کسینی زُحل پر مر مِٹا، تیز ترین کار آخری مراحل میں

دماغ کا سکین تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

2017 کو بھی سائنس اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں بعض اہم دریافتوں اور واقعات کی نسبت سے یاد رکھا جائے گا۔

برطانیہ کی کارڈِف یونیورسٹی میں قائم برین اِمیجنگ سینٹر میں محققین نے پہلی بار انسانی دماغ کا نہایت تفصیلی سکین یا کمپیوٹر تصویر حاصل کی ہے۔

بقول محقق پروفیسر ڈیرِک: 'یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے ایک عام دوربین کی جگہ آپ کو کائنات کی گہرائیوں میں جھانکنے کے قابل بنانے والی ہبل ٹیلی سکوپ مل جائے۔ یعنی اب ہم دماغ کے اندر بہت دور تک دیکھ سکتے ہیں۔ اب ہم دماغ کی ساخت اور افعال کے درمیان اب تک نامعلوم تعلق کا پتا چلا سکیں گے۔'

سائنسدانوں کو توقع ہے کہ یہ پیشرفت مستقبل میں کئی دماغی اور اعصابی امراض کے علاج میں مدد گار ہوگی۔

صحت ہی کے شعبے میں دوسری قابلِ ذکر پیشرفت 'جین ایڈیٹنگ' ہے۔

آڈیو سن

حمل کے بالکل ابتدا میں بچہ جس لوتھڑے کی شکل میں ہوتا ہے اسے ایمبریو یا جنین کہتے ہیں۔ جنین کے ہر خلیے کے مرکز میں جینوم کی صورت میں قدرت نے بچے کا ناک نقشہ پہلے سے رکھا ہوا ہے۔ اگر یہاں موجود جینز میں کوئی موروثی نَقص ہو تو جین ایڈیٹنگ اُسے دور کر سکتی ہے۔

لندن کے فرانسِس کرِک انسٹی ٹیوٹ کی ڈاکٹر کیتھی نیاکِن کا کہنا ہے کہ اس کی مدد سے حمل کے ابتدائی سات دنوں میں ایسی معلومات مل سکتی ہیں جس سے موروثی مرض کی جڑ کا پتہ چل سکے گا۔

سائنسدانوں نے اس کا عملی مظاہرہ ایک ایمبریو میں دل کی بیماری کا سبب بننے والے ناقص جین کی جگہ صحت مند جین کا پیوند لگا کر کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption دنیا میں اس وقت صرف تین شمالی سفید گینڈے باقی ہیں

جنگلی حیات کی دنیا سے ایک بڑی خبر یہ رہی کہ انگلینڈ میں قائم لونگ لیٹ سفاری پارک میں سائنسدانوں نے ایی بوُن نامی سات برس کے ایک جنوبی سفید گینڈا کے بیضے محفوظ کیے تاکہ انھیں معدومیت کے خطرے سے دوچار شمالی سفید گینڈے کے سپرم یا نطفے سے لیبارٹری میں بارآور بنا کر اس نسل کو مٹنے سے بچایا جا سکے۔ دنیا میں اس وقت صرف تین شمالی سفید گینڈے باقی ہیں مگر وہ اپنے بچے خود پیدا نہیں کر سکتے۔

جنگلی حیات کے تحقیقی مرکز، لئِبنِز انسٹی ٹیوٹ کے ڈاکٹر رابرٹ ہرمیس کہتے ہیں کہ اس طرح معدوم ہوتی ایک نوع کو بچایا جا سکے گا۔

بات انواع کی بقا کی ہو اور زندگی کو آب و ہوا میں تبدیلی سے لاحق خطرے کا ذکر نہ ہو۔ ممکن نہیں! کیونکہ سائنسدانوں کے مطابق حیوانات اور نباتات کو سب سے زیادہ خطرہ انسان کی پیدا کردہ آفت یعنی کلائمیٹ چینج یا زمین کی آب و ہوا میں ظہور پذیز تبدیلیوں سے ہے۔ کہیں خشک سالی اور جنگل کی آگ ہے تو کہیں شدید طوفان۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption یورپی ملک گرین لینڈ کی سفید برف کالی پڑ رہی ہے: سائنسدان

سائسندانوں کے مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ یورپی ملک گرین لینڈ کی سفید برف کالی پڑ رہی ہے۔ اس کی سطح جتنی کالی ہوگی یہ سورج سے اتنی ہی زیادہ حرارت جذب کرے گی اور اتنی ہی تیزی سے پگھلے گی۔ محققین معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ برف کے اس طرح پگھنے سے سطح سمندر میں کتنا اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔ اور اس کے ماحول پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔

آب و ہوا میں تبدیلی کا موضوع اب محض سائنسی یا ماحولی نہیں رہا بلکہ سیاسی بند چکا ہے۔

دو سال قبل آب و ہوا میں تبدیلی سے متعلق پیرس میں ایک عالمی معاہدہ ہوا تھا تاکہ زمین پر بڑھتے ہوئے درجۂ حرات کو روکا جا سکے۔ مگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس برس عہدۂ صدارت سنبھالنے کے بعد یہ کہہ کر اس معاہدے سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا کہ مذکورہ معاہد آب و ہوا میں تبدیلی سے کم اور امریکا کہ مقابلے میں دوسرے ملکوں کے مالی فائدے سے زیادہ متعلق ہے۔

صدر ٹرمپ کے اس اعلان کے اثرات ابھی زیربحث ہیں تاہم معاہدے کے کئی دوسرے فریق پُرعزم ہیں کہ امریکہ کے بغیر بھی یہ معاہدہ قائم رہے گا۔

ٹیکنالوجی کی دنیا سے پہلے یہ خبر کہ روانڈا میں ایک ایسے ڈرون کی آزمائشی پرواز کی گئی ہے جو دور دراز علاقوں میں ادویات اور دوسرا دوسرا طبی سامان پہنچانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ یہ مصنوعی سیارہ کی مدد سے اپنا راستہ تلاش کرکے درکار اشیاء منزل مقصود تک لے جاتا ہے۔

برطانیہ میں سائنسدانوں نے کاربن کی باریک تہہ یا گریفین سے ایک ایسی چھلنی تیار کی ہے جو کم قیمت پر سمندری پانی سے نمک کو الگ کرکے پانی کو پینے کے قابل بنا سکتی ہے۔

امریکہ میں سائنسدانوں نے ایک ایسا محلول بنایا ہے جس سے بوتلوں کی اندرونی سطح پر ایک چکنی تہہ جم جائے گی اور یوں صارفین بوتل کے اندر سے چٹنی کا آخری قطرہ بھی بآسانی نِچوڑ سکیں گے۔

انسان کی تیز سے تیز تر کی جستجو ابھی ختم نہیں ہوئی۔ اس برس پہلی بار لندن میں تھی بلڈہاؤنڈ سُپر سانک کار کی نمائش ہوئی۔ صرف آٹھ سیکنڈ کے اندر اس کے سپیڈو میٹر میں رفتار کا کانٹا دو سو میل فی گھنٹے کے نشان کو چھونے لگا۔

پچاسی سالہ انجیئر اور بلڈہاؤنڈ سُپر سانک کار کے ڈیزائنر رآن ایئر جو پہلے بھی رفتار کے دو ریکارڈ قائم کر چکے ہیں، کہتے ہیں کہ 'میں دراصل آواز کی رفتار کی حد کو عبور کرکے دنیا کو زوردار دھمکوں کی گونج سنوانا چاہتا ہوں۔'

جیٹ اینجن اور راکٹ سے لیس اس کار کی مدد سے انجیئرز دو ہزار انیس میں آواز کی رفتار سے بھی زیادہ یعنی ایک ہزار میل فی گھنٹے کی رفتار کا نیا ریکارڈ قائم کریں گے۔

آواز کی رفتار تقریباً سات سو سڑسٹھ میل فی گھنٹہ ہے۔ اور جب کوئی متحرک شے اس حدِرفتار کو عبور کرتی ہے تو فضا میں زوردار دھماکے کی گونج سنائی دیتی ہے۔

اور اب چلتے زمین کی حدوں سے باہر۔ خلا کی وسعتوں میں۔

اس برس عِلْمِ فَلَکِیات کا ایک نیا باب کھُلا۔ امریکا میں قائم سرنگ نما ایک تجربہ گاہ میں کائینات میں پائی جانے والی کشِشِ ثِقل کی لہروں یا گریویٹیشنل ویوز کو پہلی بار محسوس کیا گیا۔

سائنسدانوں کے مطابق یہ لہریں ایک سو تیس مِلین نوری سال کی دوری پر نیوٹرون سٹارز کہلانے والے دو بڑے ستاروں کے قریب آنے اور بالآخر آپس میں ٹکرانے سے پیدا ہوئی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption امریکہ میں قائم سرنگ نما ایک تجربہ گاہ میں کائینات میں پائی جانے والی کشِشِ ثِقل کی لہروں یا گریویٹیشنل ویوز کو پہلی بار محسوس کیا گیا۔

گریویٹیشنل ویوز کا پتہ پہلی بار دو ہزار سولہ میں چلا تھا۔ تاہم یہ نئی تحقیق ان کی موجودگی کی تصدیق کرتی ہے۔

عظیم سیارہ زُحل کے راز جاننے کے لیے ماہرین فلکیات نے کسینی نامی ایک خلائی مشن بیس برس پہلے روانہ کیا تھا۔کسینی زحل کے مدار میں چکر کاٹ کر گرانقدر معلومات، تصاویر کی شکل میں زمین پر بھیجتا رہا۔ آخر اس میں موجود ایندھن ختم ہوگیا۔

سائنسدانوں نے اس کا رُخ سیارہ زحل کی طرف موڑ کر اس کے آخری سفر کو یادگار بنانے کا فیصلہ کیا۔ آخرکار پندرہ ستمبر کو وہ اُسی سیارہ سے ٹکرا کر اُس پر قربان ہوگیا جس کا طواف وہ پچھلے تیرہ برس سے کر رہا تھا۔ اس کے ذرات، زحل کی فِضاؤں میں تحلیل ہو کر اس کا حصہ بن گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کسینی نامی خلائی مشن پندرہ ستمبر کو سیارہ زحل سے ٹکرا کر اُس پر قربان ہو گیا

کسینی رخصت ہوا مگر اس کی بھیجی ہوئی معلومات کے تجزیے کا طویل سفر ابھی جاری ہے۔

دو ہزار سترہ میں سورج کے قریب ترین اور سب سے چھوٹا سیارہ، عُطارِد بھی ماہرینِ فلکیات کی توجہ کا مرکز رہا۔ انھوں نے بےپی کولمبو نامی اُس خلائی جہاز پر کام جاری رکھا جو اگلے سال عُطارِد کی جانب اپنے سفر کا آغاز کرے گا اور سات برس بعد سنہ دو ہزار پچیس میں اس سیارے کے مدار میں پہنچ کر ہمیں سورج کے سب سے قریب سیارے کی نامعلوم فِضاؤں کی خبر دے گا۔

محوِ حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی!