پیراڈائز پیپرز: کیا ایپل کروڑوں کا ٹیکس کھاتا رہا؟

Apple logo in New York تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

پیراڈائز پیپرز میں انکشاف ہوا ہے کہ دنیا کی سب سے زیادہ منافع بخش کمپنی کس طرح ایک مخفی ڈھانچے کی مدد سے کروڑوں کا ٹیکس بچاتی رہی ہے۔

ان انکشافات سے واضح ہوتا ہے کہ کیسے 2013 میں ایپل نے آئرلینڈ میں ٹیکس کے حوالے سے اپنے متنازع اقدامات کے بعد حکومتی کارروائی سے بچنے کے لیے بیرونِ ملک رقوم منتقل کیں۔ جس کے بعد اس نے اپنی اس فرم کو جرسی نامی جزیرے پر منتقل کر دیا جس میں ایپل کی بہت سی غیر ٹیکس شدہ آف شور رقم تھی جس کی موجودہ مالیت 252 ارب ڈالر ہے۔

تاہم ایپل کے مطابق اس کے اس نئے ڈھانچے کی وجہ سے ٹیکس میں کمی نہیں ہوئی۔

اس کے بقول وہ اب بھی دنیا میں سب سے بڑی ٹیکس دینے والی کمپنی ہے جو گذشتہ تین برس کے دوران کارپوریشن ٹیکس کی مد میں 35 ارب ڈالر ادا کر چکی ہے۔

پیراڈائز پیپرز کے بارے میں یہ بھی پڑھیے

پیراڈائز پیپرز لیکس: اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟

دولت کیسے چھپا کر رکھی جاتی ہے؟

امرا کی آف شور کمپنیوں میں چھپائی گئی دولت کا انکشاف

ایک اور بیان میں کمپنی نے زور دیا ہے کہ آئرلینڈ سے سرمایہ کاری یا آپریشنز کو منتقل نہیں کیا گیا۔

پیراڈائر پیپرز اقتصادی دستاویزات کے انکشاف کا نام ہے جس میں آف شور فنانس کی دنیا پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

سنہ 2014 تک ٹیکنالوجی کمپنی امریکہ اور جمہوریہ آئر لینڈ کے ٹیکس کے قوانین میں موجود ایک سقم کا فائدہ اٹھاتی رہی۔

اس طریقے سے ایپل براعظم امریکہ سے باہر ہونے والی اپنی تمام تر اشیا کی فروخت، جو اس وقت بھی اس کی آمدن کا 55 فیصد ہے، آئرلینڈ کے ضمنی اداروں کے ذریعے کر سکتی تھی، جہاں ٹیکس کے معاملے میں کوئی پابندی نہیں تھی اور بمشکل ہی کوئی ٹیکس ادا کرنا پڑتا تھا۔

بجائے اس کے کہ ایپل امریکہ میں اپنے منافع پر 35 فیصد یا آئر لینڈ میں ساڑھے 12 فیصد ٹیکس ادا کرتا اس ڈھانچے کی مدد سے اس نے امریکہ سے باہر ہونے والے منافع پر محض پانچ فیصد اور کچھ برسوں میں دو فیصد سے بھی کم ٹیکس دیا۔

یورپی کمیشن کے مطابق ایک سال تو ایپل کی آئرش کمپنیوں میں سے ایک کے ٹیکس کی شرح 000.5 فیصد رہی۔

ایپل سنہ 2013 میں اس وقت دباؤ کا شکار ہوئی جب امریکی سینیٹ میں اس کے سی ای او ٹِم کُک کو اپنے ٹیکس نظام کا دفاع کرنے کو کہا گیا۔

یہ جاننے کے بعد کہ امریکی ٹیکس کی ایک بڑی رقم غائب ہے اس وقت کے سینیٹر کارل لیون نے ان سے کہا تھا 'آپ نے یہ سنہری ہنس آئرلینڈ منتقل کر دیے۔ آپ نے انھیں ان تین کمپنیوں میں وہاں منتقل کیا جنہیں آئرلینڈ میں ٹیکس نہیں دینا پڑتا۔ یہ ایپل کے تاج کے گوہر تھے۔ میرے دوست یہ ٹھیک نہیں ہے۔'

اس پر ٹم کُک نے جواب دیا تھا 'ہم خود پر واجب الادا ہر ٹیکس ادا کرتے ہیں، ایک ایک ڈالر۔ ہم ٹیکس کی چالوں پر انحصار نہیں کرتے۔ ہم نے کیریبئین کے کسی جزیرے پر رقم جمع نہیں کی۔‘

ایپل کا سوالنامہ

2013 میں یورپی یونین کی جانب سے اس اعلان کے بعد کہ وہ ایپل اور آئرش حکومت کے درمیان معاہدے کی تحقیقات کرے گا۔ آئرلینڈ کی حکومت نے فیصلہ کیا کہ یہ فرمز ٹیکس کے حوالے سے آزاد نہیں رہیں گی۔

اپنے ٹیکس کی شرح کو کم رکھنے کے لیے ایپل کو ایک آف شور مالیاتی مرکز کی ضرورت تھی جو اس کی آئرش کمپنیوں کے لیے ٹیکس ریزیڈنسی کا کام دے سکے۔

مارچ 2014 میں ایپل کے قانونی مشیروں نے ایک آف شور کمپنی ایپلبی کو ایک سوال نامہ بھیجا۔ یہ وہی کمپنی ہے جو پیراڈائز پیپرز کے انکشافات کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔

اس میں پوچھا گیا تھا کہ مختلف آف شور کمپنیوں والے مقامات جیسے کہ برٹش ورجن جزائر، برمودا، کیمین جزائر، موریشیس، دی آئیل آف مین، جرسی اینڈ گرنزی ایپل کو کیا پیشکش کر سکتے ہیں۔

اس دستاویز میں پوچھے گئے کلیدی سوالوں میں یہ بھی شامل تھا کہ کیا اسے اس بات کی سرکاری یقین دہانی مل سکتی ہے کہ اسے ٹیکس میں چھوٹ ملے گی۔

انھوں نے یہ بھی پوچھا کہ اگر حکومت میں تبدیلی کا امکان ہے تو لوگوں تک کیا معلومات جائیں گی اور اس کے دائرہ اختیار سے نکلنا کتنا آسان ہے۔

منکشف ہونے والی دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایپل اس تمام عمل کو خفیہ رکھنا چاہتا تھا۔

ایک ای میل میں ایپلبی کے اعلیٰ اہلکاروں کو لکھا گیا 'جنھیں معلوم نہیں ان کی اطلاع کے لیے بتایا جاتا ہے کہ ایپل کمپنی تشہیر کے معاملے میں انتہائی حساس ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ اس سے متعلق کیے جانے والے کام کے بارے میں صرف ان سے بات کی جائے جن کا اس کے بارے میں جاننا ضروری ہے۔‘

ایپل نے جرسی نامی جزیرے کا انتخاب کیا جہاں اس کے اپنے ٹیکس قوانین ہیں اور غیر ملکی کمپنیوں کے لیے کارپوریٹ ٹیکس نہیں ہے۔

پیراڈائز پیپرز کے مطابق ایپل کی دو ذیلی آئرش کمپنیاں 'ایپل آپریشن انٹرنیشنل' جس کے پاس ایپل کی 252 ارب ڈالر کی غیرملکی رقم موجود ہے اور 'ایپل سیلز انٹرنیشنل' دونوں کا انتظام سنہ 2015 کے آغاز سے 2016 کے اوائل تک ایپلبی کے دفتر سے چلایا گیا اس کی وجہ سے ایپل نے ممکنہ طور پر دنیا بھر میں ٹیکس کی مد میں اربوں بچائے۔

ایپل کے سنہ 2017 کے اکاؤنٹس بتاتے ہیں کہ اس نے امریکہ سے باہر 44.7 ارب ڈالر کمائے جبکہ غیر ملکی حکومتوں کو صرف 1.65 ارب ڈالر ٹیکس کی مد میں ادا کیے جس کی شرح 3.7 فیصد بنتی ہے۔ یہ دنیا بھر میں کارپوریشن ٹیکس کی اوسط شرح کے چھٹے حصے سے بھی کم ہے۔

ایپل اور آئرلینڈ بمقابلہ یورپی یونین

اگست 2016 میں تین سال کی تحقیقات کے بعد یورپی کمیشن کو پتا چلا کہ آئرلینڈ نے ایپل کو ایک قانونی ٹیکس فائدہ دے رکھا تھا۔

یورپی کمیشن کا کہنا تھا کہ ایپل کو سنہ 2003 سے 2013 تک کا ٹیکس آئرلینڈ کو ادا کرنا ہوگا جو 13 ارب یورو بنتا ہے اور اس کے علاوہ سود بھی جو کہ ایک ارب یورو ہے۔

آئرلینڈ اور ایپل نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی ہے۔

ایپل کے ٹم کک نے یورپی کمیشن کے فیصلہ کو سراسر سیاسی کچرا قرار دیا جس کی ان کے بقول ’حقیقت میں کوئی توجیح ہے اور نہ ہی قانون میں۔' آئرلینڈ کا کہنا ہے کہ یورپی کمیشن اس کے خودمختار ٹیکس نظام میں مداخلت کر رہا ہے۔ اسے خدشہ ہے کہ ملٹی نیشنل کمپنیاں کہیں اور چلی جائیں گی۔

آئرلینڈ نے 13 ارب یورو لینے پر اتفاق کر لیا جو کہ اپیل پر فیصلہ آنے تک ایک اکاؤنٹ میں پڑے رہیں گے۔

اکتوبر سنہ 2017 میں یورپی یونین نے کہا کہ وہ آئرلینڈ کو عدالت میں لے جائے گی کیونکہ اس نے اب تک یہ رقم وصول نہیں کی جبکہ آئرلینڈ کا جواب تھا کہ یہ معاملہ پیچیدہ ہے اور اس کے لیے وقت درکار ہے۔

جی ڈی پی میں اضافہ

جب آئرلینڈ میں ٹیکس کے قوانین میں 'ڈبل آئرش' کے نام سے جانے والی چھوٹ کو بند کر دیا گیا تو آئرلینڈ میں نئے قوانین بھی متعارف کروائے گئے جن کا ایپل جیسی کمپنیاں فائدہ اٹھا سکتی تھیں۔

ایپل کی جرسی منتقل کی جانے والی کمپنیوں میں سے ایک اے ایس آئی کے پاس ایپل اِنک کے انتہائی اہم دانشورانہ حقوق تھے۔

اگر اے ایس آئی ایپل کی انٹلیکچوئل پراپرٹی کسی آئرش کمپنی کو واپس بیچتی تو وہ کمپنی اس بڑے خرچے کو مستقبل کے منافع سے برابر کر سکتی تھی اور چونکہ اے ایس آئی جرسی میں رجسٹر تھی تو اس فروخت پر ٹیکس بھی لاگو نہیں ہونا تھا۔

ایسا لگتا ہے کہ ایپل نے کچھ ایسا ہی کیا۔ کیونکہ سنہ 2015 میں آئر لینڈ کی جی ڈی پی میں 26 فیصد غیرمعمولی اضافہ ہوا جس کی وجہ میڈیا رپورٹس کے مطابق انٹلیکچوئل پراپرٹی کو آئرلینڈ منتقل کیا جانا تھا۔ اس سال آئرلینڈ میں انٹینجیبل (یعنی غیر مادی جیسے کہ جملہ حقوق) اثاثوں کی مالیت میں 250 ارب یوروز کا اضافہ ہوا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جرسی وہ جزیرہ تھا جو ایپل کے لیے نیا آف شور مالیاتی مرکز بنا

آئرلینڈ کے محکمۂ خزانہ نے اس بات سے انکار کیا کہ نئے ضوابط غیر ملکی کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے لائے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ آئرلینڈ وہ واحد ملک نہیں جہاں ایسے قوانین موجود ہیں اور حکام نے بین الاقوامی روایات کے مطابق قوانین بنائے ہیں۔

ایپل نے اپنی دو کمپنیوں کے جرسی منتقل کیے جانے سے متعلق سوالات کے جواب دینے سے انکار کر دیا۔

اس نے اس بارے میں بھی رائے دینے سے انکار کر دیا کہ کیا واقعی اس کی ایک کمپنی نے اپنے دانشوارانہ حقوق فروخت کر کے بڑے پیمانے پر ٹیکس بچایا ہے۔

ایپل کا کہنا ہے کہ 'جب سنہ 2015 میں آئرلینڈ نے اپنا ٹیکس قانون تبدیل کیا تو ہم نے حسب ہدایت اپنی آئرش ضمنی کمپنیوں کی ریزیڈینسی تبدیل کی اور ہم نے آئرلینڈ، یورپی کمیشن اور امریکہ کو مطلع کر دیا تھا۔'

'جو تبدییاں ہم نے کیں ان کی وجہ سے کسی ملک میں ہماری ٹیکس ادائیگیوں میں کوئی کمی نہیں آئی۔ بلکہ آئرلینڈ کے لیے ہماری ادائیگی میں اضافہ ہوا اور گذشتہ تین برس میں ہم نے وہاں ڈیڑھ ارب ڈالر ٹیکس کی مد میں ادا کیے۔'

پیراڈائز پیپرز افشا ہونے والی وہ دستاویزات ہیں جن میں سے بیشتر کا تعلق قانونی کمپنی ایپلبی سے ہے جن میں سیاست دانوں، مشہور شخصیات، کاروباری اداروں اور شخصیات کے کاروباری سودوں اور سرگرمیوں کی معلومات شامل ہیں۔

یہ 13.4 ملین دستاویزات جرمنی کے اخبار سویڈیوچے زیٹونگ نےحاصل کیں جس نے تحقیقاتی صحافیوں کے عالمی کنسورشیم سے انھیں شیئر کیا۔ بی بی سی کے لیے پینوراما سمیت 67 ممالک میں 100 دیگر میڈیا کے اداروں نے جن میں برطانوی اخبار گارڈیئن بھی شامل ہے ان دستاویزات پر عالمی تحقیق میں حصہ لیا۔ بی بی بی سی ان دستاویزات کے ماخذ سے لاعلم ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں