انڈیا: ’شادی سے انکار‘ پر لڑکی کو زندہ جلا دیا

تصویر کے کاپی رائٹ SAJJAD HUSSAIN
Image caption حکومتی اعداد و شمار کے مطابق انڈیا میں ہر برس سینکڑوں خواتین پر تیزاب سے حملہ کیا جاتا ہے۔

انڈیا کی جنوبی ریاست حیدرآباد میں پولیس نے اس شخص کو گرفتار کر لیا ہے جس نے 'تکرار' کے بعد ایک لڑکی پر تیل چھڑک کر آگ لگا دی جس سے وہ جل کر ہلاک ہوگئی۔

پولیس نے بی بی سی کو بتایا کہ پچیس سالہ سندھیا رانی ریپسشنسٹ تھیں اور دفتر سے گھر واپس جا رہی تھیں کہ شام چھ بجے کے قریب ان پر حملہ کیا گیا۔ جلتی لڑکی کو دیکھ کر لوگ اس کی مدد کو بھاگے اور اسے ہسپتال پہنچانے کا انتظام کیا لیکن سندھیا راستے ہی میں دم توڑ گئیں۔

مزید پڑھیے

خواتین کے جنسی اظہار پر خاموشی ٹوٹ رہی ہے؟

’انڈیا میں ریپ کے جھوٹے دعوے ایک مسئلہ‘

ٹیچر نے ریپ کر کے اسقاط حمل بھی کروا دیا

اطلاعات کے مطابق لڑکی کو زندہ جلانے والا اٹھائیس سالہ ملزم ماضی میں سندھیا کے دفتر میں کام کیا کرتا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ جب ملزم لڑکی کے پاس پہنچا تو دونوں میں کسی بات پر تکرار ہوگئی جس کے بعد ملزم نے مٹی کے تیل کا کنستر لڑکی پر انڈھیل دیا اور پھر آگ لگا دی۔

پولیس کے مطابق اس طرح کے الزام ہیں کہ ملزم سندھیا رانی کو دو سال سے شادی کے لیے مجبور کر رہا تھا لیکن لڑکی نے یہ رشتہ ماننے سے بارہا انکار کیا۔

البتہ پولیس کہتی ہے کہ یہ ابھی واضح نہیں کہ ملزم کے خلاف اس معاملے میں کوئی شکایت درج کرائی گئی تھی یا نہیں۔

سنہ دو ہزار بارہ میں دہلی میں چلتی بس میں ایک لڑکی کے گینگ ریپ اور قتل کے بعد انڈیا میں ایسے حملوں سے نمٹنے کے لیے قوانین سخت کیے گئے ہیں۔ اس واقعے کے بعد سے خواتین کے خلاف تشدد کے معاملوں کی جانچ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

لیکن انڈیا کے طول و عرض سے اب بھی خواتین اور بچوں کے خلاف وحشیانہ حملوں کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق انڈیا میں ہر برس سینکڑوں خواتین پر تیزاب سے حملہ کیا جاتا ہے۔ ان واقعات کے خلاف آگاہی پیدا کرنے والے کہتے ہیں کہ خواتین اکثر شکاری مردوں یا حاسد پارٹنروں کا نشانہ بنتی ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں