ریو وائرس تھیراپی کے ذریعے کینسر کا علاج ممکن

تصویر کے کاپی رائٹ SPL
Image caption لیڈز یونیورسٹی اور چار دیگر تحقیقی ادارے اب ریو وائرس تھیراپی کے ذریعے مزید مریضوں کا علاج کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

برطانوی سائنسدان پر امید ہیں کہ انھوں نے دماغ کے ایک ایسے کینسر کا علاج ڈھونڈ لیا ہے جو اب تک لاعلاج تھا۔

یہ علاج ایک وائرس کے ذریعے ممکن ہو سکتا ہے جس کے جسم میں جانے کے بعد ہلکے فلو جیسی علامات سامنے آتی ہیں۔ برطانیہ میں اب تک دس افراد پر یہ طریقۂ علاج آزمایا جا چکا ہے۔

ابتدائی تحقیق کے مطابق یہ وائرس جسم کے دفاعی نظام کو متحرک کر کے اسے دماغ میں موجود ٹیومر کی طرف متوجہ کر دیتا ہے۔ جس کے نتیجے میں یہ دفاعی نظام ٹیومر پر حملہ کر دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

آنتوں کے بیکٹریا کینسر کے علاج میں مددگار

چھاتی کا کینسر علاج کے 15 سال بعد بھی لوٹ سکتا ہے

تجربات میں کینسر کے پھیلاؤ میں 75 فیصد کمی

لیڈز یونیورسٹی اور چار دیگر تحقیقی ادارے اب اِس تھیراپی کے ذریعے مزید مریضوں کا علاج کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ اِس طریقۂ علاج کو ریو وائرس تھیراپی کا نام دیا گیا ہے۔

سائنسدانوں کو امید ہے کہ یہ تھیراپی پہلے سے موجود علاج کے طریقوں جیسے کیموتھیراپی اور ریڈیو تھیراپی میں مدد کرے گی۔ تحقیق کاروں کے مطابق اِس سے مریضوں کی زندگی میں برسوں کا اضافہ کیا جا سکے گا۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
دماغ کی سب سے تفصیلی تصاویر

ابھی ریو وائرس ٹریٹمنٹ کے اثرات کے بارے میں صرف اندازے ہی لگائے جا سکتے ہیں لیکن تحقیق کاروں کو امید ہے کہ اِس سلسلے میں مزید تحقیق سے یہ معلوم ہو سکے گا۔

کینسر ریسرچ یوکے سے منسلک دماغ کے ٹیومر کے ماہر ڈاکٹر کولن واٹس کا کہنا ہے کہ یہ ہسپتالوں میں باقاعدہ طور پر شروع ہونے کی جانب پہلا قدم ہے۔

انھوں نے کہا سرجنوں اور آنکولوجسٹس کے ساتھ کام کرنے والے تحقیق کاروں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ یہ وائرس ٹیومر میں گھس کر وہی کرتا ہے جو اسے کرنا چاہیے یعنی جسم کے دفاعی نظام کو کینسر کی جانب متوجہ کرنا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ریو وائرس کینسر زدہ خلیوں کو نشانہ بناتا ہے اور زیادہ تر صحت مند خلیوں کو نقصان نہیں پہنچاتا۔

یہ کیسے کام کرتا ہے

اِس وائرس کو براہ راست دماغ میں داخل کرنے کے بجائے انسان کے خون میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ اِس طرح یہ مریضوں کے لیے زیادہ آسان اور کم خطرے کا باعث ہو سکتا ہے۔

ریو وائرس کینسر زدہ خلیوں کو نشانہ بناتا ہے اور زیادہ تر صحت مند خلیوں کو نقصان نہیں پہنچاتا۔

اب تک سائنسدانوں کا خیال تھا کہ دماغ کی حفاظتی جھلی کی وجہ سے یہ مشکل ہے کہ ریو وائرس خون کے ذریعے دماغ تک پہنچ سکے۔ لیکن اب تک کے تجربات کے دوران ٹیومر کے نمونوں کے معائنے میں یہ سامنے آیا کہ اس وائرس نے دماغ میں پہنچ کر جسم کے دفاعی نظام کو متحرک کیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں