نفرت اور غصہ بھی خوشی کا ایک ذریعہ

غصہ ، نفرت تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ایک عالمی تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ نفرت اور غصے جیسے منفی جذبات بھی لوگوں کی خوشی کا باعث بن سکتے ہیں۔

ایک انٹرنشینل ریسرچ کے مطابق اگر لوگ ایسے جذبات کو محسوس کر سکیں جس کی انھیں خواہش تھی خواہ وہ نفرت اور غصے کے جذبات ہی کیوں نہ ہوں، ان کی خوشی کا باعث بنتے ہیں۔

اس عالمی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ درد سے بچاؤ اور مسرت کے جذبات کو محسوس کرنا ہی خوشی کا نام نہیں ہے۔

تحقیق کارروں نے ریسرچ میں شریک لوگوں سے سوال کیا کہ وہ اس جذبے کے بارے میں بتایں جسے وہ محسوس کرنے کی خواہش رکھتے تھے اور اس خواہش کے پورے ہونے پر ان کے احساسات کیا تھا۔

اس سوال پر آنے والے جوابات کا زندگی میں اطمینان اور خوشی کےجذبات سے تقابل کیا گیا۔ اس تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ زیادہ تر لوگ مثبت جذبات کو محسوس کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔

اس تحقیق میں امریکہ، برازیل، چین، جرمنی ، گھانا، اسرائیل، پولینڈ اور سنگاپور کی یونیورسٹیوں کے 2300 طالبعلم شریک ہوئے۔

تحقیق کاروں کی ٹیم کی اہم رکن اور ہیبریو یونیورسٹی یوروشلم سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر مائیا طامیر نے بی بی سی نیوز ویب سائٹ کو بتایا کہ اگر آپ اس جذبے کو محسوس کرلیں جس کی آپ کو خواہش تھی خواہ وہ جذبہ منفی ہی کیوں نہ ہو وہ آپ کی تسکین کا سبب بنتا تھا۔

تحقیق میں سامنے آیا کہ گیارہ فیصد لوگ ایسے بھی ہیں جو محبت اور ہمدردی جیسے مثبت جذبات کو محسوس ہی نہیں کرنا چاہتے جبکہ دس فیصد ایسے لوگ بھی ہیں جو غصے اور نفرت جیسے منفی جذبات کو محسوس کرنے کے خواہشمند ہیں۔

ڈاکٹر طامیر نے وضاحت کی کہ اگر ایک عورت گالم گلوچ کرنے والے شریک حیات کےساتھ اپنے رشتے کو ختم کرنا چاہتی بھی ہے لیکن وہ ایسا نہیں کرتی اور اس مرد سےمحبت نہ کر کے شاید وہ زیادہ خوشی محسوس کر سکتی ہے۔

اس تحقیق سے منسلک یونیورسٹی آف کیمبرج کی پروفیسر ڈاکٹر اینا الیگزینڈروا کہتی ہے کہ اس تحقیق نے خوش کے بارے عام تصورات کو چیلنج کیا ہے۔

انھوں نے کہا غصہ اور نفرت دو ایسے جذبات ہیں جن کو محسوس کر کے کچھ لوگوں کو تسکیں محسوس ہو سکتی ہے لیکن خوف، پچھتاوا، افسردگی یا بے چینی جیسے جذبات کا خوشی سے کوئی تعلق نہیں بنتا ہے۔

ڈاکٹر طامیر نے وضاحت کی کہ یہ ریسرچ ایسے لوگوں کے جذبات سے متعلق نہیں جو کلینکل ڈیپریشن میں مبتلا ہیں۔ انھوں نے مزید کہ مغربی معاشروں میں عام طور پر لوگ خوشی محسوس کرنا چاہتے ہیں اور انھیں خوشی میسر بھی ہے لیکن وہ مزید خوشی کی خواہش ان کے لیے کبھی کبھی پریشانی سبب بن جاتی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں