گمشدہ یونانی خانقاہ کی تلاش کے 100 سال بعد نقشہ غلط نکلا

یونان تصویر کے کاپی رائٹ SWISS RADIO AND TELEVISION
Image caption انھیں یونانی دیوی ارتمس کے مندر کی تلاش تھی، جس کا شمار قدیم یونان کے معزز ترین دیویؤں میں ہوتا تھا

ایک گمشدہ یونانی خانقاہ کی تلاش کا کام کرنے والے ماہر آثار قدیمہ کے ایک گروہ نے ایک سو سال سے زائد عرصہ تلاش کا کام کرنے کے بعد ختم کر دیا کیونکہ اس جگہ کا قدیم نقشہ غلط تھا۔

یونان کے سرکاری نشریاتی ادارے ای آر ٹی کے مطابق ’سنہ 1964 میں اوبوئیا جزیرے میں اریٹریا کے مقام پر یونانی اور سوئس ٹیم نے کھدائی کا کام شروع کیا، جہاں دیگر ماہر آثار قدیمہ 19ویں صدی سے بے سود کھدائی کرتے رہے تھے۔‘

انھیں یونانی دیوی ارتمس کے مندر کی تلاش تھی، جس کا شمار قدیم یونان کے معزز ترین دیویوں میں ہوتا تھا، اور جیوگرافر سٹرابو کے مطابق ان کا انتقال پہلی صدی عیسوی میں ہوا تھا۔

سوئس ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ ایک مقدس مقام قدیم اریٹریا سے سات یونانی سٹیڈز (تقریباً ایک میل) کے فاصلے پر واقع ہے۔ لیکن سوئس ماہر آثار قدئمہ ڈینس کنوپفلر نے دریافت کیا کہ اس دور کی یونانی عمارتوں کے ملنے والے پتھر بازنطینی چرچ میں دوبارہ استعمال ہوئے اور سترابو کو حساب کتاب میں غلطی ہوئی تھی۔ ان کے خیال میں یہ فاصلہ 11 کلومیٹر کا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ SWIIS RADIO AND TELEVISION
Image caption ٹیم نے نئی جگہ پر کھدائی سے اب تک چھٹی سے دوسری صدی قبل از مسیح کی عمارتیں دریافت کی ہیں

چنانچہ سوئس آرکیولوجیکل سکول اور گریک آرکیالوجیکل سروس نے امرینتھوس میں پہاڑی کے دامن میں ایک چھوٹے سے گاؤں میں کھدائی کا کام شروع کیا۔ اس محنت طلب کام کے بعد ایک برآمدہ یا گیلری دریافت ہوئی۔ جو مندر کا حصہ ہو سکتا ہے، یہ کام سنہ 2012 کے آغاز میں شروع کیا گیا تھا۔

یونان کی وزارت ثقافت کا کہنا ہے کہ ’ان کے اندازے صحیح ثابت ہوئے جب ٹیم نے اس موسم سرما کھدائی کے دوران گیلری کی دیواروں کو نکالا جس سے ارتمس کی خانقاہ کا مرکزی حصہ سامنے آیا۔‘

ٹیم نے اس وقت سے اب تک چھٹی سے دوسری صدی قبل از مسیح کی عمارتیں دریافت کی ہیں جن میں ایک زیر زمین فوارہ، نقش و نگار اور ارتمس کے نام والے سکے شامل ہیں، جو امرینتھوس کی مالک دیوی تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں