نیپال میں ڈاکٹروں کا مددگار سولر سوٹ کیس

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
لارا سٹیچل نے شمسی توانائی سے چلنے والا ایک سوٹ کیس تیار کیا ہے

ہری سنار 24 سالہ ماں ہیں اور چند دنوں میں ان کے یہاں دوسرے بچے کی پیدائش متوقع ہے۔

وہ نپیال میں اپنے دور افتادہ گاؤں پنڈاوکھانی سے طوفانی بارش میں اپنے بچے کی پیدائش سے قبل آخری بار طبی جانچ کرانے کے لیے مقامی زچہ بچہ مرکز پیدل پہنچیں۔ ان کے گاؤں میں اکثر و بیشتر بجلی منقطع ہوتی رہتی ہے۔

بجلی دو دو ہفتے تک غائب رہتی ہے جس سے زچہ بچہ مرکز کو سخت مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔

لیکن اب اس مرکز نے اپنے لیے بجلی کا انتظام کر لیا ہے۔

تولد کے مرکز میں اب بجلی رہتی ہے اور اس بات سے ان کے چہرے پر مسکراہٹ آ جاتی ہے۔

نوجوان ماں کہتی ہیں: 'میں واقعی بہت خوش ہوں کیونکہ اب اس مرکز پر بجلی کے لیے سولر نظام لگ چکا ہے۔'

بجلی ایک چمکیلے زرد رنگ کے سوٹ کیس سے حاصل ہوتی ہے جو کہ ڈیلیوری کے کمرے کی دیوار پر آویزاں ہے۔

یہ سولر سوٹ کیس ہے۔

Image caption ہری سنار نیپال کے پنڈاوکھانی گاؤں کے ہیلتھ سینٹر میں اپنے بچے کی پیدائش سے قبل آخری بار اپنی جانچ کرا رہی ہیں۔

چھت پر لگے سولر پینل سے منسلک یہ مشین ایک چھوٹا پاور سٹیشن ہے جو کہ بچے کو مانیٹر کرنے، روشنی، گرمی، بیٹری کو چارج کرنے کے لیے بجلی فراہم کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’برفانی سٹوپا‘ سے پانی کے مسئلے کا حل؟

کیا یہ ذرے پانی سے زہر نکال سکتے ہیں؟

کیا اس بچی کے پاس کچرے کے مسئلے کا حل ہے؟

نمونیا سے بچاؤ میں مددگار شیمپو کی بوتل

جان بچانے والا

مقامی دایہ ہیما شریش کے لیے یہ سوٹ کیس جان بچانے والا ثابت ہوا ہے۔

وہ اپنے ہیلتھ سینٹر میں بجلی کا مسلہ حل کرنے کے لیے شمسی توانائی سے چلنے والے نظام کو حاصل کرنے کے لیے پرعزم تھیں۔

ایک خیراتی ادارے ون ہارٹ ورلڈ وائڈ نے سنہ 2014 میں پنڈاوکھانی کو یہ سوٹ کیس دیا اور وہاں اسے نصب کیا گیا۔ اس کے بعد سے وہاں کسی حاملہ ماں یا بچے کی موت نہیں ہوئی ہے۔

ہیما کہتی ہیں کہ ’پہلے جب حاملہ مائيں اپنے بچے کی پیدائش کے لیے یہاں آتی تھیں تو وہ اندھیرے سے خوفزدہ رہتی تھیں۔‘

Image caption دایہ ہیما شریش سولر سوٹ کیس کا سوئچ آن کر رہی ہیں تاکہ جان بچانے والی طبی مشین کو بجلی فراہم کی جا سکے

انھوں نے بتایا کہ 'انھیں اپنے بچوں کی جان جانے کا خوف ہوتا تھا، لیکن اب ان کا ڈر ختم ہو چکا ہے اور اب انھیں اطمینان ہے کہ ان کے بچے اب شمسی توانائی سے حاصل شدہ بجلی کی روشنی میں پیدا ہوں گے۔‘

گرڈ کے بغیر حل

سولر سوٹ کیس کیلیفورنیا میں مقیم بچے کی پیدائش اور خواتین کے امراض کی ماہر اور 'وی کیئر سولر' کے لیے کام کرنے والی ڈاکٹر لورا سٹیچل کی سوچ کا نتیجہ ہے۔

جب وہ سنہ 2008 میں نائجیریا میں تھیں تو انھوں نے بجلی کی قابل یقین فراہمی کی عدم موجودگی میں رات میں بچوں کی پیدائش میں پریشانیاں اور یہاں تک کہ ان کی موت ہوتے ہوئے دیکھی تھی۔

ڈاکٹر سٹیچل نے اپنے شوہر اور سولر انجینیئر ہال ایرونسن کے ساتھ مل کر گرڈ کے بغیر سوٹ کیس کے سائز کا ایک شمسی توانائی کا نظام تیار کیا۔

ان کا یہ نمونہ نائجیریا میں اس قدر کامیاب رہا کہ انھوں نے یہ طے کیا کہ وہ اپنی اس ایجاد کو ان کلنکس اور ہیلتھ سینٹر یا طبی مراکز تک لے جائیں گی جہاں پیدائش کے دوران زچہ بچہ کی اموات کی زیادہ شرح ہے۔

زلزلے کا چیلنج

نیپال میں سنہ 2015 میں آنے والے زلزلے نے بہت سے ہسپتالوں کو تباہ کر دیا تھا اور زیادہ تر ہسپتال قابل اعتماد بجلی کی فراہمی کے بغیر رہ گئے تھے۔

ایسے میں مشکل اور دور رس علاقوں میں صرف 16 کلو وزنی سوٹ کیس کا پہنچانا بہت مناسب تھا۔

زلزلے کے فوراً بعد بچہ پیدا کرنے والے عارضی طبی کیمپس میں اس نے جان بچانے والے آلات کو بجلی فراہم کی۔

لیکن بغیر کسی قدرتی آفات کے بھی نیپال اپنے شہریوں کی ضرورت کے مطابق بجلی پیدا کرنے میں ابھی تک ناکام رہا ہے۔

دیہی علاقوں میں بہت سے ایسے طبی یا زچہ بچہ مراکز ہیں جہاں بجلی کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ سولر سولیوشنز پرائیوٹ لمیٹڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر راج کمار تھاپا نے بتایا کہ 'تقریباً ایک تہائی دیہی علاقوں میں قابل بھروسہ بجلی کی فراہمی نہیں ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ سورج، ہوا اور پانی سے چھوٹے پیمانے پر بجلی پیدا کرنے کی سرکاری سکیموں کو محدود کامیابی ملی ہے کیونکہ نجی کمپنیوں کے لیے دور دراز علاقوں میں ایسے نظام لگانا اور منافع کماتے ہوئے ان کی دیکھ بھال کرنا مشکل ہے۔

'میرے خيال میں جب تک کہ صارفین کو بجلی کے ان نظام کو چلانے کے لیے مناسب تربیت نہیں دی جاتی اس وقت تک خیراتی بنیاد پر حاصل ہونے والے شمسی توانائی کا نظام بڑا کردار ادا کرتا رہے گا۔'

پانڈوکھانی میں سنہ 2013 میں زچہ بچہ مرکز قائم کیا گیا ہے۔ اس سے قبل اس علاقے میں زیادہ تر بچوں کی پیدائش گھروں میں ہی ہوتی تھی۔ بعض اوقات ٹارچ کی روشنی میں اور بعض اوقات بالکل تاریکی میں۔

تصویر کے کاپی رائٹ We Care Solar
Image caption نیپال کے مشکل اور دور رس علاقوں میں صرف 16 کلو وزنی سوٹ کیس کا پہنچانا آسان ہے

تولد کے مشکل اور پیچیدہ معاملات میں درد زہ کے درمیان ماؤں کو کیچڑ اور چٹانو بھرے راستے سے نزدیک ترین ہسپتال کے لیے 65 کلو میٹر کا سفر طے کرکے باگلنگ شہر جانا ہوتا ہے۔

ہیما کہتی ہیں کہ ’بعض بچے ماں کے پیٹ میں غلط پوزیشن میں چلے جاتے ہیں اور ہمارے پاس ان کی مدد کے لیے آلات نہیں۔ مائیں بعض اوقات زیادہ خون بہہ جانے سے ہلاک ہو جاتی ہیں۔‘

اب ہیما اور ان کے عملے اپنا موبائل فون بھی اس کٹ سے چارج کر لیتے ہیں جو کہ دنیا کے اس دور دراز علاقے کے لیے ایک اور اہم چیز ہے۔

ہیما کہتی ہیں کبھی کبھی بجلی 15 دنوں کے لیے منقطع ہو جاتی ہے اور ایسے میں ہم دنیا سے پوری طرح کٹ جاتے ہیں کیونکہ ہم اپنے فون چارج نہیں کر سکتے۔

سنار ان 175 ماؤں میں شامل ہیں جنھوں نے اس زچہ بچہ مرکز پر کم از کم ایک بار اپنے بچے کو جنم دیا ہے۔

اب وہ اپنے دوسرے بچے کی پیدائش کا انتظار کر رہی ہیں اور وہ اپنی پہلی بیٹی کی پیدائش کے تجربے سے پریقین ہیں۔

'جب میں اپنے پہلے بچے کی پیدائش کے وقت درد زہ میں تھی اور اس ہیلتھ سینٹر پر آئی تو اسی وقت بجلی چلی گئی تھی۔ اس وقت طبی عملے نے کہا تھا کہ ان کے پاس سولر سوٹ کیس ہے اس لیے مجھے گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔'

بی بی سی انو ویٹرز جنوبی ایشیا میں مختلف مسائل اور چیلینجز کو حل کرنے کے انوکھے ذرائع کے بارے میں سیریز ہے۔

کیا آپ نے کبھی ہندی زبان کا لفظ 'جگاڑ' سنا ہے؟ اس کا مطلب ہے سستا حل۔

اگر آپ نے کوئی ایسی انوکھا حل تخلیق کیا ہو تو ہمیں yourpics@bbc.co.uk پر تصویر بھیجیں اور ہمارے ٹوئٹر ہینڈل @ BBCUrduBBCUrduBBCUrduBBCUrduBBCUrduBBCUrduBBCUrduBBCUrdu پر ہیش ٹیگ #BBCInnovators اور #Jugaad کے ساتھ ہمیں ٹویٹ کریں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں