انڈیا: جنگلی ہاتھیوں کے ساتھ سیلفی کا شوق خطرناک

ہاتھی
Image caption ریاستی حکومت کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ہاتھیوں کے حملے میں ابھی تک 60 افراد ہلاک ہو چکےہیں

انڈیا کی مشرقی ریاست اڑیسہ میں جنگلی ہاتھیوں کے ساتھ سیلفی کا نیا شوق پریشانی کا سبب ہے اور کئی لوگوں کی جان چلی گئی ہے۔

محکمہ جنگلات کے حکام نے مقامی صحافی سبرت کمار پاتی کو بتایا کہ ان واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

دسمبر کے مہینے میں ایک مقامی جے کرشنا نایک بازار سے اپنے گاؤں جا رہے تھے کہ انھوں نے گاؤں میں ایک ہاتھی دیکھا جس کے گرد ایک بھیڑ جمع تھی۔ لوگ اس کی تصویریں لے رہے تھے اور جانور کو پریشان کر رہے تھے۔

وہ بھی اس بھیڑ میں شامل ہو گئے اور ہاتھی کے ساتھ سیلفی لینے کی کوشش کی۔ لیکن اسی دوران غصے میں بپھرے ہوئے جانور نے انھیں سونڈ میں لپیٹ کر ہلاک کر دیا۔

یہ بھی پڑھیے

٭ ’والد کو ہاتھیوں نے کچل کر مار ڈالا‘

٭ انڈیا میں ہاتھیوں کی گنتی جاری

جے کرشنا کے بیٹے نے بی بی سی کو بتایا کہ 'بہت سے لوگوں نے یہ منظر دیکھا لیکن کوئی انھیں نہیں بچا سکا۔' اس نے کہا کہ دوسرے لوگ تو بھاگنے میں کامیاب ہو گئے لیکن ان کے والد نہ بچ سکے۔

Image caption ہر معاملے میں موت نہیں ہوتی لیکن زخمی ہونے کی شرح بہت زیادہ ہے

اسی طرح کا ایک واقعہ ستمبر میں رونما ہوا تھا۔ ایک سکیورٹی گارڈ اشوک بھارتی سیلفی لینے کے لیے جانور کے اتنے قریب گیا کہ وہ اس کی زد میں آ گیا اور ہلاک ہو گیا۔

کسی دوسرے شخص نے ویڈیو میں ان کی ہلاکت کے منظر کو قید کیا ہے کہ وہ اس سے قریب سے قریب ہوتے جا رہے تھے کہ اچانک ہاتھی نے ان پر حملہ کردیا۔

یہ بھی پڑھیے

٭ انسان اور جانور کوئلے کی کان کنی سے متاثر

٭ لمبے دانتوں والے طویل العمر ہاتھی ’ستاؤ ٹو‘ کی ہلاکت

٭ انڈیا کی معمر ترین ہتھنی ’اندرا‘ چل بسی

اشوک بھارتی نے بچنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوسکے اور کچلے گئے۔ انھیں جلدی سے ہسپتال لے جایا گیا لیکن راستے میں ہی ان کی موت ہو گئی۔ ان کے بچنے کی کوشش کا ویڈیو وائرل ہوگیا تھا۔

ان کے علاوہ دوسرے بہت سیلفی لینے والوں کی جان تو بچ گئی ہے لیکن وہ شدید طور پر زخمی ہو گئے ہیں۔

Image caption حالیہ دنوں ہاتھی کے حملے سے بچنے کی بہت کوششیں سامنے آئی ہیں

وائلڈ لائف کے ماہر بسواجیت مکھرجی نے بی بی سی کوبتایا: 'اس علاقے میں ہاتھیوں کے حملے کے بہت سے واقعات رونما ہوتے ہیں لیکن کم کی رپورٹ درج ہوتی ہے۔'

اڑیسہ کی ریاستی حکومت نے سیلفی کے اس رجحان کو سنجیدگی سے نوٹس میں لیا ہے۔ وائلڈ لائف کے ریاستی سربراہ سندیپ ترپاٹھی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ جنگلی ہاتھیوں کے زیادہ قریب جانے کے خطرات کے بارے میں 'بیداری پیدا کرنے کے لیے حساس علاقوں میں سپیشل مہم اور نقلی ڈرل منعقد کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔'

ریاستی حکومت کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ہاتھیوں کے حملے میں ابھی تک 60 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ تاہم ان میں سے سیلفی کے چکر میں کتنے ہلاک ہوئے ہیں یہ واضح نہیں ہے۔ بہر حال حکام اس بات پر متفکر ہیں کہ اگر جانور کے ساتھ سیلفی کا کریز بڑھتا رہا تو یہ معاملہ سنگین ہو جائے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں