جرمنی: شامی پناہ گزین کا فیس بک کے خلاف مقدمہ

جرمنی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انس مودامانی کی اینگلا مرکل کے ساتھ سیلفی کو اگست 2015 میں انٹرنیٹ پر انتہائی مقبول ہوئی تھی

شامی پناہ گزین انس مودامانی نے جرمن چانسلر انگیلا مرکل کے ساتھ اپنی ایک سیلفی کے جھوٹی خبروں میں استعمال ہونے کے بعد فیس بک کے خلاف ایک مقدمہ دائر کیا۔

جرمنی کے شہر ورزبرگ میں عدالت نے اس سلسلے میں دونوں جانب کے وکلا سے ابتدائی بیانات سنے ہیں۔

انس مودامانی کی انگیلا مرکل کے ساتھ سیلفی کو اگست 2015 میں انٹرنیٹ پر انتہائی مقبول ہوئی تھی تاہم بعد میں انھیں دہشت گردی کے واقعات سے جھوٹ کی بنیاد پر منسلک کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔

فیس بک نے کچھ پوسٹ تو ہٹا دی گئی ہیں تاہم انس مودامانی کے وکلا کا کہنا ہے کہ اب بھی ایسے بہت ساری پوسٹس موجود ہیں۔

ان کا موقف ہے کہ فیس بک کو اس تصویر کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے زیادہ کوشش کرنی چاہیے تھی۔

اس تصویر کو برسلز میں حملوں اور برلن میں کرسمس مارکیٹ پر حملہ کے بارے میں پوسٹس کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے بلومبرگ کے مطابق فیس بک کے وکیل کا کہنا ہے کہ ہر روز اربوں پوسٹوں کی نگرانی کرنے کے لیے کمپنی کوئی ’ونڈر مشین‘ یعنی معجزاتی مشین درکار ہوگی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ انس مودامانی نے جن جن پوسٹس کی طرف کمپنی کی توجہ دلائی وہ ہٹا دی گئیں اور چونکہ یہ کیس ہتکِ عزت کا ہے، یہ ان افراد کے خلاف ہونا چاہیے جو یہ پوسٹ شائع کر رہے ہیں۔

انس مودامانی 2015 میں شام چھوڑ کر جرمنی پہنچے تھے جہاں وہ ایک کیمپ میں رہتے ہیں۔ جرمن چانسلر نے اس کیمپ کا دورہ کیا تھا جس موقعے پر یہ تصویر لی گئی۔

انس مودامانی نے اس تصویر کو اپنے فیس بک صفحے پر شیئر کیا تو یہ انگیلا مرکل کی امیگریشن پالیسی کی علامت بن گئی۔

یاد رہے کہ فیس بک اور دیگر سماجی روابط کی ویب سائٹوں پر غلط خبروں خاص طور پر امریکی انتخابات کے دوران جھوٹی اطلاعات کے پھیلاؤ کے حوالے سے شدید تنقید کی گئی ہے۔

اسی تنقید کے پیشِ نظر اس سال فیس بک نے جرمنی میں نئے ٹولز متعارف کروائے ہیں جن کی مدد سے جعلی خبروں کی نشاندہی ممکن ہو جائے گی۔ دنیا کے سب سے بڑا سماجی نیٹ ورک فیس بک کا کہنا ہے کہ اب جرمن صارفین غلط خبروں کی نشاندہی کر سکیں گے۔

نشاندہی کے بعد متعلقہ خبروں کو تھرڈ پارٹی یعنی جانچ کے لیے بھجوایا جائے گا اور اگر یہ تصدیق ہو گئی کہ خبر قابلِ بھروسہ نہیں تو پھر نیوز فیڈ میں اسے ڈسپیوٹڈ یعنی متنازع قرار دیا جا سکے گا۔

جرمن زبان میں فیس بک انتظامیہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق 'گذشتہ ماہ ہم نے ان اقدامات کے بارے میں اعلان کیا تھا جو کہ غلط خبروں سے نمٹنے کے لیے اٹھائے جا رہے ہیں۔‘

یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آنے والے ہفتوں میں فیس بک پر یہ اپ ڈیٹس جرمنی میں میسر ہوں گی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں