انسٹا گرام پر جانوروں کے ساتھ سیلفیاں،’جانوروں کے لیے عذاب‘

جانور تصویر کے کاپی رائٹ World Animal Protection

جانوروں کے تحفظ سے متعلق خیراتی ادارے ورلڈ اینیمل پروٹیکشن نے کہا ہے کہ سیاحوں کے جنگلی حیات کے ساتھ سیلفیاں بنانے کے رحجان کی وجہ سے غیر ذمہ دار ٹور آپریٹرز جانوروں کو جنگلوں سے دور کر رہے ہیں۔

ادارے کے مطابق سنہ 2014 سے اب تک جنگلی حیات کے ساتھ سیلفیاں بنانے اور انھیں انسٹا گرام پر پوسٹ کرنے میں 292 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

ادارے نے انسٹا گرام سے کہا ہے کہ وہ 'اپنے پلیٹ فارم پر جانوروں کے تحفظ کی خاطر' اقدام کرے۔

انسٹاگرام کا کہنا ہے کہ ماہرین کے ساتھ مل کر اس مسئلے کا حل ڈھونڈا جا رہا ہے۔

'دنیا میں جنگلی حیات میں 40 سالوں میں 58 فیصد کمی'

جنگلی حیات کے غیرقانونی شکار کی روک تھام پر عالمی کانفرنس

کمپنی نے کہا ہے کہ انسٹا گرام پر ایسے مجرمانہ کاموں میں سہولت دینے یا انھیں منظم کرنے کی اشاعت ممنوع ہے جن سے جانوروں کوجسمانی نقصان پہنچتا ہو۔

'معدومی کے خطرے سے دوچار جانوروں کے غیر قانونی شکار یا منظم مقابلوں کے لیے جانوروں کی فروخت کو فروغ دینے والے مواد کو اطلاع ملنے پر انسٹا گرام سے ہٹا دیا جاتا ہے۔ '

تصویر کے کاپی رائٹ World Animal Protection

کمپنی نے مزید کہا کہ وہ جنگلی حیات کے ماہرین کے ساتھ بات چیت کر رہی ہے اور 'ہم اپنی کمیونٹی کو ایسی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے طریقوں پر غور کر رہے ہیں جو فطرت اور جانوروں کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے جیسے انسٹا گرام پر ایسا مواد پوسٹ کرنا جس سے جنگلی حیات کی بہبود متاثر ہو یا جس سے جانورں کا استحصال جھلکتا ہو۔‘

ورلڈ اینیمل پروٹیکشن سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر نیل ڈی کروز کے مطابق 'یہ بہت تکلیف دہ بات ہے کہ جنگلات سے جانوروں کو چرا لیا جائے اور پھر ان کے ساتھ سیلفیاں بنا کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا جائے۔'

انھوں نے کہا 'حقیقت یہ ہے کہ بد قسمت جانور کیمرے کے آگے اور پیچھے دونوں طرح ہی عذاب میں مبتلا ہیں۔'

خیراتی ادارے کی جانب سے ایک چوتھائی تصاویر کے تجزے کے بعد ان سیلفیوں کو 'بری سیلفیاں' قرار دیا گیا ہے جن میں لوگ جنگلی حیات کو گلے لگا رہے ہوں، پکڑے ہوئے ہوں یا پھر غیر مناسب طریقے سے ان کے ساتھ ہوں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Alamy

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں