’دمے سے جنسی زندگی متاثر ہو سکتی ہے‘

کیلی این تصویر کے کاپی رائٹ CALLIE-ANNE
Image caption کیلی این کا کہنا ہے کہ ان کے شوہر کو ڈر ہے کہ جنس کی وجہ انھیں دمے کا دورہ نہ پڑ جائے

برطانیہ میں دمے پر کام کرنے والے خیراتی ادارے ایزما یوکے کا کہنا ہے کہ اس مرض میں مبتلا بہت سے لوگوں کی جنسی زندگیاں متاثر ہو رہی ہیں۔

ایک سروے سے پتہ چلا کہ دمے کا شکار 68 فیصد لوگوں کی جنسی زندگیاں اس مرض سے براہِ راست متاثر ہوتی ہیں۔

کیلی این نامی ایک 31 سالہ خاتون کا کہنا ہے کہ ان کے شدید دمے کی وجہ سے ان کی اپنے خاوند کے ساتھ جنسی زندگی 'معطل' ہو کر رہ گئی ہے۔

ایزما یوکے کے مطابق اس کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کی بیماری قابو میں نہیں ہے اور انھیں طبی مدد حاصل کرنی چاہیے۔

کیلی این کہتی ہیں کہ انھیں حیرت نہیں ہوئی کہ لوگ یہ سب 'خاموشی سے برداشت کر رہے ہیں۔'

انھوں نے کہا: 'وہ اس بارے میں بولتے نہیں ہیں۔ ڈاکٹر، کنسلٹنٹ، طبی کارکن اور عام لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ اس کا میرے بچوں، میرے کام، میری پڑھائی، میری سماجی زندگی پر کیا اثر پڑتا ہے۔

'ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ کوئی یہ پوچھے کہ اس کا میرے خاوند کے ساتھ تعلقات پر کیا اثر پڑتا ہے اور کوئی بھی یہ نہیں پوچھتا کہ یہ مرض جنسی تعلقات پر کس طرح اثرانداز ہوتا ہے۔'

ان کا کہنا ہے کہ ان کی جنسی زندگی پر بہت گہرا اثر پڑا ہے۔

'جنسی عمل کے دوران میرے گلے میں خرخراہٹ ہونے لگتی ہے اور مجھے لگتا ہے جیسے میری چھاتی پھٹ جائے گی کیوں کہ میں پھیپھڑوں سے ہوا نہیں نکال سکتی۔ مجھے ان ہیلر لینے اور سانس بحال کرنے کے لیے رکنا پڑتا ہے۔'

ایزما یوکے کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگوں نے کیلی این ہی کی طرح تجربات بیان کیے ہیں۔ کئی لوگوں نے سیکس کی مقدار کم کر دی ہے یا اسے بالکل بند ہی کر دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock

سروے سے معلوم ہوا کہ 15 فیصد لوگوں کے تعلقات دمے کی وجہ سے ختم ہو گئے۔

ایک خاتون کا کہنا تھا کہ ان کے تعلقات دمے کے دورے کے دوران ایمبولینس میں ختم ہوئے۔ 'کیونکہ میرے بوائے فرینڈ کا کہنا تھا کہ میری وجہ سے انھیں ذہنی تناؤ کا سامنا ہے جسے وہ برداشت نہیں کر سکتے۔ آخرکار میں اکیلی ہسپتال گئی۔'

کئی لوگوں نے یہ بھی کہ جنسی عمل کے دوران ان پر دمے کا دورہ پڑا اور انھیں ہسپتال پہنچنا پڑا۔

ایزما یوکے کو امید ہے کہ اب زیادہ لوگ بتانا شروع کر دیں گے کہ یہ مرض ان کی نجی زندگی کو کیسے متاثر کرتا ہے۔ ادارے کے ڈاکٹر اینڈی وٹمور نے کہا: 'ہمیں اس ردِعمل کی توقع نہیں تھی، اور نہ ہی یہ معلوم تھا کہ اتنے زیادہ لوگوں کو مسائل درپیش ہیں۔'

انھوں نے کہا: 'بعض لوگ شرمندگی کی وجہ سے اپنے ڈاکٹر سے بات نہیں کر پاتے، لیکن اگر ان کا دمہ ان کی جنسی زندگی میں خلل ڈال رہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ قابو میں نہیں ہے اور انھیں اس کے لیے مدد مانگنی چاہیے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں