1972 کے بعد چاند پر کوئی خلاباز کیوں نہیں گیا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption تقریباً نصف صدی کے بعد چاند پر انسانی مشن بھیجنے کی بات ہو رہی ہے

20 جولائی 1969 کو نیل آرم سٹرانگ نے چاند پر قدم رکھ کر تاریخ رقم کی تھی جس کے بعد مزید پانچ مرتبہ امریکی مشن چاند پر بھیجے گئے۔

1972 میں چاند پر آخری مرتبہ کوئی خلا باز گیا تھا۔ اس کے بعد اب تک کوئی بھی انسان چاند پر نہیں گیا۔ اب تقریباً نصف صدی کے بعد امریکہ نے اعلان کیا ہے وہ چاند پر مشن بھیجے گا۔

امریکی صدر ٹرمپ نے پیر کو اس سے متعلق ایک حکم نامے پر دستخط کیے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ امریکہ یا کسی اور ملک نے اس دوران چاند پر کوئی ایسا مشن کیوں نہیں بھیجا جس میں خلا باز شامل ہوں؟

یہ بھی پڑھیے

امریکہ کی خلابازوں کو دوبارہ چاند پر بھیجنے کی تیاری

سائنس کے دفاع کے لیے دنیا بھر میں مظاہرے

انڈین وزرا نے سائنس کی تاریخ دوبارہ لکھ دی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نیل آرم سٹرانگ چاند پر قدم رکھنے والے پہلے شخص تھے

دراصل چاند پر کسی انسان یا مشن کو بھیجنا ایک مہنگا سودا ہے۔ لاس اینجلس کی کیلیفورنیا یونیورسٹی میں فلکیات کے پروفیسر مائیکل رِچ کہتے ہیں کہ چاند ہر مشن بھیجنے میں خرچ زیادہ اور اس کے فائدے بہت کم ہیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اس طرح کے مشن میں سائنسی دلچسپی سے زیادہ سیاسی وجوہات ہیں جو خلا پر قبضے کی دوڑ کے مقصد سے بھیجے جاتے ہیں۔

2004 میں امریکہ کے اس وقت کے صدر جارج بش نے ٹرمپ کی طرح ہی چاند پر مشن بھیجنے کا منصوبہ پیش کیا تھا جس کے لیے ایک لاکھ چار ہزار ملین ڈالر کا بجٹ تجویز کیا گیا تھا اور اتنے بڑے بجٹ کے سبب یہ منصوبہ ملتوی کر دیا گیا۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اس مرتبہ بھی ایسا ہی ہونے کا اندیشہ ہے کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پراجیکٹ سے متعلق حکم نامے پر دستخط کرنے سے پہلے سینیٹ سے مشورہ نہیں کیا۔

یہ بھی پڑھیے

جاپانی سائنس دان کے لیے طب کا نوبیل انعام

چین کی یونیورسٹی میں شراب کی سائنس کا کورس متعارف

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption صدر ٹرمپ نے چاند پر مشن بھیجنے کا اعلان کیا ہے

مائیکل رِچ کا کہنا ہے کہ چونکہ اس کے سائنسی فائدے کم ہیں اس لیے اتنے مہنگے پراجیکٹ کے لیے سینیٹ کی منظوری ملنا مشکل ہے۔

دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ ناسا ان برسوں میں کئی دوسرے پراجیکٹ پورے کرنے میں لگا ہوا ہے جن میں مشتری پر بھیجے گئے مشن بھی شامل ہیں۔

حالانکہ سائنسدانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ چاند پر مشن بھیجنا چاہیے اس سے انسان پر مزید نئے انکشافات ہو سکتے ہیں۔

سرکاری اور نجی طور پر پہلے بھی کوششیں کی جا چکی ہیں جن میں نہ صرف چاند پر جانے کا اعلان کیا گیا بلکہ چاند پر انسانی بستی بنانے جیسے بڑے منصوبے بھی پیش کیے گئے۔

اسی بارے میں