افغانستان میں وٹس ایپ پر پابندی، صحافیوں کی تنقید

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ویٹس ایپ اور دیگر ایسی ایپس افغانستان میں صارفین میں مقبول ہیں۔

افغان حکومت کی جانب سے وٹس ایپ اور دیگر ایسی ایپس پر پابندی لگانے کے فیصلے کو صحافیوں، میڈیا گروپوں اور دیگر صارفین نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اسے سینسرشپ کے مترادف قرار دیا ہے۔

ملک ایک بڑے اخبار کے ایڈیٹر نے اس اقدام کو ترقی سے منہ موڑنا قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس کے خلاف مزاحمت کی جائے گی۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ حکومت نے طالبان اور دیگر جنگجو گروہوں کی جانب سے ایسی ایپس کو استعمال کرنے کی اطلاعات کے بعد یہ قدم اٹھایا ہے۔

غلط بیانی اب نہیں، وٹس ایپ لوکیشن بتائے گا

وٹس ایپ پر پیغامات کا کھوج لگانا ممکن؟

لیکن بظاہر اس پابندی پر ابھی عمل درآمد شروع نہیں کروایا گیا ہے۔

رواں ہفتے افغان حکام نے موبائل سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کو ایک خط لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ سکیورٹی خدشات کی وجہ سے ایسی ایپس پر عارضی پابندی لگائی جائے۔

اس بارے میں افغان وزیرِ مواصلات شہزاد اریوبی نے فیس بک پر جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا تھا کہ لوگوں کی جانب سے شکایات کے بعد متعلقہ حکام سے کہا گیا ہے کہ اس پابندی کا مرحلہ وار اطلاق کیا جائے۔

افغان وزیر نے مزید لکھا ہے کہ ان کی حکومت آزادی رائے کو ہر حال میں یقینی بنائے گی کیونکہ یہ لوگوں کا بنیادی حق ہے۔

خیال رہے کہ وٹس ایپ، فیس بک میسنجر اور وائبر افغانستان میں عوام بڑی تعداد میں استعمال کرتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ طالبان بھی اپنے پیغامات پہنچانے کے لیے ان ایپس کا استعمال کرتے ہیں۔

اسی بارے میں