مقتول گینڈا،برفانی عفریت اور چمپینزی کا غوروفکر

گینڈے تصویر کے کاپی رائٹ BRENT STIRTON/WPY

ماحولیاتی جرائم کی ایک دہشت ناک تصویر کو رواں سال ہونے والے وائلڈ لائف فوٹوگرافر آف دا ایئر (ڈبلیو پی وائی) کے مقابلے میں بہترین انٹری قرار دیا گیا ہے۔

یہ تصویر جنوبی افریقہ کے برنٹ سٹرٹن نے لی ہے اور اس میں ہلولوے انفولوزی گیم ریزرو کے ایک سیاہ گینڈے کے زخموں سے چور مردہ جسم کو دیکھا جا سکتا ہے۔

غیر قانونی شکار کرنے والوں نے رات میں اس جانور کو مار ڈالا اور اس کے سینگ کاٹ لیے۔

٭ جزیرے کے مناظر: انعامی مقابلے کی فاتح تصاویر

٭ کہکشائیں، چاند، سیارے: سال کی بہترین فلکیاتی تصاویر

برینٹ سٹرٹن نے یہ تصویر گینڈے کے سینگ سے تیار کردہ سامان کی غیر قانونی تجارت کے ضمن میں جاری تحقیقات کے سلسلے میں لی تھی۔

ڈبلیو پی وائی کی جیوری کے سربراہ لوئس بلیک ویل نے کہا کہ اس تصویر نے پینل کے افراد پر دلدوز اثرات ڈالے۔

گوریلا تصویر کے کاپی رائٹ DANIEL NELSON/WPY

اس کے برعکس مغربی نشیبی علاقے کے بہت حد تک پرسکون نوجوان گوریلے کی تصویر ہے جو بریڈ فروٹ (ایک قسم کا بے گٹھلی کا پھل جو گرم کرنے پر روٹی کی طرح نرم ہو جاتا ہے) کھاتا نظر آ رہا ہے۔

اس تصویر کے لیے ڈینیئل نیلسن کو ینگ وائلڈ لائف فوٹوگرافر آف دا ايئر قرار دیا گیا ہے۔

یہ تصویر انھوں نے نیدرلینڈ میں لی ہے اور انھوں نے 17-15 سال کی عمر کی درجہ بندی میں شرکت کی ہے۔ گوریلے کی عمر تقریباً نو سال ہے اور ٹریکر اسے کاکو بلاتے ہیں۔

مغربی ممالک کے نشیبی علاقے میں رہنے والے اس نسل کے گوریلا کو ناپید ہونے کا خطرہ لاحق ہے۔

چمپینزی تصویر کے کاپی رائٹ PETER DELANEY/WPY

اس تصویر کا عنوان غور و فکر دیا گیا ہے اور یہ تصویر آئرلینڈ/ جنوبی افریقہ کے پیٹر ڈلانے نے لی ہے۔ اسے جانوروں کے پورٹریٹ درجے میں انعام کا مستحق قرار دیا گیا ہے۔

اس تصویر میں ایک چمپینزی کو یوگینڈا کے کبالے نیشنل پارک میں جنگل میں آرام کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

پیٹر ڈلانے کا تعلق کاؤنٹی وکلو سے ہے لیکن ڈبلیو پی وائی سے تحریک پا کر وہ فوٹوگرافی کے اپنے کریئر کے لیے جنوبی افریقہ منتقل ہو گئے۔

دیوقامت کیکڑے تصویر کے کاپی رائٹ JUSTIN GILLIGAN/WPY

اس تصویر کا عنوان کیکڑوں کا استعجاب ہے اور یہ تصویر آسٹریلیا کے جسٹن گلیگن نے لی ہے۔

اسے بغیر ریڑھ کی ہڈی والے جانوروں کے درجے میں فاتح قرار دیا گیا ہے۔

اس تصویر میں تسمانیہ کے مشرقی ساحل کے پانیوں میں مکڑے نما دیوقامت کیکڑے کے درمیان ایک آکٹوپس کو دیکھا جا سکتا ہے جو کہ اپنی خوراک منتخب کر رہا ہے۔

وھیل کے زیرے تصویر کے کاپی رائٹ copyrightTONY WU/WPY

امریکہ کے ٹونی وو نے یہ تصویر لی ہے اور اسے 'دا جائنٹ گیدرنگ' یعنی 'دیوقامت اجتماع' کا نام دیا ہے۔

اس تصویر کو ممالیہ کے برتاؤ کے درجے میں فاتح قرار دیا گيا ہے۔

ٹونی وو وھیل کی فوٹوگرافی میں ماہر ہیں۔ یہ تصویر سری لنکا کے شمال مشرقی ساحل کے پاس لی گئي ہے۔

کیمرے میں اتنے بڑے اجتماع کو شاذ و نادر ہی قید کیا جا سکا ہے۔

برفانی تودہ تصویر کے کاپی رائٹ LAURENT BALLESTA/WPY

اس غیر معمولی تصویر کا نام 'آئس مونسٹر' یعنی برفانی عفریت دیا گیا ہے۔

یہ تصویر فرانس کے لوراں بیلاسٹا نے مشرقی اینٹارکٹکا میں فرانسیسی ڈرمونٹ دی ارویلے سائنسی اڈے کے پاس لی ہے۔

اس میں برف کے تودے کے نچلے حصے کو دیکھایا گیا۔ در اصل یہ کئی تصاویر کا مجموعہ ہے جس ایک ساتھ یکجا گيا ہے۔

اسے کرۂ ارض کی ماحولیات کے درجے میں انعام کا مستحق قرار دیا گيا ہے۔

ہاتھی کا جھنڈ تصویر کے کاپی رائٹ FEELSION

برطانیہ/امریکہ کے برٹی جیکوسکی نے یہ تصویر لی ہے جسے 'پام آئل سروائیورز' کا نام دیا گیا ہے۔

اس وائلڈ لائف فوٹو جرنلسٹ کی واحد تصویر کے زمرے میں ایوارڈ ملا ہے۔

یہ تصویر بورنیو جزیرے میں مشرقی سباح کے مقام پر لی گئی ہے۔

اس میں ہاتھیوں کو ناریل اور کھجور کے باغات کے درمیان گزرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جنھیں نئی کاشت کے لیے کاٹ دیا گیا ہے۔

مرغابی تصویر کے کاپی رائٹ EKATERINA BEE/WPY

'دا گرپ آف دا گلز' نامی یہ تصویر ایکیٹرینا بی نے لی ہے۔ ایکیٹرینا دس سال یا اس سے کم درجے کے زمرے کی فاتح ہیں۔

انھوں نے خار ماہی کو پکڑنے والی مرغابیوں کو بریڈ کے ٹکڑے پھینک کر اپنی جانب متوجہ کیا اور یہ تصویر لی۔ ایکیٹرینا صرف ساڑھے پانچ سال کی ہیں۔

فوٹوگرافی کی دنیا میں وائی پی اے اس قسم کے مقابلے کے لیے بہت باوقار مقابلہ ہے۔ اس کی ابتدا سنہ 1964 میں ہوئی تھی اور اسی وقت سے یہ بی بی سی وائلڈ لائف میگزن کا حصہ ہے۔

یہ وقت کے ساتھ وسیع تر ہوتا گیا اور رواں سال 92 ممالک سے 48 ہزار اینٹریز موصول ہوئیں۔ اس بار یہ مقابلہ لندن کے نیچر میوزم نے کرایا تھا۔

۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں