مصر: الاقصر کے مقبرے سے ملنے والی حنوط شدہ لاش کی نمائش

الاقصر تصویر کے کاپی رائٹ EPA

مصر میں ماہرین آثار قدیمہ نے قدیم نیل کے شہر اقصر کی دو مقبرے جن پر پہلے تحقیق نہیں کی گئی تھی ان میں سے ایک سے ملنے والی حنوط شدہ لاش اور دیگر اشیا کو نمائش کے لیے رکھا ہے۔

اس حنوط شدہ لاش کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ مصر کی ’شاہی سلطنت‘ کے ایک سینییر اہلکار کی ممی ہے جو 3500 سال پرانی ہے۔

مصر: شاہی سنار کے مقبرے سے نئی حنوط شدہ لاشیں دریافت

’سعودی عرب کے پراسرار دروازے اندازے سے کہیں زیادہ‘

اس مقبرے سے ملنے والی دیگر اشیا میں لکڑی کا بنا ہوا چہرے کا ماسک، رنگین پینٹنگز اور مجسمے شامل ہیں۔

یہ دونوں مقبرے اقصر کے علاقے ذراع ابو النجا میں واقع ہیں۔ یہ علاقہ عبادت گاہوں اور مقبروں کے لیے مشہور ہے۔

یہ علاقہ وادی شہنشاہوں کے قریب ہے جہاں پر فرعون مصر دفن ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وزارت نوادرات کے اہلکار مقبرے کے اندر دیوار پر بنی رنگین پینٹنگ دکھا رہے ہیں

مصر کی وزارتِ نوادرات کا کہنا ہے کہ یہ مقبرے 90 کی دہائی میں ایک جرمن ماہر آثار قدیمہ نے دریافت کیے تھے لیکن کچھ عرصے قبل تک ان کو بند ہی رکھا گیا تھا۔

مقبرے سے ملنے والی حنوط شدہ لاش کی شناخت فی الحال نہیں ہو سکی ہے لیکن مصر کی وزارتِ نوادرات کا کہنا ہے کہ دو امکانات ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ ایک امکان یہ ہے کہ یہ حنوط شدہ لاش جہوتی مس کی ہے جس کا نام ایک دیوار پر بھی لکھا ہوا۔ دوسرا امکان یہ ہے کہ یہ حنوط شدہ لاش ماتی نامی کاتب کی ہے جس کا نام تدفین کے ڈبے پر لکھا ہوا ہے۔

وزارت کا کہنا ہے کہ دوسرا مقبرہ حال ہی میں کھولا گیا ہے اور اس کی پوری طرح سے کھدائی نہیں کی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

ستمبر میں ماہرین آثارِ قدیمہ نے ایک شاہی سنار کا مقبرہ دریافت کیا تھا جہاں سے ایک خاتون اور دو نوجوان لڑکوں کی حنوط شدہ لاشیں ملی ہیں۔

یہ مقبرہ دارالحکومت قاہرہ کے جنوب میں 400 میل کے فاصلے پر دریائے نیل کے ساحلی شہر الاقصر میں واقع ہے۔ یہ 16ویں سے 11ویں صدی قبل مسیح کی شاہی سلطنت میں بنا تھا۔

آثار قدیمہ سے متعلق مصری وزارت کا کہنا ہے کہ مقبرے کے نچلے حصے سے حنوط شدہ لاشیں ملی ہیں جو مرکزی حصے کی جانب جاتا ہے۔

ماہرین آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ خاتون کی عمر 50 سال تھی جن کی موت ہڈیوں کی بیماری کی وجہ سے ہوئی ان کے دو بیٹوں کی عمریں 20 اور 30 سال بتائی گئی ہیں اور ان کی لاشیں اب بھی بہتر حالت میں محفوظ ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بتایا گیا ہے کہ دریافت ہونے والی حنوط شدہ لاشوں میں مردوں کی لاشیں اچھی حالت میں ہیں

حکام کا خیال ہے کہ امینن ہاٹ جو کہ سب سے طاقتور گاڈ امن کے دور میں ان کے سنار تھے کے مقبرے کی دریافت درا ابول ناگہ میں مزید دریافتوں کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ یہ وہ علاقہ ہے جو اس دور کے اعلیٰ حکام کے مقبروں اور قبرستانوں کے حوالے سے معروف ہے۔

آثار قدیمہ کے وزیر خالد الانانی کا کہنا ہے کہ 'ہم نے مقبرے کے اندر اور باہر تدفین سے متعلق بہت سے آلات دیکھے ہیں۔ ہم نے حنوط شدہ لاشوں، مخصوص تابوتوں، مردوں کے لیے کنگھیوں، ماسک، کچھ زیورات اور مجسموں کو دیکھا۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں