ذہنی دباؤ سے موٹاپا کیوں ہوتا ہے؟

سٹریس میں ہم زیادہ کیلوری والے کھانے بھی بغیر سوچے سمجھے کھا لیتے ہیں تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ہم سبھی یہ بات جانتے ہیں کہ وزن کیسے بڑھتا ہے۔ جب ہم جتنی کیلوریز ہمیں چاہیے اس سے زیادہ کیلوری کھانے لگتے ہیں تو وزن بڑھنے لگتا ہے۔ لیکن ہم ضرورت سے زیادہ کھانا کیوں شروع کر دیتے ہیں؟

کیوں کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اچانک چاکلیٹ یا کیک جیسی بہت زیادہ کیلوری والی چیزیں کھانے کی شدید طلب محسوس ہوتی ہے حالانکہ ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ تھوڑی دیر بعد ہمیں پچھتاوا ہوگا؟

صرف لالچ یا کچھ اور وجہ؟

خود پر قابو رکھنا ضروری ہوتا ہے لیکن سائنسدانوں کو اس بات کے شواہد ملے ہیں کہ ذہنی دباؤ موٹاپے کی ایک اہم وجہ ہوتا ہے۔

زیادہ ذہنی دباؤ کی حالت میں ہماری نیند خراب ہوتی ہے اور خون میں شوگر کی مقدار بھی متاثر ہوتی ہے۔ اس وجہ سے ہمیں زیادہ بھوک لگتی ہے اور کچھ کھا کر ہی آرام ملتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

برطانیہ موٹاپے کا شکار ملک

کیا خیالی پلاؤ پکانا صحت کے لیے مفید ہے؟

’صحت مند موٹے‘ بھی خطرے کی زد میں

اس سے ذہنی دباؤ اور بھی بڑھنے لگتا ہے۔ نیند اور بھی خراب ہوتی ہے اور خون میں شوگر لیویل اور بھی بری طرح متاثر ہونے لگتا ہے۔ جسم میں چربی بڑھنے لگتی ہے اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

کیسے کیا گیا ٹیسٹ

تحقیقی گروپ ’ٹرسٹ می آئی ایم اے ڈاکٹر‘ کی ٹیم کے ڈاکٹر گائلز ییو نے برطانیہ کی لیڈز یونیورسٹی کے سائنسدانوں کی مدد سے ایک پورا دن بے حد تناؤ بھرے ماحول میں ذہنی دباؤ میں گزارا۔

اس کے بعد ان کا ’ماسٹرٹ سٹریس ٹیسٹ‘ کیا گیا۔

انھیں ایک کمپیوٹر کے سامنے بٹھا کر جلدی جلدی حساب کرنے کو کہا گیا۔ وہ حساب میں غلطیاں کرتے گئے۔

اس کے بعد ان سے کہا گیا کہ وہ اپنا ہاتھ بٹھنڈے پانی میں ڈال کر رکھیں۔ سائنسدانوں کی ٹیم نے اس ٹیسٹ کے پہلے اور بعد میں گائلز کے خون میں شوگر کا لیویل معلوم کیا۔

یہ بھی پڑھیے

نطفوں کی کمی سے ’انسان کی معدومیت کا خطرہ‘

صحت مند اور طفیلی جڑواں کے جسم الگ، آپریشن کامیاب

کیا فحش فلمیں صحت کے لیے مضر ہیں

ہمارے خون میں شوگر کی سطح تب بڑھتی ہے جب ہم کچھ کھاتے ہیں۔ ایک صحت مند شخص میں شوگر کی سطح جلد ہی نارمل ہو جاتی ہے۔ لیکن سائنسدانوں نے دیکھا کہ ذہنی دباؤ والے دنوں میں گائلز کے خون میں شوگر کی سطح کو معیار پر لوٹنے میں تین گھنٹے لگ گئے۔ یعنی عام دن کے مقابلے میں چھ گنا زیادہ وقت لگا۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ جب آپ ذہنی دباؤ میں ہوتے ہیں تو آپ کا جسم سمجھتا ہے کہ اس پر باہر سے کوئی حملہ ہوا ہے۔ اس لیے جسم عضلات کو طاقت دینے کے لیے خون میں زیادہ گلوکوز خارج کرنے لگتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سٹریس سے نیند بھی متاثر ہوتی ہے

لیکن جب اس طاقت کی ضرورت نہیں ہوتی ہے تو لبلبہ انسولن چھوڑتا ہے جس کی مدد سے خون میں گلوکوز کی سطح معیار پر واپس آ جاتی ہے۔

انسولن کا لیویل بڑھنے اور خون میں اس طرح شوگر کا لیویل گرنے کی وجہ سے ہمیں دوبارہ بھوک لگ جاتی ہے۔ اسی لیے جب ہم ذہنی دباؤ میں ہوتے ہیں تو ہمیں بار بار زیادہ میٹھا کھانے کا دل کرتا ہے۔

اسی طرح جب ہماری نیند پوری نہیں ہوتی ہے تب بھی ہمیں بار بار بھوک لگتی ہے۔

برطانیہ کے کنگز کالج میں کی جانے والی ایک ریسرچ کے مطابق نیند پوری نہ ہونے پر ہم ایک دن میں 385 کیلوری زیادہ کھاتے ہیں۔

بچے بھی اگر ٹھیک سے نہیں سو پاتے تو بار بار کچھ کھانے کے لیے مانگتے ہیں۔

ایسے رکھیے ذہنی دباؤ کو دور

ایک خاص انداز میں سانس لینے سے آپ ذہنی دباؤ کو خود سے دور رکھ سکتے ہیں۔ اگر آپ اس طریقے کو اپنی روزانہ زندگی کا حصہ بنا لیں تو زیادہ فائدے ہو سکتے ہیں۔

اسے کھڑے ہو کر، بیٹھ کر یا لیٹ کر بھی کیا جا سکتا ہے۔

  • پانچ تک گنتی کرتے ہوئے ناک سے گہری سانس کھینچیے
  • اب پانچ تک گنتی کرتے ہوئے آہستہ آہستہ منہ سے سانس چھوڑیے
  • اسے پانچ منٹ تک بار بار دوہرائیے
اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
ایک تحقیق کے مطابق حقیقی خوشی اچھی دماغی صحت سے ملتی ہے

ایک اور ضروری بات یہ کہ اپنی نیند کو کسی بھی حالت میں متاثر نہ ہونے دیجیے۔ حالانکہ یہ کہنا آسان ہے کرنا نہیں۔

کچھ اور ایسے طریقے ہیں جن سے آپ ذہنی دباؤ کو خود سے دور رکھ سکتے ہیں جیسے ورزش، باغبانی یا یوگا۔

لیکن آپ کے لیے کیا مدد گار ثابت ہوگا یہ تو آپ کو کر کے ہی دیکھنا ہوگا۔

اسی بارے میں