انگلش ہسپتال علاج سے پہلے ہی غیرملکیوں سے بِل وصول کرنے کے پابند

انگلینڈ تصویر کے کاپی رائٹ iStock
Image caption این ایچ ایس کا کہنا ہے کہ اب ہسپتالوں کو اپنے قرض کی ادائیگی کے لیے لوگوں کا پیچھا نہیں کرنا پڑے گا

انگلینڈ میں این ایچ ایس کے زیرِ انتظام ہسپتالوں پر اب سے قانونی پابندی ہو گی کہ وہ غیر ملکی مریضوں سے غیر ہنگامی علاج کے لیے قبل از علاج اخراجات وصول کریں۔

اس پابندی کا اطلاق ان غیر ملکی مریضوں پر نہیں ہوگا جو قانونی طور پر مفت علاج کے حقدار ہوں گے۔

اس سال اپریل سے ہسپتال پیشگی ادائیگی کے بغیر غیر ملکی مریضوں کے آپریشن کرنے سے انکار کر سکیں گے۔

این ایچ ایس کا کہنا ہے کہ اب ہسپتالوں کو اپنے قرض کی ادائیگی کے لیے لوگوں کا پیچھا نہیں کرنا پڑے گا۔

تاہم ہنگامی صورتحال میں علاج فوراً کیا جائے گا اور اس کے لیے رقم کا مطالبہ بعد میں کیا جا سکے گا۔

یہ اعلان وزیرِ صحت جیرمی ہنٹ کی جانب سے ایسے وقت کیا گیا ہے جب ملک میں سیاحوں کے این ایچ ایس کے وسائل استعمال کرنے کے حوالے سے بحث جاری ہے۔

بی بی سی کی ڈاکیومنٹری ’ہسپتال‘ میں دکھایا گیا کہ متعدد غیر ملکی مریض ہسپتالوں میں اپنے بل ادا نہیں کرسکے۔

موجودہ قوانین کے مطابق ہسپتالوں کو اب بھی یورپی اکنامک ایریا سے باہر کے غیر ملکی مریضوں کے علاج کے لیے رقم کا مطالبہ کرنا ہوتا ہے تاہم اس وقت وہ علاج کرنے کے بعد یہ مطالبہ کرتے ہیں۔

یورپی اکنامک ایریا سے آنے والے مریضوں کے علاج معالجے کی تفصیلات وزارتِ صحت کو دی جاتی ہیں تاکہ ان اخراجات کو ان کی حکومتوں سے واپس لیا جا سکے۔

این ایچ ایس امپیریل کالج ٹرسٹ کے اعداد و شمار کے مطابق این ایچ ایس نے گذشتہ سال غیر ملکی مریضوں پر چار ملین پاؤنڈ خرچ کیے تاہم ان میں سے صرف 1.6 ملین پاؤنڈ کی وصولی ہو سکی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں