آسٹریلوی حکومت کا خلائی ادارہ تشکیل دینے کا فیصلہ

خلائی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

آسٹریلیا کی حکومت نے بڑھتی ہوئی خلائی صنعت کو مد نظر رکھتے ہوئے قومی خلائی ایجنسی کے قیام کا فیصلہ کیا ہے۔

ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں آسٹریلیا واحد ملک ہے جہاں سرکاری سطح پر کوئی خلائی ادارہ نہیں ہے۔

آسٹریلیا کی قائم مقام وزیر برائے صنعت میکائلیا کیش نے کہا کہ یہ انتہائی ضروری ہے کہ آسٹریلیا عالمی طور پر اس بڑھتی ہوئی صنعت کا حصہ بنے اور اس سے فائدہ اٹھائے۔

خلائی جہاز کیسینی زحل سے ٹکرا کر تباہ

خیال کیا جا رہا ہے کہ آسٹریلوی حکومت ایڈیلیڈ میں ہونے والے عالمی آسٹروناؤٹیکل کانگریس میں اس ادارے کی تشکیل کے بارے میں مزید تفصیلات سے آگاہ کرے گی۔

اس کانفرنس میں دنیا بھر سے ماہرین شرکت کریں گے جن میں دیگر ممالک کے خلائی اداروں کے سربراہان بھی شامل ہیں۔

آسٹریلوی حکومت کے اندازوں کے مطابق عالمی خلائی صنعت کی کل وقعت 420 ارب آسٹریلوی ڈالر ہے جبکہ اس میں آسٹریلیا کا حصہ چار ارب آسٹریلوی ڈالر ہے اور وہ 11500 افراد کو ذریعہ معاش فراہم کرتا ہے۔

آسٹریوی خلائی صنعت ایسوسی ایشن (ایس آئی اے اے) کے مطابق ترقی یافتہ ممالک کی تنظیم او ای سی ڈی کے ممبران ممالک میں سے صرف آسٹریلیا اور آئس لینڈ وہ دو ملک ہیں جہاں سرکاری سطح پر کوئی خلائی ادارہ نہیں ہے۔

ایس آئی اے اے کے مطابق آسٹریلیا کے حجم، آبادی اور جغرافیہ کے اعتبار سے ملک میں خلائی صنعت کو پھیلانے کے بہت مواقعے ہیں۔

فی الحال آسٹریلیا کی حکومت امریکہ اور دیگر ملکوں کی مدد سے اپنی خلائی ضروریات پوری کرتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں