نئی دور بین سے ستاروں کی پیدائش کے بارے میں اہم انکشافات

Rho Oph A تصویر کے کاپی رائٹ NASA/F. Pereira Santos
Image caption اس خصوصی دور بین کی مدد سے سائنسدان ڈسٹ کے ان بادلوں میں مقناطیسی پولرائزیشن کا نقشہ بنا سکے ہیں۔

امریکی خلائی ایجنسی ناسا کی ایک خصوصی دور بین نے گیس اور ذرات سے ستاروں کی پیدائش کے بارے میں اہم معلومات فراہم کیں ہیں۔

سوفیا اوپزرویٹری نامی اس خصوصی دور بین کو ایک جمبو طیارے پر نصب کر کے بھیجا گیا ہے اور اس سے ملنے والی معلومات سے ستاروں کی پیدائش میں مقناطیسی فیلڈ کے کردار کے بارے میں پتا چلا ہے۔

سائنسدانوں نے سوفیا پر نصب ایک خصوصی آلے کی مدد سے زمین کے ایک قریبی ستاروں کی نرسری روح اوفیوچی اے ( Rho Ophiuchi A) کا جائزہ لیا۔

یہ تازہ ترین معلومات حال ہی میں ہونے والی امریکین ایسٹرونامیکل سوسائٹی کے 231ویں اجلاس میں زیرِ بحث آئیں۔

نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے فابیو سانٹوس جو کہ اس تحقیق کے شریک مصنف ہیں، کہتے ہیں کہ ’ستاروں اور سیاروں کی پیدائش کے عمل کو سمجھنا جدید فلکیات کا اہم ترین چیلنج ہے۔‘

مزید پڑھیے

زمین سے سیارہ زہرہ اور مشتری کا نظارہ

سال 2017 میں فلکیات کی بہترین تصاویر

زمین کے حجم کا ایک ٹھنڈا سیارہ دریافت

’ہمیں یہ معلوم ہے کہ ستارے اور سیارے گیس اور ڈسٹ کے ذرات کے انتہائی بڑے بادلوں سے بنتے ہیں جو کہ ہماری گیلکسی ملکی وے میں موجود ہیں۔‘

بنیادی خیال یہ ہی ہے کہ یہ بادل اپنی ہی کششِ ثقل سے سمٹ جاتے ہیں۔ جیسے جیسے ان کی کثافت میں اضافہ ہوتا ہے یہ گیس کے کلمپس بن جاتے ہیں اور پھر اور زیادہ کثافت والے ’کور‘ نامی سٹکچرز پیدا ہو جاتے ہیں۔

گیس اور ڈسٹ کے انھیں کورز میں ستارے پیدا ہوتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Bill Saxton, NRAO/AUI/NSF
Image caption سیاروں کی پیدائش کے عمل کی السٹریشن

ڈاکٹر سانٹوس کا کہنا ہے کہ یہ انتہائی پیچیدہ عمل ہے۔

ماہرینِ فلکیات نے دور بین سوفیا کے ایچ اے ڈبیو سی پلیس آلے کو روح اوفیوچی اے کو جانچنے کے لیے تیار کیا۔ روح اوفیوچی اے کئی سینکڑوں ستاروں کو جنم دے رہا ہے جن میں کئی ہمارے سورج کی طرح ہیں جن کے نظامِ شمسی کی طرح کے اپنے سیارتی نظام ہیں۔

ایچ اے ڈبیو سی پلیس الیکٹرومیگنیٹک سپیکٹرم کے انتہائی انفارا ریڈ حصے کو جانچ سکتا ہے۔ سوفیا سے ملنے والی معلومات سے سائنسدان یہ معلوم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں کہ ڈسٹ کے ان بادلوں میں ذرات مقناطیسی فیلڈ کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔

اس کے علاوہ انھیں یہ بھی معلوم ہوا کہ ڈسٹ کے ذرات کی مقناطیسی فیلڈ کے ساتھ ہم آہنگی کی حد سے اس بات کا تعین بھی ہوتا ہے کہ سیارہ پیدا کرنے والے بادل کی کثافت کیا ہوگی۔

ڈاکٹر سانٹوس نے وضاحت کی ’انٹرسٹیلر ڈسٹ کو صحیح سے الائن ہونے کے لیے ریڈیئیشن کی ضرورت ہوتی ہے۔ توقع کی جاتی ہے کہ بادل کے باہر والے حصے کے ذرات پر زیادہ ریڈیئیشن پہنچتی ہے اس لیے وہ مقناطیسی فیلڈز کے ساتھ بہتر الائن ہوتے ہیں۔‘

’جیسے جیسے آپ بادل کے اندرونی حصے میں جاتے ہیں، ذرات کو ریڈیئیشن کم ملتی ہے اور وہ الائن کم ہی ہوتے ہیں۔‘

’کیونکہ اس بادل کا وزن ہوتا ہے اسی لیے اس کی کششِ ثقل بھی ہوتی ہے۔ اسی لیے آپ سوچتے ہوں گے کہ یہ بس سمٹ جاتا ہے اور ستارے بن جاتے ہیں۔ مگر اس میں دیگر چیزیں ملوث ہوتی ہیں اور ان میں سے ایک مقناطیسی فیلڈ ہے۔‘

اسی بارے میں