ہاروی وائن سٹین کیس: کیا جنسی لت کا علاج ممکن ہے؟

جنس تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ۔ جنسی لت کا علاج خاصا طویل اور مہنگا ہوتا ہے

’میں یہاں ہوں، جتنا میں اپنے آپ کو سنبھال سکتا ہوں، سنبھالا۔ میں اچھا نہیں ہوں لیکن میں سخت محنت کرتا ہوں۔ مجھے مدد کی ضرورت ہے ہم سب غلطی کرتے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ مجھے دوسرا موقع دیا جائے گا۔‘

ہالی ووڈ میں فلموں کے اہم پروڈیوسروں میں سے ایک ہاروی وائن سٹین نے یہ الفاظ کچھ دن پہلے صحافیوں کے سامنے ادا کیے تھے۔ ہالی وڈ کی بہت سی اداکاراؤں نے ان پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا ہے۔

اب خبر یہ ہے کہ ہاروی کا میڈوز میں ایریزونا کے ایک مشہور بحالی مرکز میں ’سیکس ایڈکشن‘ یا جنسی لت کا علاج شروع کیا گیا ہے۔ ماضی میں نامور شخصیات جیسے مائیکل ڈگلس اور ٹائیگر ووڈز بھی اپنا علاج کروا چکے ہیں۔

مجھے عریاں قطار میں کھڑا کیا گیا: جینیفر لارنس

جنسی ہراس کا الزام لگانے والی خواتین کون ہیں؟

انھیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ علاج پورا کرنے کے لیے وہ بعد میں یورپ بھی جائیں گے۔ اسے انھوں نے اور ان کی ٹیم نے بہتری کا ایک طریقہ قرار دیا ہے۔ اگرچہ بہت سے لوگوں کے خیال میں یہ فرار اور لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہونے کی ترکیب ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ہالی وڈ کی بہت سی اداکاراوں نے ہاروی وائن سٹین پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا ہے

جنسی ایڈکشن یا ہائپر سیکشوئلٹی کیا ہے؟

لاس اینجلس کے ’سینٹر فار ہیلتھی سیکس‘ کے میڈیکل ڈائریکٹر الیگزینڈر کا کہنا ہے کہ ’یہ جاننا بہت مشکل ہے کہ ہاروی وین سٹائن کو سیکس کی لت ہے یا نہیں۔‘

بی بی سی کے ساتھ بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’جتنا ہم اس معاملے کے بارے میں جانتے ہیں، اس بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ انھوں نے جنسی طور پر حملہ کیا ہے۔'ہاروے نے کوئی باہمی رضامندی نہیں کی. تاہم، یہ نہیں کہا جا سکتا ہے ان کے رویے کے پیچھے جنسی لت ہے یا نہیں۔‘

جنسی لت کا علاج کرنے والے ڈاکٹر عموماً ایسے معاملات میں بہت زیادہ محتاط ہوتے ہیں۔ ایک وجہ یہ ہے کہ نفسیاتی علاج یا سائیکوتھراپی میں اسے ایک نفسیاتی بیماری نہیں سمجھا جاتا۔

اگرچہ اسے جنسی لت یا ہائپر سیکشوئلٹی کہا جاتا ہے، دراصل یہ ایک بیماری ہے جس کے علاج کے لیے بحالی مراکز موجود ہیں۔ جنسی لت کا علاج خاصا طویل اور مہنگا ہوتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption یہ جاننا ضروری ہے کہ ایسی زندگی گزارنے والا شخص جنسی تعلقات کے بعد پچھتاوا محسوس کرتا ہے یا نہیں

ماہرین کا خیال ہے کہ جنسی لت کو روکنے کا بہترین طریقہ تھراپی کی مدد سے جنسی خواہشات کو کنٹرول کرنا ہے۔ اس کے لیے ڈاکٹر اس مریض سے مخصوص وقت کے جنسی عمل نہ کرنے کے لیے کہتا ہے۔

جنسی لت کی عام وجوہات میں نوجوانوں میں بچپن یا جنسی بدسلوکی کے واقعات ہیں۔

یہ جاننا ضروری ہے کہ ایسی زندگی گزارنے والا شخص جنسی تعلقات کے بعد پچھتاوا محسوس کرتا ہے یا نہیں۔

ڈاکٹر الیگزینڈر کا کہنا ہے کہ’ہم لوگوں کو ابھی جنسی تعلقات کو روکنے کے لیے نہیں کہتے ہیں۔ تاہم جیسا کہ ہاروی وین سٹائن کا کیس ہے، انھیں کسی بھی عورت کے ساتھ اکیلے نہیں ہونا چاہیے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں