چین میں ایک بچہ فی خاندان کی پابندی ختم ہونے کے بعد شرح پیدائش میں اضافہ

تصویر کے کاپی رائٹ Science Photo Library
Image caption چین میں شرح پیدائش میں تقریباٌ آٹھ فیصد اضافہ

چین میں پچھلے سال فی خاندان ایک سے زیادہ بچے کی پیدائش پر پابندی اٹھائے جانے کے بعد شرحِ پیدائش میں واضح اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

چین کے ادارہ برائے قومی صحت اور فیملی پلاننگ کمیشن (این ایچ ایف پی) کے مطابق پچھلے سال ایک کروڑ 70 لاکھ سے زیادہ بچے پیدا ہوئے جو کے سنہ 2015 کے مقابلے میں 7.9 فیصد زیادہ تھے۔

ایک بچہ فی خاندان کی پالیسی سے کیا فائدہ ہوا؟

سال 2016 میں پیدا ہونے والے بچوں میں سے 45 فیصد ایسے تھے جن کے بڑے بھائی یا بہن تھے۔

این ایچ ایف پی کے یانگ وین ژوانگ نے کہا کہ فیملی پلاننگ پالیسی میں تبدیلی کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں اور انھوں نے امید ظاہر کی کہ سنہ 2020 تک ہر سال ایک کروڑ 70 لاکھ سے دو کروڑ تک بچے پیدا ہوں گے۔

حکومتی اہلکاروں کے مطابق سنہ 2050 تک ملک میں تقریباٌ تین کروڑ افراد کام کرنے کی عمر تک پہنچ گئے ہوں گے۔

چین کے ایک اور سرکاری ادارے قومی ادارہ برائے شماریات کے مطابق سال 2016 میں ایک کروڑ آٹھ لاکھ بچے پیدا ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ پچھلے سال جنوری میں چین کی حکومت نے چالیس سال سے قائم ایک بچہ فی خاندان کی پالیسی کا خاتمہ کر دیا تھا لیکن والدین کو دوسرے بچے سے پہلے حکومت سے اجازت نامہ لینا ضروری قرار دیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں