’ایک برس میں آلودگی 90 لاکھ جانوں کو نگل گئی‘

آلودگی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption رپورٹ کے مطابق کل 92 فیصد اموات غریب ممالک میں ہوئیں

طبّی جریدے دی لینسٹ کی رپورٹ کے مطابق سنہ 2015 میں دنیا میں 90 لاکھ افراد کی ہلاکت کی وجہ آلودگی تھی۔

رپورٹ کے یہ نتائج دو سالہ منصوبے سے اخذ کیے گئے ہیں جبکہ ہلاکتیں زیادہ تر کم متوسط اور کم آمدن والے ممالک میں ہوئیں۔

یہ وہ ممالک ہیں جہاں ایک چوتھائی اموات کی وجہ آلودگی ہی ہوتی ہے۔ بنگلہ دیش اور صومالیہ سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہیں۔

سمندری آلودگی کی بڑی وجہ ٹائروں کا پلاسٹک

2025 سے ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں پر پابندی

سائنسدانوں کی اپیل، ’اپنا دماغ عطیہ کریں‘

برونائی اور سویڈین وہ ممالک ہیں جہاں آلودگی سے متاثر ہو کر ہلاک ہونے والوں کی تعداد سب سے کم ہے۔

آلودگی سے زیادہ تر اموات غیر متعدی امراض کی وجہ سے ہوئیں جن میں ہارٹ اٹیک، سٹروک اور پھیپھڑوں کا سرطان شامل ہیں۔

نیویارک میں ماؤنٹ سینائی میں واقع ایکن سکول آف میڈیسن سے وابستہ پروفیسر فلپ لینڈریگن کا کہنا ہے کہ ’آلودگی ماحولیاتی چیلینج سے بہت بڑا مسئلہ ہے۔ یہ ایک بڑا اور عالمی مسئلہ ہے جو انسانی صحت اور بہبود کے بہت سے پہلوؤں پر اثر انداز ہوتا ہے۔‘

آلودگی سے سب سے بڑا خطرہ ساڑھے چھ لاکھ قبل از وقت ہلاکتوں کی صورت میں سامنے آیا۔ آلودگی کی اس قسم میں گیسز بھی ہیں جن میں گھروں میں لکڑی کا جلنا اور کوئلے کا جلانا شامل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC/Mirza
Image caption یہ تصویر دیوالی کی صبح دہلی کے ایک صاف ستھرے علاقے میں لی گئی تھی

دوسرا بڑا خطرہ پانی کی آلودگی ہے جس کی وجہ سے 18 لاکھ اموات ہوئیں جبکہ کام کی جگہ آلودگی کے باعث آٹھ لاکھ اموات ہوئیں۔

رپورٹ کے مطابق کل 92 فیصد اموات غریب ممالک میں ہوئیں جو کہ معاشی ترقی کے تیز عمل سے گزر رہے ہیں جیسا کے انڈیا جو کہ آلودگی سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں پہلے نمبر پر ہے اور چین جس کا نمبر 16واں ہے۔

اندازے کے مطابق برطانیہ میں آلودگی کے باعث 50 ہزار اموات ہوئیں جو کہ کل اموات کا آٹھ فیصد ہیں۔

188 ممالک کی فہرست میں برطانیہ کا نمبر 55واں ہے۔ تاہم امریکہ، جرمنی، فرانس، سپین، اٹلی اور ڈنمارک سمیت بہت سے یورپی ممالک اس انڈیکس میں برطانیہ سے اوپر ہیں۔

برٹش لنگز فاؤنڈیشن سے وابستہ ڈاکٹر پینے وڈم کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں فضائی آلودگی خطرناک حد پر پہنچ چکی ہے جس میں برطانیہ بہت سے مغربی ممالک، امریکہ اور یورپ کے مقابلے میں زیادہ بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کی ایک وجہ ڈیزل سے چلنے والی گایوں پر انحصار ہے جو کہ زہریلے مادے اور گیسں فضا میں چھوڑتے ہیں۔

'یہ پھیپھڑوں کے مرض میں مبتلا افراد، بچوں اور عمر رسیدہ افراد کو بری طرح ہ متاثر کرتے ہیں۔'

Image caption دہلی کے جنتر منتر پر دہلی کے سکولی طلبہ اور ان کے والدین نے ماسک لگا کر عوام میں آلودگی کے متعلق بیداری پیدا کرنے اور اور آلودگی کی سطح میں اضافے کے خلاف مظاہرہ کیا ہے

امریکہ میں ہونے والی پانچ اعشاریہ آٹھ فیصد ہلاکتوں یعنی ایک لاکھ بچپن افراد کی موت کا سبب آلودگی کے مسئلے سے جوڑا جاتا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ فضائی آلودگی غریب ممالک کے علاوہ امیر ممالک میں موجود غریبوں کو بھی متاثر کر رہی ہے۔

ایک نجی ادارے پیور ارتھ سے وابستہ کارتی سنڈیلا کا کہنا ہے کہ'آلودگی، غربت، خراب صحت اور معاشی انصاف کا باہمی طور پر گہرا تعلق ہوتا ہے۔'

'آلودگی سے بنیادی انسانی حقوق مثلاً جینے کے حق، صحت، محفوظ کام اس کے علاوہ بچوں اور کمزوروں کی حفاظت کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں