’امریکی حکومت نے عالمی بینکنگ کے نظام کو ہیک کیا'

این ایس اے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

این ایس اے کو مائکروسافٹ کے ساتھ معلومات مشترک نہیں کرنے پر تنقید کا نشنانہ بنایا جا رہا ہے

مختلف اقسام کی سکیورٹی معلومات آن لائن پر لیک ہوئی ہیں اور ان کے بار ے میں کہا جاتا ہے کہ اگر انھیں بلیک مارکیٹ میں فروخت کیا جاتا تو یہ 20 لاکھ ڈالر سے زیادہ قیمت ہوتی۔

لیک ہونے والی چیزوں کے بارے میں خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انھیں امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی (این ایس اے) نے بنایا ہے اور ان کے ساتھ جو دستاویزات ہیں وہ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ممکنہ طور پر اس سے بینکنگ کے عالمی نظام سوئفٹ کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

تحقیق کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے ہیک سے پوشیدہ طور پر امریکہ کو مالی لین دین کی نگرانی کرنے کا موقع ملا ہوگا۔

'شیڈو بروکرز' نامی ہیکنگ گروپ نے ان فائلز کا انکشاف کیا ہے۔ اس سے قبل اسی گروپ نے 'مالويئر' کا انکشاف کیا تھا۔

اگر یہ لیک درست ہے تو این ایس اے کے بارے میں سنہ 2013 میں ایڈورڈ سنوڈن کے انکشاف کے بعد یہ سب سے بڑا انکشاف ہے۔

سنوڈن نے ٹوئٹر پر اسے 'مدر آف آل ایکسپلائٹس' یعنی ام المہمات قرار دیا ہے جو کہ بظاہر اس بم کی جانب اشارہ کرتا ہے جسے امریکی فوج نے افغانستان میں استعمال کیا تھا۔

مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ 'اعداد و شمار کا تازہ ذخیرہ معتبر ہے' جبکہ اس میں ملوث ادارے نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے یا پھر اس پر کچھ کہنے سے انکار کیا ہے۔

سوئفٹ کا ہیڈ کوارٹر بیلجیئم میں ہے اور اس نے کہا ہے کہ 'ہمارے پاس ایسے شواہد نہیں ہیں جن سے یہ پتہ چلے کہ ہمارے نیٹ ورک کی سروسز کو کبھی بھی ناجائز طور پر استعمال کیا گیا ہو۔'

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن

مائکروسافٹ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ ان دستاویزات کا معائینہ کر رہی ہے اور یہ کہ وہ اپنے صارفین کو بچانے کے لیے مؤثر اقدام لے گی

بی بی سی ابھی تک ان دستاویزات کے معتبر ہونے کی تصدیق نہیں کرسکی ہے اور نہ ہی این ایس اے نے اس انکشاف کے بارے میں کوئی بیان دیا ہے۔

خیال رہے کہ سوئفٹ کو گذشتہ سال ہیکروں نے کامیابی کے ساتھ نشانہ بناتے ہوئے بنگلہ دیش کے سینٹرل بینک سے آٹھ کروڑ ڈالر سے زیادہ رقم چرالی تھی۔

سوئفٹ ایک ایسا نظام ہے جو عالمی سطح پر بینکوں کو دنیا بھر میں پیسے کو منتقل کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ سوئفٹ نیٹ ورک میں چھوٹے بینک سروس بیورو کی خدمات حاصل کرتے ہیں جو ان کی جانب سے رقم منتقل کرتا ہے۔ لیک ہونے والے دستاویزات سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ 'ایسٹ نیٹس' نامی ایک اہم بیورو اس کا شکار ہوا ہے۔

متحدہ عرب امارات میں سائبر سکیورٹی کمپنی کومے ٹیکنالوجیز کے بانی میٹ سوئچی نے خبررساں ادارے روئٹرز کو بتایا: 'اگر آپ بیورو کی خدمات کو ہیک کر لیتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کو ان تمام بینکوں تک رسائی حاصل ہے جو آپ کے گاہک ہیں۔'

ایسٹ نیٹس کا ہیڈکوارٹر دبئی میں ہے اور اس کے گاہک کویت، دبئی، بحرین، اردن، یمن اور قطر میں پھیلے ہوئے ہیں۔

شیڈو بروکرز نے جو دستاویز شا‏ئع کی ہیں ان میں ان بینکوں کی فہرست شامل ہے جن میں خفیہ طور پر اعدادوشمار کو جمع کرنے کے سافٹ ویئر ڈلے ہوئے تھے۔

سکیورٹی کے شعبے میں ریسرچ کرنے والے کرس تھامس کا کہنا ہے کہ لیک ہونے والی فائلز سے پتہ چلتا ہے کہ 'امریکی حکومت کو مالی لین دین پر نظر رکھنے کی صلاحیت تھی اگر چہ وہ اس میں خلل نہ بھی ڈالیں۔'

جمعے کو اپنے ایک بیان مین ایسٹ نیٹس نے ان دعووں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ 'جو تصاویر ٹوئٹر پر دکھائی گئیں ہیں وہ پرانی اور ناکارہ ہیں اور وہ کم درجے کے انٹرنل سرور پر تیار کی گئی تھیں اور انھیں سنہ 2013 کے بعد ختم کر دیا گیا۔'

وائس سے بات کرتے ہوئے ایک ریسرچر نے کہا کہ یہ چیزیں اگر نجی طور پر فروخت کی جاتیں تو 20 لاکھ ڈالر سے زیادہ کی ہوتیں۔