بلو ٹوتھ کے ذریعے ہیکنگ کا خطرہ آپ کی کار کو بھی ہو سکتا ہے

بلوٹوتھ آن ہونے سے ہیکنگ کے خطرات تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption یہ حملہ فون کے علاوہ ٹی وی اور لیپ ٹاپ کو بھی متاثر کر سکتا ہے

سکیورٹی کمپنی ارمس کے محققین نے ایک ایسے میل ویئر کا پتہ لگایا ہے جو بلو ٹوتھ سے منسلک آلات پر حملہ کر سکتا ہے۔

کمپنی کے مطابق موبائل فونز کا بلو ٹوتھ آن رکھنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

یہ حملہ صرف سمارٹ فون کو ہی نہیں بلکہ سمارٹ ٹی وی، ٹیبلیٹ، لیپ ٹاپ، لاؤڈ سپیکرز اور گاڑیوں کے آڈیو سسٹم کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔

خیال رہے کہ دنیا بھر میں اربوں ڈیوائسز ایسی ہیں جن پر بلو ٹوتھ کا استعمال ہوتا ہے۔

میک کمپیوٹرز کے لیے مخصوص وائرس مفت دستیاب

’بس اپنے کمپیوٹر سسٹم کو اپ ڈیٹ کرتے رہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کچھ ہیکنگ حملوں کے لیے ہیکرز کا ڈیوائس کے قریب ہونا ضروری ہوتا ہے

اس میل ویئر کا نام ‘بلو بارن‘ ہے۔ اس کے ذریعے ہیکرز ان آلات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں جن کا بلو ٹوتھ آن ہو۔ ایسا ہونے سے آپ کے موبائل کا ڈیٹا بڑی آسانی سے چوری کیا جا سکتا ہے۔

ارمس کا کہنا ہے کہ ‘بلو ٹوتھ ڈیوائس سے جڑے کئی اور ایسے نقصان دہ سافٹ ویئر ہو سکتے ہیں جن کی شناخت ہونا باقی ہے۔‘

٭’بس اپنے کمپیوٹر سسٹم کو اپ ڈیٹ کرتے رہیں‘

٭'وانا کرائی' وائرس کے پیچھے چینیوں کا ہاتھ؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بلو ٹوتھ سے متعلق حملوں کے ذریعے میسجز، فون بک اور تصاویر بھی چرائی جا سکتی ہیں

خطرناک میلویئر اور ان کے حملے

بلو بگنگ

اس نقصان دہ سافٹ ویئر کی مدد سے حملہ آور ڈیٹا چوری کرنے کے لیے ڈیوائس میں وائرس بھیج سکتا ہے۔

بلو بارن صارفین سے کسی بھی لنک پر کلک کرنے کے لیے نہیں کہتا ہے بلکہ کسی بھی ایکٹیو بلو ٹوتھ والی ڈیوائس کو قابو میں کرنے کے لیے اسے صرف دس سکینڈ کی ضرورت ہوتی ہے۔

ارمس نے ایک ایسی ایپلیکیشن تیار کی ہے جو یہ پتا لگا سکتی ہے کہ آپ کی ڈیوائس محفوظ ہے یا نہیں۔ اس ایپ کا نام ‘بلو بارن ولنریبلٹی سکینر‘ ہے۔

’سائبر حملے کا توڑ صرف ایک فائل‘

جعلی خبروں سے کیسے نمٹا جائے؟

بلو جیکنگ

دوسرا خطرہ ہے بلو جیکنگ۔ یہ بلو ٹوتھ سے جڑی کئی ڈیوائسز کو ایک ساتھ سپیم بھیج سکتا ہے۔

یہ میل ویئر وی کارڈ (پرسنل الیکٹرانک کارڈ) کے ذریعے میسیج بھیجتا ہے جو کہ ایک نوٹ یا کانٹیکٹ نمبر جیسا ہو سکتا ہے۔ عام طور پر یہ بلو ٹوتھ ڈیوائس کے نام سے سپیم بھیجتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption استعمال نا ہو تو ڈیوائس کا بلو ٹوتھ بند رکھنا چاہئے۔

بلو سنارفنگ

یہ بلوجیکنگ سے زیادہ خطرناک ہے۔ اس کے ذریعے بھی معلومات کی چوری کی جاتی ہے۔ اس کا استعمال زیادہ تر فون بک اور ڈیٹا چرانے کے لیے کیا جاتا ہے۔

اس کے ذریعے تصاویر بھی چرائی جا سکتی ہیں، لیکن اس کے لیے ہیکر کا صارفین کے قریب دس میٹر کے دائرے میں ہونا ضروری ہے۔

کیسے کریں ڈیوائس کی حفاظت

  • مائیکروسافٹ، گوگل اور لینکس نے بلو بارن سے یوزر کی حفاظت کے لیے پیچ ریلیز کی ہے۔ اسے انسٹال کر لیں۔
  • جدید آلوں میں بلو ٹوتھ کنیکٹیوٹی کے لیے کنفرمیشن کوڈ ضروری ہے۔ اس کا استعمال کریں۔
  • موڈ 2 بلو ٹوتھ کا استعمال کریں۔ یہ زیادہ محفوظ ہے۔
  • اپنی ڈیوائس کے بلو ٹوتھ کے نام کو ہڈن موڈ میں ہی رکھیں۔
  • استعمال نا کرنے کی صورت میں بلوٹوتھ کو بند رکھیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں