے کہ وہ افراد جو اپنے رشتے داروں اور اجنبی لوگوں کی مدد کرتے رہے وہ کم از کم سات سال مزید جیے۔ اس کے مقابلے میں وہ افراد جو دوسروں کا خیال نہیں رکھتے تھے ان کی متوقع عمر میں زیادہ سے زیادہ چار سال کا اضافہ ہوا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مذکورہ تحقیق میں جو بات سامنے آئی ہے اس کا نچوڑ یہ ہے کہ وہ عمر رسیدہ افراد جن کی زندگی میں کوئی مقصد ہوتا ہے اور وہ جسمانی اور ذہنی طور پر مستعد رہتے ہیں، وہ زیادہ جیتے ہیں۔

یہ نتائج اس تحقیق پر مبنی ہیں جس کی قیادت سوئٹزر لینڈ کی ایک یونیورسٹی کے شعبۂ نفسیات کے پی ایچ ڈی کے طالبعلم سونجا ہِلبرینڈ کر رہے تھے۔ برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے سونجا ہِلبرینڈ کا کہنا تھا کہ اگر آپ کا پوتے پوتیوں یا نواسے نواسیوں سے کوئی رابطہ نہیں رہتا تو آپ کی صحت پر اس کے منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption دوسروں کی دیکھ بھال کرنے سے آپ کو زندگی میں ایک مقصد مل جاتا ہے

ان کے بقول ’اس کا تعلق انسان کے ارتقا یا ماضی سے ہو سکتا ہے کیونکہ صدیوں پہلے بنی نوع انسان کی بقا کے لیے ضروری تھا کہ وہ اپنے بچوں کا خیال رکھے۔‘

سونجا ہِلبرینڈ نے اس تحقیق کے لیے 70 سال کی اوسط عمر کے پانچ سو افراد کی زندگی کا مطالعہ کیا۔ سنہ 1990 سے سنہ 2009 کے دوران بیس سالوں پر پھیلے ہوئے اس مطالعے میں ان پانچ سو مردوں اور خواتین کے ہر دو سال بعد انٹرویو لیے گئے اور ان کی طبی معانے بھی کیے گئے۔

اس مطالعے میں بڑی عمر کے ایسے افراد کو شامل نہیں کیا گیا جن کی بنیادی ذمہ داری اپنے پوتے پوتیوں یا نواسے نواسیوں کی دیکھ بھال کرنا تھا، بلکہ ان لوگوں کو شامل کیا گیا جو کبھی کبھار ایسا کرتے تھے۔

تحقیقی ٹیم نے منتخب پانچ سو عمر رسیدہ افراد کے شب و روز اور طبی معلومات کا موازنہ ان عمر رسیدہ افراد سے کیا جو خاندان سے باہر دوستوں یا پڑوسیوں کا خیال رکھتے تھے۔ اس کے علاوہ منتخب پانچ سو عمر رسیدہ افراد کا موازنہ ان افراد سے بھی کیا گیا جو کسی کا خیال نہیں رکھتے تھے۔

تمام اعداد و شمار کے مطالعے سے تحقیق میں دیکھا گیا کہ وہ عمر رسیدہ افراد جو اپنے بچوں کے بچوں کی دیکھ بھال کر رہے تھے، بیس سال کے عرصے میں ان کے انتقال کر جانے کے امکانات ان عمر رسیدہ افراد سے ایک تہائی کم رہے جو کسی بچے کا خیال نہیں رکھ رہے تھے۔

نتائج کے مطابق وہ دادے دادیاں یا نانے نانیاں جو پوتے پوتیوں یا نواسے نواسیوں کی دیکھ بھال کر رہے تھے ان میں سے نصف اپنے پہلے انٹرویو کے دس برس بعد تک زندہ رہے۔

یہ بات مطالعے میں شامل ان عمر رسیدہ افراد کے معاملے میں بھی درست ثابت ہوئی جو گھر کے کام کاج وغیرہ میں اپنے بیٹے بیٹیوں کی مدد کر رہے تھے۔

اس کے برعکس مطالعے میں شامل ان افراد میں سے تقریباً آدھے پانچ سال کے اندر اندر انتقال کر گئے جو کسی دوسرے کی دیکھ بھال نہیں کر رہے تھے یا گھر کے کام کاج میں ہاتھ نہیں بٹا رہے تھے۔

تحقیق کے نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے سپین میں بارسلونا کی ایک یونیورسٹی سے منسلک ماہر نفسیات، پروفیسر بُرونو ارپینو کا کہنا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ دوسروں کی دیکھ بھال کرنے سے آپ کو زندگی میں ایک مقصد مل جاتا ہے اور مدد کرنے والے عمر رسیدہ افراد سمجھتے ہیں کہ وہ معاشرے کے دیگر افراد کے لیے مفید ثابت ہو رہے ہیں۔

’اس کے علاوہ دوسروں کی دیکھ بھال سے آپ کو ایک ایسا کام مل جاتا ہے جو آپ کو جسمانی اور ذہنی طور پر مستعد رکھتا ہے کیونکہ اس سے پہلے کی تحقیق میں بھی یہ دیکھا گیا تھا کہ دوسروں کی مدد کرنے سے آپ کے حواس خمسہ کام کرتے رہتے ہیں اور آپ کی ذہنی اور جسمانی صحت اچھی رہتی ہے۔‘