مصر: چار بچوں کی تین ہزار سال پرانی لاشیں برآمد

مصر تصویر کے کاپی رائٹ Gebel al-Silsila Project
Image caption ان میں سے چار بچوں کو تین ہزار سال قبل دفنایا گیا ہے

مصری حکام کا کہنا ہے کہ مصر کے شہر اسوان میں کھدائی کے دوران چار بچوں کی قبریں دریافت ہوئی ہیں جن کو تین ہزار سال قبل دفن کیا گیا تھا۔

مصر کے وزیر برائے نوادرات ڈاکٹر ایمن عشومی کا کہنا ہے کہ چار میں سے ایک قبر کو سویڈن اور مصر کی مشترکہ ٹیم نے دریافت کیا تھا اور اس بچے کے جسم پر اب بھی کپڑا موجود ہے جو اس کو حنوط کرنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔

مصر: نئے مقبروں کی دریافت، حنوط شدہ لاش کی نمائش

وائکنگز کے کفن پر ’اللہ‘ اور ’علی‘ کے الفاظ کیوں؟

یہ چاروں لاشیں مصر کی 18 ویں صدی کی ہیں۔

بچوں کی تدفین کی جگہ ماہرین آثار قدیمہ نے جبل السلسلہ میں دریافت کی ہیں۔ ایک مقبرہ پتھر کو کاٹ کر بنایا گیا ہے جس میں دو یا تین سال کے بچے کی لاش ہے۔

اس قبر میں سے حنوط کے لیے استعمال کیے جانے والے کپڑے کے علاوہ لکڑی کے کفن کے آثار بھی ملے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Gebel al-Silsila Project
Image caption ایک قبرستان بھی دریافت کیا ہے جو چار ہزار سال پرانا ہے

دوسرے بچے کی تدفین کی جگہ سے تعویذ اور مٹی کے برتن ملے ہیں۔ یہ قبر چھ سے نو سالہ بچے کی ہے جس کی لاش لکڑی کے ڈبے میں ہے۔

تیسری اور چوتھی قبر میں پانچ سے آٹھ سالہ بچہ ہے۔

سویڈن سے تعلق رکھنے والی ماہرین آثار قدیمہ کی ٹیم کی سربراہ ڈاکٹر ماریہ نلسن کا کہنا ہے کہ اس نئی دریافت سے تدفین کی رسوم کے علاوہ لوگوں کی سماجی، معاشی اور مذہبی زندگی کے بارے میں بھی معلومات حاصل ہوں گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Egypt Antiquities Ministry
Image caption کھدائی کیے گئے زیادہ تر مقبروں میں سے نوادرات چوری کیے جا چکے ہیں

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ جبل السلسلہ میں اب تک 69 مقبرے دریافت کیے جا چکے ہیں اور ان میں آدھے سے کم کی کھدائی کی گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ کھدائی کیے گئے زیادہ تر مقبروں میں سے نوادرات چوری کیے جا چکے ہیں۔

دوسری جانب مصری اور آسٹرین ٹیموں نے قبرستان کا ایک حصہ دریافت کیا ہے جبکہ سوئس ٹیم نے ایک خاتون کا مجسمہ دریافت کیا ہے۔

مصری اور آسٹرین ٹیم نے کوم امبو کے قصبے میں پہاڑی پر ایک قبرستان دریافت کیا ہے جو چار ہزار سال پرانا ہے۔

اس ٹیم کی سربراہ ڈاکٹر آئرین فوسٹر کا کہنا ہے کہ اس قبرستان کا جو حصہ دریافت کیا گیا ہے وہاں سے مٹی سے بنے مقبرے ملے ہیں۔ ان مقبروں میں مٹی کے برتن اور تدفین کی دیگر اشیا برآمد ہوئی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Egypt Antiquities Ministry
Image caption ایک خاتون کا نامکمل مجسمہ دریافت ہوا ہے

انھوں نے کہا یہ مقبرہ قبرستان کے نیچے دریافت ہوا ہے اور اس کی چھت پر ساحورع بادشاہ کی شبیہہ ہے۔

تیسری دریافت اسوان کے علاقے سے ہوئی جہاں ایک خاتون کا نامکمل مجسمہ دریافت ہوا ہے۔

اس مجسمے کو چونے کو کاٹ کر بنایا گیا ہےآ اس مجسمے کا سر، دونوں پیر اور دائیں ہاتھ نہیں ہے۔ اس مجسمے کی اونچائی 14 انچ ہے۔

نوادارت کے مقامی سربراہ عبدالمونیم کا کہنا ہے کہ جو لباس اس مجسمے نے زیب تن کیا ہوا ہے وہ یونانی دیوی ارتمیس کے لباس سے مماثلت رکھتا ہے۔

اسی بارے میں