امریکہ نے شمالی کوریا کو عالمی سائبر حملے کا ذمہ دار قرار دیا ہے

تھامس بوسرٹ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا دنیا بھر میں ہزاروں کمپیوٹروں پر'وانا کرائی' نامی سائبر حملہ کا ’براہِ راست ذمہ دار‘ ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک ساتھی تھامس بوسرٹ نے وال سٹریٹ جنرل اخبار میں یہ الزام عائد کیا ہے۔

واضح رہے کہ ایسا پہلی بار ہے جب امریکہ نے سرکاری طور پر شمالی کوریا پر یہ الزام عائد کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

برطانیہ: 'سائبر حملہ شمالی کوریا سے کیا گیا'

99 ممالک غیرمعمولی سائبر حملے کی زد میں

امریکی صدر کو ہوم لینڈ سکیورٹی پر مشورہ دینے والے تھامس بوسرٹ کا کہنا ہے کہ یہ الزام ’ثبوت پر مبنی‘ ہے۔ ان کے مطابق برطانیہ اور کمپیوٹر کمپنی مائیکروسافٹ نے بھی شمالی کوریا کی حکومت پر اس سائبر حملے کا الزام عائد کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

خیال رہے کہ رواں برس مئی میں دنیا بھر میں ہزاروں کمپیوٹروں پر'وانا کرائی' نامی رینسم ویئر کے ذریعے حملہ کیا گیا تھا جس میں کمپیوٹر پر موجود فائلوں تک رسائی روک دی جاتی تھی اور صارفین سے ان تک رسائی کے لیے رقم مانگی جاتی تھی۔

یورپی یونین کی ایک باڈی یوروپول نے اس حملے کو ’غیر معمولی‘ قرار دیا تھا۔

تھامس بوسرٹ کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کو ہر صورت اس سائبر حملے کا ’ذمہ دار قرار دینا چاہیے۔

انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ شمالی کوریا کی جانب سے ایسے سائبر حملوں کو روکنے کی ’زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی حکمتِ عملی‘ کا استعمال جاری رکھے گا۔

انھوں نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ امریکی حکومت اپنے تحقیق کے نتائج کے جواب میں کیا کارروائی کرے گی؟

ادھر برطانیہ کا بھی کہنا ہے کہ ’سائبر حملہ شمالی کوریا کی جانب سے کیا گیا تھا۔‘

تھامس بوسرٹ نے کہا ’شمالی کوریا نے ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے بدترین طور پر بدترین عمل کیا ہے اور وانا کرائی بلا امتیاز بے دھڑک سائبر حملہ تھا۔ ‘

امید کی جا رہی ہے کہ وائٹ ہاؤس پیانگ یانگ کو اس سائبر حملے کا ذمہ دار قرار دینے کے حوالے سے سرکاری بیان منگل کو جاری کرے گا۔

خیال رہے کہ رواں برس مئی میں دنیا بھر میں ہزاروں کمپیوٹروں پر'وانا کرائی' نامی رینسم ویئر کے ذریعے حملہ کیا گیا تھا جس میں کمپیوٹر پر موجود فائلوں تک رسائی روک دی جاتی تھی اور صارفین سے ان تک رسائی کے لیے رقم مانگی جاتی تھی۔

اس سائبر حملے میں دنیا کے 150 ممالک کے 30,000سے زیادہ کمپیوٹروں کو نشانہ بنایا گیا اور اس سے کروڑوں ڈالرز کا نقصان ہوا تھا۔

اسی بارے میں