انڈیا کا خلائی مشن میں نیا ریکارڈ

سیٹلائٹ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption خلائی شعبے میں کام کرنے والے انڈیا کے تحقیقی ادارے اسرو نے اس سے قبل ایک ساتھ 20 سیٹلائٹس کامیابی کے ساتھ خلا میں بھیجے تھے

انڈیا کے خلائی ادارے اسرو نے 104 سیٹلائٹس کو خلا میں بھیج کر نئی تاریخ رقم کی ہے۔

اس سے قبل ایک خلائی مہم کے دوران ایک ساتھ اتنے سیٹلائٹس نہیں بھیجے گئے ہیں۔

انڈیا کے خلائی ادارے اسرو نے گذشتہ سال ایک وقت میں 20 مصنوعی سیارے کامیابی کے ساتھ خلا میں بھیجے تھے۔

اب تک کسی ایک خلائی مشن میں سب سے زیادہ سیٹلائٹس بھیجنے کا عالمی ریکارڈ روس کے نام تھا، جس نے سنہ 2014 میں ایک وقت میں 37 مصنوعی سیارے کامیابی کے ساتھ خلا میں بھیجے تھے۔

٭ انڈیا نے ایک ساتھ 20 سٹیلائٹ خلا میں روانہ کر دیے

٭ 'سیٹلائٹ لانچ انڈیا کا منافع بخش کاروبار'

اس مہم میں بھیجے جانے والے 104 مصنوعی سیٹلائٹس میں سے تین انڈیا کے ہیں جب کہ باقی 101 سیٹلائٹس اسرائیل، قزاقستان، ہالینڈ، سوئٹزرلینڈ اور امریکہ کے ہیں۔

اس مہم کے بارے میں بات کرتے ہوئے اسرو کے چیئرمین ایس ایس کرن کمار نے میڈیا کو بتایا: 'ان میں سے ایک مصنوعی سیارے کا وزن 730 کلوگرام ہے ان کے علاوہ ہمارے پاس 600 کلوگرام مزید وزن خلا میں بھیجنے کی صلاحیت تھی، اس لیے ہم نے 101 دوسرے سیٹلائٹس کو بھی لانچ کرنے کا فیصلہ کیا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption انڈیا کو سپیس مشن میں کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں

کرن کمار نے اس پوری مہم پر ہونے والے اخراجات کی تفصیلات تو نہیں دیں لیکن یہ واضح کیا کہ مشن کا نصف خرچ غیر ملکی سیٹلائٹس کو بھیجنے سے آ رہا ہے۔ تاہم اندازہ ہے کہ اسرو کو غیر ملکی مصنوعی سیاروں سے 100 کروڑ روپے سے زیادہ کی آمدن ہوئی ہے۔

سینیئر صحافی پلّو باگلا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: 'یہ محض ریکارڈ بنانے کے لیے نہیں کیا جا رہا ہے بلکہ اس میں انڈین خلائی مشن کے ساتھ اسرو کا کمرشل پہلو بھی شامل ہے۔ یہ مشکل کام ہے اس لیے دنیا بھر کی نظر اس پر ٹکی ہیں۔'

گذشتہ چند سالوں کے دوران انڈیا نے دنیا کے 21 ممالک کے 79 سیٹلائٹس کو خلا میں لانچ کیا ہے جس میں گوگل اور اییربس جیسی بڑی کمپنیوں کے سیٹلائٹس بھی شامل تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں