انسانوں کے قدیم ترین 'اجداد کی باقیات' دریافت

  • ہیلن برگز
  • بی بی سی نیوز
چوہے جیسے جانور

،تصویر کا ذریعہMARK WITTON

،تصویر کا کیپشن

یہ چوہے جیسے جانور اپنی غذا کی تلاش میں رات کو نکلتے تھے

سائنسدانوں نے جنوبی انگلینڈ میں انسان سمیت آج تک وجود رکھنے والے زیادہ تر ممالیہ کی قدیم ترین باقیات دریافت کی ہیں۔

ناپید ہو جانے والے چوہے کی ایک قسم کی مانند لگنے والی مخلوق کے دانتوں کی باقیات ڈورسیٹ ساحل کے پاس چٹانوں سے ملے ہیں۔

جن سائنسدانوں نے ان باقیات کی دریافت کی ہے ان کا خیال ہے کہ یہ باقیات بلاشبہ ممالیہ کے قدیم ترین باقیات ہیں جن سے انسان کا سلسلہ ملتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

اس کی تاریخ کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ یہ ساڑھے چودہ کروڑ سال پرانے ہیں۔

ان دانتوں کی جانچ کرنے والے پورٹس ماؤتھ یونیورسٹی کے سائنسداں ڈاکٹر سٹیو سوئٹ مین نے کہا 'ہمیں جوراسک ساحل سے چوہے کی قسم کے ایک جانور سے ملتی جلتی جو باقیات ملی ہیں وہ اب تک ہمارے اجداد کے قدیم ترین باقیات ہیں۔'

یہ چوہے جیسے فر والے جانور ممکنہ طور پر رات کے اندھیروں میں نکلتے تھے۔

،تصویر کا ذریعہSTEVE SWEETMAN

،تصویر کا کیپشن

پورٹس ماؤتھ یونیورسٹی کی ٹیم نے یہ دریافت کی ہے

یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ بِل میں رہتے تھے اور کیڑے مکوڑے ان کی غذا تھے جبکہ بڑے جانور پودے بھی کھاتے ہوں گے۔

ان کے دانت کھانے کو کاٹنے اور چبانے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔

ڈاکٹر سویٹ مین نے کہا 'ان میں ایسے آثار ہیں جو یہ بتاتے ہیں کہ وہ اپنے عہد میں جانوروں کی جس قسم سے تعلق رکھتے تھے ان کی عمریں لمبی تھیں‘۔

ان باقیات کو گرانٹ سمتھ نے اس وقت تلاش کیا تھا جب وہ بی ایس سی کے طالب علم تھے۔ وہ سوانیج کے قریب ڈرلسٹن بے میں اپنے ڈیسرٹیشن کے لیے چٹانوں کا جائزہ لے رہے تھے کہ انھیں ایسے دانت ملے جو اس عہد کی چٹانوں پر پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے تھے۔

اس تحقیق کی نگرانی کرنے والے پورٹس ماؤتھ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈیو مارٹل کہتے ہیں 'جوراسک ساحل ہمیشہ نئے نئے رازوں سے پردہ اٹھاتا رہتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ اس طرح کی دریافت ہمارے قریب ہی ہوتی رہے گی۔'