سمندری آلودگی کی بڑی وجہ ٹائروں کا پلاسٹک

آلودگی
،تصویر کا کیپشن

ٹائروں اور مصنوعی کپڑوں سے پھیلنے والی اس آلودگی کا حل مشکل ہے

ماحولیاتی تحفظ کے لیے کام کرنے والوں نے خبردار کیا ہے کہ گاڑیوں کے ٹائروں کے باریک ذرات سمندر میں شامل ہو کر اسے آلودہ کر رہے ہیں اور ایک دن یہ سمندر کو ’پلاسٹک کا شوربہ‘ بنا دیں گے۔

آئی یو سی این کا کہنا ہے کہ ٹائروں اور ٹیکسٹائل سے نکلنے والے پلاسٹک کے باریک ذرات سمندری آلودگی کی بڑی وجہ ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق سمندروں میں پہنچنے والے پلاسٹک کا 30 فیصد حصہ اِن باریک ذرات سے آتا ہے نہ کہ پلاسٹک کے بڑے ٹکڑوں سے۔

ماہرین کے مطابق رگڑ کھانے سے الگ ہونے والے ٹائروں کے ذرات اور مصنوعی کپڑے سمندری آلودگی کی بڑی وجہ ہیں۔

آئی یو سی این نے دنیا کے سات خطوں سے اعداد و شمار اکٹھے کیے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ ہر سال سمندر میں شامل ہونے والے 95 لاکھ ٹن پلاسٹک کے تازہ کچرے میں باریک ذرات کی مقدار کتنی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 15 فیصد سے 30 فیصد تک پلاسٹک کی آلودگی ان باریک ذرات سے ہوتی ہے جن کی دو بڑی وجوہات مصنوعی کپڑے جن کے دھونے سے یہ ذرات نکلتے ہیں اور گاڑیوں کے ٹائروں کی رگڑ سے الگ ہوتے ہیں۔

،تصویر کا کیپشن

زیادہ تر پلاسٹک کی آخری منزل سمندر ہوتا ہے

آئی یو سی این کے سمندروں سے متعلق پروگرام کے ڈپٹی ڈائریکٹر فرانزیکو سمرڈ کا کہنا ہے کہ یہ نتائج حیران کن ہیں۔

’ہم نے پایا کہ زیادہ تر پلاسٹک کے باریک ذرات یا تو کپڑوں سے آتے ہیں یا ٹائروں سے۔ یہ باریک ذرات سمندر میں ہر طرف جا رہے ہیں، ہماری خوراک میں بھی، پلاسٹک کے اس نل کو بند کرنا ہوگا۔‘

آئی یو سی این کے ڈائریکٹر جنرل انگر اینڈرسن کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ ’آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔‘

’ہمارے روز مرہ کے معمولات جیسے کے کپڑے دھونا اور گاڑی چلانا آلودگی میں اس قدر اضافہ کر رہے ہیں اور اس کے زندگی اور انسانی صحت پر تباہ کن اثرات ہو سکتے ہیں۔‘

تاہم انھوں نے تسلیم کیا کہ ٹائروں اور مصنوعی کپڑوں سے پھیلنے والی اس آلودگی کا حل مشکل ہے۔

مصنوعی کپڑے سے پلاسٹک کے ذرات سمندر میں ایشیا کے علاقوں سے زیادہ شامل ہوتے ہیں جبکہ ٹائروں کی آلودگی امریکہ، یورپ اور وسطی ایشیا سے سمندروں میں شامل ہوتی ہے۔