دبئی میں جولائی 2017 سے مسافر بردار ڈرون سروس کا آغاز

eHang 184 تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اس ڈرون کو پہلی مرتبہ ٹیکنالوجی کے میلے سی ای ایس میں دوہزار سولہ میں پیش کیا گیا تھا

دبئی میں رواں برس سے ایسے مسافر بردار ڈرون اڑیں گے جن میں ایک مسافر کے بیٹھنے کی گنجائش ہو گی۔

ریاست میں مسافر بردار ڈرونز کی باقاعدہ پروازوں کا آغاز اس برس جولائی میں ہو جائے گا۔

اس بات کا اعلان دبئی میں شاہراہوں اور مواصلات کے سربراہ میتھیو الطائر نے عالمی سربراہان حکومت کے اجلاس میں کیا۔

انھوں نے کہا کہ چائنا کا ماڈل ’ای ہینگ ایک سو چوراسی‘ پہلے ہی آزمائشی پروازیں کامیابی سے کر چکا ہے۔

یہ ڈرون ایک سو کلو گرام تک وزنی ایک مسافر کے ساتھ آدھے گھنٹے تک پرواز کی صلاحیت کا حامل ہے۔

اس ڈرون میں کنٹرول کے لیے صرف ایک ٹچ سکرین نصب ہے۔

محکمہِ مواصلات کی جاری کردہ ویڈیو کے مطابق اسے کمانڈ سینٹر سے خودکار پائلٹ کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے۔

اس کی رفتار سو میل فی گھنٹہ بتائی گئی ہے اور ایک بیٹری پر یہ 30 میل کی اڑان بھر سکتا ہے۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق الطائر نے کہا کہ 'یہ صرف ایک ماڈل نہیں، بلکہ ہم نے اس پر بیٹھ کر دبئی کی فضاؤں میں اڑنے کا تجربہ کیا ہے۔'

اس ڈرون کو جون 2016 میں امریکی ریاست نیواڈا میں بھی آزمایا جا چکا ہے۔

یونیورسٹی آف ویسٹ آف انگلینڈ میں شعبۂ ہوابازی اور جہازرانی کے سینیئر لیکچرار، ڈاکٹر سٹیو رائٹ، نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس میں حفاظتی نظام نہایت اہمیت کا حامل ہے۔

انھوں نے کہا: 'عام حالات میں یہ سسٹم آسانی سے کام کرتے ہیں۔ مگر اس کی صلاحیت کا صحیح اندازہ اس وقت ہوگا جب کسی نظام کے فیل ہونے کی صورت میں بھی یہ صورتحال کو سنبھال سکے۔

'میں چاہوں گا کہ یہ ڈرون کم سے کم ایک ہزار گھنٹے تک پرواز کرے اور اس کے بعد ہی اس پر کوئی انسان سوار ہو۔'

ڈاکٹر رائٹ نے کہا کہ اس سے پہلے کم سے کم وہ اس میں پرواز نہیں کرنا چاہیں گے۔

پچھلے ماہ اسرائیل کی اربن ایروناٹکِس نے اعلان کیا تھا کہ فوجی مقاصد کے لیے تیارکردہ اس کا مسافر ڈرون، کورمورانٹ، سنہ 2020 میں فوج کے حوالے کیا جا سکے گا۔

چودہ لاکھ ڈالر کی لاگت سے بنایا جانے والا یہ ڈرون پانچ سو کلوگرام وزن کے ساتھ ایک سو پندہ میل فی گھنٹے کی رفتار سے پرواز کر سکتا ہے۔

اسی بارے میں