’جیسے پاؤں پر شہد کی مکھیاں کاٹ رہی ہوں‘

نیند نہ آنے کی پریشانی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نیند نہ آنے کی پریشانی

میری روز کئی برس سے سکون کی نیند نہیں سو پائی ہیں۔ انھیں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ان کی ٹانگوں پر کیڑے رینگ رہے ہوں۔

وہ اپنے تکلیف دہ تجربے کے بارے میں بتاتی ہیں کہ ‘ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے شہد کی مکھیاں آپ کے پاؤں کی جلد میں گھس گئی ہوں۔ یہ بہت ہی تکلیف دہ ہوتا ہے۔’

80 برس کی تاریخ دان میری روز کو ’ریسٹلیس لیگز سنڈروم‘ ہے جس میں پیروں میں بے چینی، خارش اور جلن محسوس ہو سکتی ہے۔ اسی وجہ سے وہ رات بھر پریشان رہتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

صرف چند راتوں کی خراب نیند صحت خراب کر سکتی ہے

’ادھوری نیند دفتر میں لڑائی اور خراب رویے کا سبب‘

نیند کی کمی سے زیادہ بھوک کیوں لگتی ہے

انھوں نے بتایا کہ ‘اس مرض کی وجہ سے رات بھر پاؤں میں اتنی خارش محسوس ہوتی ہے کہ اٹھ کر چلنے پر مجبور ہو جاتی ہوں۔ لیٹتے ہی اتنی خارش ہوتی ہے کہ سونا مشکل ہو جاتا ہے۔‘

حالات اتنے برے تھے کہ وہ رات کو سونا ہی نہیں چاہتی تھیں۔ میری روز یہ نہیں جانتیں کہ انھیں یہ تکلیف کب شروع ہوئی۔ کئی برس تک انھیں ریسٹلیس لیگز سنڈروم کے ہونے کا پتا ہی نہیں چلا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ریسٹلیس لیگز سنڈروم ہر 20 میں سے ایک شخص میں پایا جاتا ہے

انھوں نے بتایا کہ ‘لوگ مجھے بتاتے تھے کہ میرے پٹھے کھنچ گئے ہیں۔ وہ طرح طرح کے مشورے بھی دیتے تھے۔ میں نے وہ سب نسخے آزمائے لیکن کسی بھی چیز سے آرام نہیں آیا۔‘

میری نے اپنے پیروں پر تیل بھی لگایا تاکہ جلن کا احساس ختم ہو جائے لیکن بات نہیں بنی۔

اب لندن کے گائز اینڈ سینٹ تھومس ہسپتال میں نیورالوجسٹ ڈاکٹر گائے لیشنائزر ان کا علاج کر رہے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ریسٹلیس لیگز سنڈروم ہر 20 میں سے ایک شخص میں پایا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

حاملہ خواتین کو کروٹ سونے کا مشورہ کیوں؟

سرخ مرچ طویل العمری کا سبب

نیند کی کمی سے دماغ کیسے متاثر ہوتا ہے؟

میری روز نے بتایا کہ اس تکلیف میں انھوں نے کئی راتیں بغیر سوئے گزاری ہیں۔ بےچینی کا یہ احساس اکثر موروثی ہوتا ہے۔ لیکن اس کی دوسری وجوہات بھی ہو سکتی ہیں جیسے آئرن کی کمی یا حمل جس کا علاج آسان ہے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
کیا اچھی نیند کے بعد آپ حسین دکھائی دیتے ہیں؟

کچھ لوگوں میں کیفین یا الکوحل سے پرہیز یا ورزش کرنے سے یہ مرض ٹھیک ہو جاتا ہے۔ جبکہ کچھ معاملے ایسے ہوتے ہیں کہ دوا کھانا ضروری ہوتا ہے۔

میری کے علاج کے لیے ڈاکٹر انھیں کئی دوائیں دے رہے ہیں۔ میری کو اس علاج سے فائدہ بھی ہو رہا ہے۔

وہ بتاتی ہیں کہ ‘مجھے پیروں کی بے چینی سے اب راحت مل گئی ہے۔ کبھی کبھی مجھ پر بہت شدید اٹیک ہوتا ہے۔ ایسا تب ہوتا ہے جب میں دوا کھانا بھول جاتی ہوں۔‘

اسی بارے میں