تھائی لینڈ میں پرائیویٹ پارٹس کو گورا کرنے کا رجحان

عضو تناسل تصویر کے کاپی رائٹ LeluxHospital
Image caption ایک کلینک کی جانب سے عضو تناسل کو گورا کرنے کے عمل کی ویڈیو پوسٹ ہوتے ہی مختصر وقت میں وائرل ہو گئی

تھائی لینڈ میں عضو تناسل کو گورا کروانے کی حالیہ دوڑ کے بعد سوال اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا ملک کی بیوٹی انڈسٹری نے تمام حدیں پار کر لی ہیں؟

بہت سے ایشیائی ممالک میں سکن وائٹننگ یا جلد گوری کرنے کا عمل نیا نہیں ہے اور ان زیادہ تر ممالک میں سفید یا گوری رنگت کو اعلی جب کہ سیاہ یا کالی رنگت کو کم تر سمجھا جاتا ہے۔

ایک کلینک کی جانب سے عضو تناسل کو گورا کرنے کے عمل کی ویڈیو پوسٹ ہوتے ہی مختصر وقت میں وائرل ہو گئی لیکن تھائی لینڈ کی وزرات صحت نے اس عمل سے متعلق حفظان صحت کی وارننگ جاری کی ہے۔

بی بی سی کی تھائی سروس نے ایک 30 سالہ ایسے شخص سے بھی بات کی جنھوں نے دو ماہ پہلے عضو تناسل کو گورا کرنے کا عمل کروایا تھا اور اس عمل کے بعد ان کو فرق بھی پڑا تھا۔

فیس بک پر ایک کلینک کی جانب سے لیزر کے ذریعے کروائے جانے والے اس عمل کی ویڈیو صرف دو دنوں میں 19 ہزار مرتبہ شئیر کی جا چکی ہے۔ کلینک نے آفٹر اور بیفور ٹریٹنمٹ یعنی عضو تناسل کو گورا کرنے سے پہلے اور بعد کی تصاویر بھی شئیر کی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ LeluxHospital
Image caption ایک شخص نے لکھا کہ ’عضو تناسل کو بطور ٹارچ استعمال کیا جا سکتا ہے، اسے چمکنے دیں۔‘

عضو تناسل کو گورا کرنے کی خدمات پیش کرنے والے ہسپتال کے مارکیٹنگ مینیجر پوپول تنساکل نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے چار ماہ قبل ویجائنا یعنی خواتین کی شرم گاہ کو گورا کرنے کی سروس بھی متعارف کروائی تھی۔

Image caption رنگ گورا کرنے کے پراڈکٹس کے اشتہارات نئے نہیں ہیں لیکن ان اشتہارات میں نسل پرستی کے جھلکنے کی شکایات اب عام ہوتی جا رہی ہیں

ان کا کہنا تھا کہ ان کے صارفین نے اس کے بعد عضو تناسل کو گورا کرنے کا پوچھنا شروع کیا تو ایک ماہ قبل ہم نے وہ سروس بھی شروع کروا دی ہے۔ یہ عمل پانچ سیشنز پر مشتمل ہے اور اس کی فیس ساڑھے چھ سو ڈالر ہے۔

سیکس دل بند ہونے کا باعث نہیں بنتا

’برطانیہ میں لڑکے سیکس فحش مواد سے سیکھ رہے ہیں‘

’خواتین کی سیکس میں عدم دلچسپی مردوں سے دگنی‘

اس کلینک میں ہر مہینے 20 سے 30 لوگ شرمگاہ اور عضو تناسل کو گورا کروانے کے لیے آتے ہیں اور بعض تو برما، کمبوڈیا اور ہانگ کانگ سے آتے ہیں۔

مسٹرپوپول کے مطابق گورا کرنے کا یہ عمل 'گے' یا ہم جنس پرست اور خواجہ سراؤں میں خاصا مقبول ہے کیونکہ یہ لوگ اپنے پرائیوٹ پارٹس کا انتہائی خیال رکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کے جسم کے یہ حصے خوبصورت دکھائی دیں۔

تھائی لینڈ کی وزارت صحت سے کے ڈاکٹر تھونگ چائی کے بیان میں لوگوں کو عضو تناسل گورا کرنے کے عمل سے دور رہنے کی تنبیہ جاری کی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عضو تناسل میں درد اور سوزش کے علاوہ بدنما نشانات اور سیکس کی صلاحیت متاثر ہونا اس عمل کے سائیڈ افیکٹس ہیں۔

ڈاکٹر تھونگ چائی کے مطابق 'عضو تناسل کو گورا کرنا غیر ضروری ہے، یہ پیسوں کا ضیاع ہے اور اس سے انسان کو فائدے کی بجائے مہلک سائیڈ افیکٹس ہو سکتے ہیں۔

رنگ گورا کرنے کی مصنوعات کے اشتہارات نئے نہیں ہیں لیکن ان اشتہارات میں نسل پرستی کے جھلکنے کی شکایات اب عام ہوتی جا رہی ہیں۔ تھائی لینڈ کی ایک کاسمیٹکس کمپنی کو شکایات کے بعد اپنا اشتہار ختم کرنا پڑا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں