کیا مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی ماہر امراض قلب سے بہتر ہے؟

Image caption سر جان بیل کے مطابق آرٹیفیشل انٹیلجنس این ایچ ایس کو بچا سکتی ہے

آکسفورڈ کے ایک ہسپتال کے محققین نے مصنوعی ذہانت کی ایسی ٹیکنالوجی تیار کی ہے جس میں سکینز کے ذریعے امراض قلب اور پھیپھڑوں کے کینسر کی درست تشخیص کی جا سکے گی۔

مصنوعی ذہانت کی اس ٹیکنالوجی سے برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس کو کروڑوں پاؤنڈز کی بچت ہو گی اور اس سے بیماری کی بروقت تشخیص کی جا سکے گی۔ یہ ٹیکنالوجی رواں برس جون سے این ایچ کے ہسپتالوں میں مفت مہیّا کی جائے گی۔

برطانوی حکومت کے صحت کے اعلیٰ اہلکار سر جان بیل کے بقول اے ای یعنی آرٹیفیشل انٹیلجنس ٹیکنالوجی این ایچ ایس پر انتہائی اچھے اثرات مرتب کرے گی۔

یہ بھی پڑھیے

چھاتی کا کینسر علاج کے 15 سال بعد بھی لوٹ سکتا ہے

نطفوں کی کمی سے ’انسان کی معدومیت کا خطرہ‘

’اینٹی بایوٹکس ممکنہ طور پر سرطان کا باعث‘

ان کا کہنا تھا کہ 'این ایچ ایس میں پتھالوجی سروسز پر 2.2 ارب ڈالر خرچ ہوتے ہیں اور اس ٹیکنالوجی سے یہ خرچہ 50 فیصد کم کیا جا سکتا ہے۔ مصنوعی ذہانت این ایچ ایس کو بچا سکتی ہے۔'

Image caption یہ ٹیکنالوجی سکین دیکھنے کے بعد اپنی رائے کا اظہار کر سکے گی، اگر رائے پازیٹو ہو تو اس کا مطلب یہ کہ مریض کو دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ ہے

ماہر امراض قلب سکین میں دل کی دھڑکن کی ٹائمنگ سے امراض قلب کا پتہ چلا سکتے ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ پانچ میں سے ایک کیس میں بہترین ڈاکٹرز بھی یا مرض کی تشخیص نہیں کر پاتے اور یا غلط تشخیص کر جاتے ہیں۔ ایسے میں مریضوں کو صحت مند سمجھ کر گھر بھجوا دیا جاتا ہے لیکن انہیں گھر میں ہارٹ اٹیک ہو جاتا ہے اسی طرح بعض صحت مند لوگوں کو مریض سمجھ کر غیر ضروری سرجری سے گزار دیا جاتا ہے۔

لیکن اب اس مسئلے کا حل آکسفورڈ کے جان ریڈکلف ہسپتال میں تیار کی گئی مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کے ذریعے نکال لیا گیا ہے جس کے ذریعے سکین میں وہ تفصیلات معلوم کی جا سکیں گی جو کہ ڈاکٹرز اکثر چوک جاتی تھیں۔

Image caption مصنوعی انٹیلجنس کے زریعے امراض قلب اور پھیپھڑوں کے کینسر کی بروقت اور درست تشخیص کی جا سکے گی

یہ ٹیکنالوجی سکین دیکھنے کے بعد اپنی رائے کا اظہار کر سکے گی، اگر رائے پازیٹو ہو تو اس کا مطلب یہ کہ مریض کو دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ ہے۔

اس ٹیکنالوجی کو امراض قلب کے چھ کلینکس میں ٹیسٹ کیا گیا جس کے نتائج رواں برس شائع کیے جائیں گے لیکن اس ٹیکنالوجی کے خالق پروفیسر پال لیسن کے مطابق اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس ٹیکنالوجی نے ماہر امراض قلب سے بہتر پرفارم کیا ہے۔

برطانیہ میں ہر سال 60 ہزار ہارٹ سکینز کیے جاتے ہیں جن میں سے 12 ہزار میں مرض کی غلط تشخیص کی جاتی ہے لیکن پروفیسر لیسن کا کہنا ہے کہ اب ماہر امراض قلب اس ٹیکنالوجی کی مدد سے بہتر پرفارم کر سکیں گے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں