’سائبر حملوں سے گلہریوں کے حملے زیادہ خطرناک‘

گلہری تصویر کے کاپی رائٹ THINKSTOCK

ایک سکیورٹی ماہر کے مطابق دنیا بھر کے بنیادی ڈھانچے کو کسی دشمن ملک یا تنظیموں سے نہیں بلکہ گلہریوں سے زیادہ خطرہ لاحق ہے۔

کرس ٹامس 2013 سے جانوروں کی جانب سے بجلی منقطع کیے جانے کے واقعات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

کرس ٹامس نے ایک سکیورٹی کانفرنس کو بتایا کہ 1700 سے زائد مرتبہ بجلی منقطع ہونے کے ذمہ دار گلہری، پرندے، چوہے اور سانپ تھے جس کے باعث 50 لاکھ افراد متاثر ہوئے۔

انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان مسائل کا ریکارڈ اس لیے رکھ رہے ہیں تاکہ ہیکنگ کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے واقعات کا سدباب کیا جا سکے۔

انھوں نے واشنگٹن میں شموکون سکیورٹی کانفرنس کے شرکا کو بتایا کہ ان کے سائبر سکوئرل ون نامی پروجیکٹ کا مقصد ’حکومت اور کاروباری اداروں کی جانب سے سائبر جنگ کے دعووں کی مضحکہ خیزی واضح کرنا ہے۔‘

ان کے مطابق گلہری 879 ’حملوں‘ کے ساتھ سرفہرست ہے اور جس کے بعد پرندوں کا نمبر آتا ہے جنھوں نے 434 ’حملے کیے جبکہ سانپوں نے 83، ریکون نے 72، چوہوں نے 36، مارٹین نے 22 اور مینڈکوں نے تین ’حملے کیے۔‘

انھوں نے آخر میں کہا کہ حقیقی سائبر حملوں کے باعث ہونے والے نقصانات جانوروں سے لاحق ’سائبر خطرے‘ کی نسبت بہت چھوٹے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

زیادہ تر جانوروں کے ’حملے‘ بجلی کی تاروں پر ہوئے ہیں لیکن مسٹر ٹامس نے بتایا کہ جیلی فش نے 2013 میں بجلی گھر کو ٹھنڈے پانی کی ترسیل کرنے والے پائپ مسدود کر دیے جس کے باعث سویڈن کا جوہری بجلی گھر بند ہو گیا۔

انھیں یہ بھی معلوم ہوا کہ انفراسٹرکچر پر ہونے والے جانوروں کے حملوں سے آٹھ افراد کی ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں، جن میں گلہری کے بجلی کی تاروں کو کاٹنے اور ان کی زد میں آ کر ہلاک ہونے والے چھ افراد بھی شامل ہیں۔

کرس ٹامس نے آغاز میں سائبر سکوئرل ون کے نام سے ٹوئٹر پر مارچ 2013 میں کام شروع کیا۔ ابتدا میں وہ گوگل الرٹ سے معلومات جمع کرتے تھے۔

اس کے بعد سے ان کا یہ پروجیکٹ بڑھ گیا ہے اور وہ دیگر سرچ انجنوں اور ویب سے بھی معلومات حاصل کرتے ہیں۔

اسی بارے میں