سمندری پرندے طویل سفر میں اپنی قوت شامہ استعمال کرتے ہیں

پرندے تصویر کے کاپی رائٹ B. G. THOMSON/SCIENCE PHOTO LIBRARY

یہ سمندری پرندے ہزاروں کلومیٹر کا سفر بغیر بھٹکے طے کر لیتے ہیں۔

آرکٹک ٹرن نامی پرندہ موسم گرما برطانیہ میں گزارتا ہے جبکہ سردیوں میں وہ کئی ہزار کلومیٹر کا سفر طے کر کے قطب جنوبی، انٹارکٹکا کا رخ کرتا ہے۔

لیکن سائنسدان اس مخمصے کا شکار تھے کہ یہ سمندری پرندے اتنا طویل سفر بغیر بھٹکے کیسے طے کرتے ہیں اور ان کو ہر سال یہ راستے کیسے یاد رہتے ہیں۔

درجہ حرارت بڑھنے سے پرندوں کی قبل ازوقت ہجرت

مگر اب نئی تحقیق کے مطابق یہ پرندے اپنی قوت شامہ استعمال کر کے یہ فاصلے طے کرتے ہیں۔

آکسفورڈ، بارسلونا اور پیسا یونیورسٹیوں کے محققین نے مل کر اس تحقیق میں حصہ لیا جہاں انھوں نے سمندر سے اوپر اڑنے والے پرندوں میں سونگھنے کی قوت ختم کر دی اور اس کے بعد ان کی پرواز کا جائزہ لیا۔

اس تجربے سے یہ معلوم ہوا کہ یہ پرندے خشکی پر پرواز کرتے ہوئے اپنا راستہ نہیں بھولتے لیکن جب وہ سمندر کے اوپر پرواز کرتے ہیں تو وہ بھٹک جاتے ہیں۔

اس سے یہ ثابت ہوا کہ جب ان کے پاس بصری مدد نہ ہو تو وہ مختلف اقسام کی مہک کی مدد سے اپنا سفر طے کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پفن سمندری پرندوں کی نسل میں شامل ایک پرندہ ہے

ماضی میں کیے گئے تجربات اور تحقیق سے یہ بات پتہ چلی تھی کہ قوت شامعہ ختم کر دینے سے پرندے گھر کا راستہ بھول جاتے ہیں لیکن کچھ ماہرین نے سوال اٹھایا تھا کہ ایسا کرنے سے پرندے کھانا ڈھونڈنے کی صلاحیت سے بھی عاری ہو جاتے ہیں۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کے محقق اولیور پیڈگیٹ نے کہا کہ 'ہماری نئی تحقیق سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان پرندوں کو طویل فاصلے تک سمندر کے اوپر سفر کرنے کے لیے قوت شامہ کی ضرورت ہوتی ہے۔'

تجربے میں استعمال کیے جانے والے پرندے بحیرہ روم کے قریب اپنے گھونسلے بناتے ہیں لیکن افزائش نسل کے موسم کے اختتام کے بعد وہ بحر اوقیانوس کے اوپر سفر کر کے افریقہ اور برازیل کی جانب چلے جاتے ہیں۔

ان پرندوں پر جی پی ایس آلے لگائے گئے تھے تاکے ان کی پرواز کے راستے کو جانچا جائے۔ جو پرندے زمینی علاقوں کے پاس سے گزرے ان کو تو اتنی دشواری نہیں ہوئی لیکن وہ پرندے جن کو سمندر کے اوپر سفر کرنا تھا، وہ اپنا راستہ بھٹک گئے۔

یہ تحقیق سائنٹیفیک رپورٹس نامی تحقیقی جریدے میں شائع ہوئی۔

اسی بارے میں