آسٹریلیا کے طوطوں نے براڈ بینڈ کی قیمتی تاروں کو کاٹ ڈالا

طوطے
Image caption یہ طوطے اپنی چونچ کو تیز کرنے کے لیے مسلسل کچھ چباتے رہتے ہیں

آسٹریلیا کے ملٹی ملین ڈالر براڈ بینڈ نیٹ ورک کو بڑی چونچ والے طوطوں کی جانب سے حملوں کا سامنا ہے۔

دی نیشنل براڈ بینڈ نیٹ ورک (این بی این) کا کہنا ہے کہ طوطوں نے جن تاروں کو چبایا ہے ان کو ٹھیک کرنے پر اب تک دسویں ہزاروں ڈالر خرچ کیے ہیں۔

خیال رہے کہ آسٹریلین براڈ بینڈ پر اس کی سست رفتاری کی وجہ سے پہلے ہی تنقید کی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سمندری پرندے طویل سفر میں اپنی قوت شامہ استعمال کرتے ہیں

وہ پرندے جو تحفے دیتے ہیں

دنیا کے نایاب ترین پرندے کا نیا گھر

ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق یہ انٹرنیٹ کی رفتار کے لیے دنیا میں 50 ویں نمبر پر ہے۔

این بی بی کا تخمینہ ہے کہ اس خرابی کو دور کرنے کے لیے آنے والی لاگت تیزی سے بڑھ جائے گی کیونکہ تاروں کو زیادہ نقصان پہنچا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ NBN
Image caption کئی تاریں تو اب ٹھیک ہی نہیں ہو سکتیں

آسٹریلیا میں انٹرنیٹ کی رفتار کو بہتر بنانے کی کوشش میں جو فی الحال بہت سے ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں 11.1 میگا بیٹس فی سیکنڈ پر چلتا ہے ایک قومی ٹیلی مواصلات کے بنیادی ڈھانچے کا منصوبہ بنایا گیا ہے جو سنہ 2021 میں مکمل ہو گا۔

سائٹس پرجانے والے انجنیئروں کا کہنا ہے کہ تاروں کو بری طرح سے چبایا گیا ہے۔

اور یہ کام بڑی چونچ والے طوطوں کا ہے جو عام طور پر پھل، گری، لکڑی یا درختوں کے چھال کھاتے ہیں تاریں نہیں۔

این بی این کا کہنا ہے کہ انھیں پاور اور فائیبر تاریں بدلنی پڑیں اور ہر بار ان پر دسیویں ہزاروں ڈالر خرچ ہوئے۔ کمپنی کے مطابق وہ اب تک اس کام پر اسی ہزار آسٹریلین ڈالرز خرچ کر چکے ہیں۔

جانوروں کے رویے پر کام کرنے والی گیسیلا کپلان نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا طوطےاس طرح تاریں نہیں کاٹتے غالباً تاروں کی ساخت یا رنگ نے انہیں متوجہ کیا ہوگا۔

'وہ مسلسل اپنی چونچوں کو تیز کر رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں اپنے سامنے آنے والی کسی بھی چیز پر حملہ کریں گے اور اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیں گے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں